باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

 سیدنا علی اصغر کو دفن کرنے کے بعد سیدنا عالی مقام اب خود ہی میدان کار زار کا رخ کر نے والے ہیں اس لئے کہ اب آپ کو روکنے والا کوئی بھی نہیں تمام ساتھی ایک ایک کر کے آپ پر فدا ہو چکے ہیں آپ نے ایک نظر میدان کار زار کو دیکھا پُشت پر ویراں اور جلے ہوئے خیمے ہیں اہلِ بیت کے ایک دو بڑے خیمے ہیں جن میں چیخوں اور آہوں کی صورت میں زندگی کے کچھ آثار نظر آتے ہیں دائیں بائیں اور سامنے جہاں تک بھی نظر جاتی ہے یزیدی فوجوں کے پہرے کے پہرے نظر آتے ہیں سورج کی تپش میں مزید پر اضافہ ہوچکا آپ نے خیال فرمایا خیمے کے اندر جا کر اہلِ بیت کو آخری وصیت کر کے دربار خداوندی میں حاضر ہو جاؤں ابھی آپ نے یہ خیال فرما کر خیموں بوں کی طرف رخ کیا ہی تھا کہ سامنے ریت کا ایک گول سا اٹھتا نظر آیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بگولے کے اندر ایک ناقہ سوار نظر آیا آپ کو بھی شاید اسی کا انتظار تھا اس لئے کہ کربلائی خونی تصویر میں یہ خاکہ خالی تھا ناقہ سوار آپ کے سامنے پہنچ چکا تھا اونٹ بھی پسینہ پسینہ تھا اور ناقہ سوار بھی پسینہ میں شربور تھا اُس نے اُونٹ کو بٹھایا اور آپ کے قدموں کو بوسہ دیا ان کار زار کو دیکھ کر مضطرب اور پریشان ہو گیا وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں آپ کو دیکھے جا رہا تھا آپ نے خاموشی کو توڑتے ہوۓ فرمایا دوست ہم نہیں جانتے کہ تم کون ہو اور کس مقصد کے تحت یہاں ٹہرے ہو اگر کوئی کام ہے تو بتاؤ ورنہ خدا حافظ مجھے دشمن بار بار آواز دے رہے ہیں اور پھر خیموں کی طرف بڑھنے لگے تو وہ شخص پکار اُٹھا یا امام میری بات سن لیجیے آپ رک گئے تو اس نے کہا میں آپ کی بیٹی کا قاصد ہوں جب آپ کوفہ کے لئے روانہ ہوئے تھے تو میں وہاں پر موجود تھا حج کرنے کے بعد میں مدینہ منورہ میں زیارت رسول کے لئے حاضر ہوا تو وہاں میں نے ایک پردہ نشین بچی کو دیکھا جو روضہ رسول کے ساتھ ہی روضہ بتول کے باہر بلند آواز سے رو رہی تھی لوگ جا کر ان کے رونے کی وجہ پوچھتے اور پھر اس کا سوال پوچھ کر واپس آ جاتے ایک دن میرے دل میں خیال آیا کے اس بچی سے پوچھوں کہ اسے کیا ضرورت ہے شاید میں ہی اس کے کسی کام آ سکوں اور پھر جب میں نے پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے آپ اس طرح روتی کیوں ہیں اور آپ کون ہیں معصومہ نے میری بات سنی تو اور زیادہ رونے لگی اور فرمایا یا عم میں صغریٰ بنتِ حسین ہوں یہ میرے ابا جان مکہ معظمہ سے کوفہ تشریف لے گئے تھے یہ مجھے چچا سیدنا عبدالہ بن جعفر نے بتایا تھا کوفہ گئے ہوئے بھی انہیں کئی روز ہو چکے ہیں ان کا خیریت نامہ نہیں آیا بیمار تھی اس لئے وہ مجھے چھوڑ کر مکہ معظمہ میں چلے گئے تھے اور وہیں سے کوفہ چلے گئے ہیں مجھے ان سے پچھڑے ہوۓ چھ ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے چچا جان! میرا دل ڈوب ڈوب جاتا ہے میرے ابا جان نے فرمایا تھا ہم تمہیں جلد ہی اپنے پاس بلوا لیں گے میرے بھائی جان سیدنا علی اکبر نے میرے ساتھ بڑا پکا وعدہ کیا تھا کہ میری پیاری بہن میں تمہیں خود آ کر لے جاؤں گا مگر نہ ابا جان نے کسی کو لینے بھیجا ہے اور نہ ہی بھائی جان سیدنا علی اکبر ابھی تک آئے ہیں چچا! میں بے حد اُداس ہوگئی ہوں مجھے ننھے سیدنا علی اصغر کی یاد بہت ستاتی ہے میں نے اُس کے لئے کئی جوڑے کپڑے سِی لے کہ رکھے ہوئے ہیں اس کے خالی جھولے کو سہلاتی رہتی ہوں یا عم! اگر آپ نے کوفہ کی طرف جانا ہو تو میرا خط میرے ابا جانی کے