باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری

  محمد علی

صفحہ 3 از 3

دشو سوچ کے امت دے جے ہتھوں ہووے قتل امام تے کی ہُندا

اصغر تائیں دفناؤ باں آجاوے اصغر دے نام تے کی ہُندا

پئے بچاؤ ناجے اکبر دی لاش تائیں شِکویاں بھریا سلام تے کی ہُندا 

گھلیئے صُغریٰ دے قاصد نوں موڑ صائم دس کے حالت تمام تے کی ہُندا

نوٹ: یاد رہے کے صائم چشتی کی ایک اور تصنیف مشکل کشا ہے جو سیدنا علی المرتضیؓ کے سوانح پر لکھی گئی ہے اس کتاب میں صائم چشتی نے سیدنا علی المرتضیٰؓ متعلق انہی عقائد و نظریات کا پرچار کیا جو رافضیوں کے ہیں اور ان کے اصول دین میں سے شمار ہوتے ہیں اور عنوان بھی ایسے باندھے کہ جن سے یقیناً شیعیت ٹپکتی ہے مثلاً وہ خلیفہ بلافصل علی امتی نبی سے بڑھ سکتا ہے وغیرہ مطلب یہ تھا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ تمام انبیاء کرامؑ حتیٰ کر حضورﷺ‎ سے بھی افضل ہیں میں نے اس نام نہاد سنی نعت خواں کی اس کتاب کا تفصیلی اور تحقیقی رد دشمنانِ سیدنا امیر معاویہؓ نامی کتاب میں لکھا ہے جو دو جلدوں پر مشتمل بازار میں آ چکی ہے اسے ضرور خریدیں تاکہ آپ کو کچھ ایسے پیروں اور مولویوں کے بارے میں پتہ چلے جو سنیت کی آڑ میں شیعیت کا پرچار کرتے ہیں۔

 ایک اور جھوٹی داستان: سیدہ سکینہ کا سیدنا حسین کے گھوڑے کے پاؤں سے چمٹنا نوحہ خوانی کا منظر دکھانا

 شہید ابنِ شہید تصنیف صائم چشتی فیصل آبادی بھی ان کتب غیر معتبرہ میں سے ایک ہے جسے نام نہاد سنی نے تصنیف کیا نام نہاد سنی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس مصنف کی دوسری تصنیف مشکل کشا کا آپ مطالعہ فرمائیں تو اس سے سنیت کی بجائے شیعیت ٹپکتی ہے اس کی اور تفصیلی تردید دشمنانِ سیدنا امیر معاویہؓ کا علمی محاسبہ میں پڑھیے دو شہید ابنِ شہید خاکِ کربلا کی طرح من گھڑت داستانوں اور حدود شرعیہ کو پامال کرنے والے جملوں سے اٹی پڑی ہے اس لیے اب ہم کتاب شہید ابنِ شہید کا مستقل عنوان دے کر سیدہ سکینہ کی جھوٹی داستان نقل کرتے ہیں۔


صفحہ 3 از 3