نام لے جائیں بس میرا صرف یہ کام ہے اس کام کے عوض میں آپ کو کئی چیزیں پیش کروں گی اور پھر وہ بچی حجرہ کے اندر چلی گئی اور میرے روکتے روکتے یا ایک ایک کر کے کئی چیزیں اٹھا لائی جن میں کچھ برتن اور ایک جانماز تھا ایک دو کپڑے کی چادریں تھیں اور ایک پوٹلی جس میں چھوٹی چھوٹی چیزیں اور سکے وغیرہ بندھے ہوئے تھے میں نے بچی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا لاؤ بیٹی اپنا خط مجھے دے دو میں اُس طرف کا رہنے والا ہوں میں تمہارا خط ضرور پہنچا دوں گا اور یہ اپنی چیزیں اٹھا لو میں اہلِ بیت رسول‎ کا خادم ہوں اور یہ ہی کیا کم سعادت ہے کہ ابنِ رسول کی بیٹی کا قاصد بن جاؤں بچی بضد تھی کے یہ سامان تھوڑا سمجھ کر نہیں لے رہے یہ سامان تھوڑا لگتا ہے لیکن بہت قیمتی سامان ہے بابا اس میں میری دادی سیدہ فاطمہ کے ہاتھوں کی کئی چیزیں ہیں یہ تھوڑا سا سامان قبول کرلو میرے بابا کو جب تم میرا خط دو گے تو وہ اور بھی مال و دولت دیں گے۔ میرے ابا جان بڑے سخی ہیں وہ تو سائلوں کو ویسے ہی بہت کچھ دے دیتے ہیں تم تو ان کی بیٹی کے قاصد بن کر جاؤ گے پھر تمہاری تو بہت قدر کریں گے اس کے علاوہ ہم سب تمہارے حق میں دعا بھی کریں گے اور اپنے نام نانا جان سے وہ جنت بھی لیکر دیں گے اس معصومہ نے درد و فراق کی اور بھی بہت سی باتیں کی تھیں جن کے بیان کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں میں نے منت سماجت کر کے وہ سامان واپس کر دیا تھا اور یہ خط لیکر آپ تک پہنچا ہوں میں نے دور سے اس طرف فوجوں کو دیکھ لیا تھا اس لئے راستہ بدل کر ادھر آیا تھا کہ دیکھتا جاؤں کہ یہ لشکر کدھر جا رہا ہے مگر یہاں آ کر دیکھا تو آپ کو اس حال میں پایا کے سیدنا عالی مقام نے ٹھنڈی سانس بھر کر فرمایا کہ لاؤ میری بیٹی کا خط دے دو میری بیٹی نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ میرے ابا جان تمہیں بہت کچھ دیں گے اب تم ہمیں ملے ہی ایسے عالم میں ہوکہ ہم تمہیں دنیاوی مال سے وہ کچھ نہیں دے سکے جو تمہارا حق بنتا ہے البتہ ہم اپنی بیٹی کا دوسرا وعدہ ضرور پورا کریں گے کہ تمہیں اپنے ساتھ لیے جنت میں لے جائیں گے پھر بھی ٹھہر وہ ہمیں اہلِ بیت کے خیموں سے جو کچھ بھی میسر آ سکا تمہیں لاکر دیتے ہیں نے سنا تو چیخیں نکل گئیں عرض کیا یا امام میرے لئے وعدہ آخرت ہی بہت بڑی دولت ہے خدا کے لئے اپنی یہ امانت بھی لیتے جائے پھر وہ کجا وے سے ایک چھوٹی سی پوٹلی نکال لایا آپ نے فرمایا یہ کیا ہے عرض کی اس میں سیدنا علی اصغر کے کپڑے ہیں امام مظلوم نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پوٹلی سنبھالی اور دل دل ہی دل میں کہا سیدہ صغری بیٹی اب تیرے سیدنا اصغر کو کیسے یہ تیرا تحفہ پیش کیا جائے سیدنا اصغر کی ننھی سی قبر قریب ہی تھی آپ نے وہ پوٹلی اس پر رکھ کر فرمایا سیدنا اصغر بہن کا تحفہ قبول کر لو اور پھر وہ کپڑے اور خط لیکر خیموں میں تشریف لے گئے خط کیا تھا تلوار تھی جو بیک وقت سب کے دلوں پر پھر رہی تھی شکوے ہی شکوے شکایتیں ہی شکایتیں درد ہی درد فراق ہی فراق ابا جان سے شکوے پھوپھی سے شکوے امی سے شکوے علی اکبر سے شکایتیں سیدنا سجاد سے شکوے سیدنا اصغر کی یادیں سیدہ سکینہ کے سلام ایک ایک لفظ دلوں کو چیرتا جا رہا تھا ایک ایک جملے پر چیخیں بلند ہو رہی تھیں پیکرِ تسلیم و رضا سیدنا مظلوم کی آنکھوں میں بھی اشکوں کا سیلاب آ گیا تھا درد و فراق کے آنسو بہے جارہے تھے دُکھے ہوئے دل کے آنسو گرم گرم اور آتشیں آنسو بیٹی کے غم سے غم آلود آنسو 

صفحہ 2 از 3