Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات اور بستر مرگ پر فاروقی عظمت کا اعتراف

  علی محمد الصلابی

 جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ان کے پاس حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ عیادت کرنے کے لیے گئے، سیدنا خالدؓ نے ان سے کہا: اے ابودرداء! اگر عمرؓ فوت ہو گئے تو تم کئی ناپسندیدہ چیزیں اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ حضرت ابو درداءؓ نے کہا: اللہ کی قسم میرا بھی یہی خیال ہے۔ حضرت خالدؓ نے فرمایا: ’’کئی معاملات میں میں ان پر دل ہی دل میں بہت غصہ ہوا، لیکن اب اپنی اس بیماری میں جب اللہ کا فرشتہ عزرائیل علیہ السلام میرے پاس آنے والا ہے میں نے ان معاملات میں غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضرت عمرؓ اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے۔ جب آپؓ نے میرا مال تقسیم کرانے کے لیے ایک آدمی بھیجا تو اس نے میرا ایک جوتے کا جوڑا بھی تقسیم کر دیا ایک اور لے لیا اور دوسرا میرے لیے چھوڑا، لیکن انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جو اسلام میں سبقت کرنے والے تھے اور بدری صحابہؓ تھے۔ وہ مجھ پر سختی کرتے تھے اور دوسروں پر بھی میری ہی طرح سختی کرتے تھے۔ میں انہیں قرابت داری کا حوالہ دیتا تھا لیکن وہ اللہ کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت یا کسی رشتہ دار کی رشتہ داری کی پروا نہ کرتے تھے۔ ان کے اسی عمل کو دیکھ کر میرا غصہ جاتا رہا۔ وہ مجھ پر زیادہ ہی سختی کر رہے تھے اور یہ سب کچھ صرف فکر و نظر کے اختلاف کی وجہ سے تھا۔ میں جنگ میں ہوتا، مشکلات کو جھیلتا اور موقع کی نزاکت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا اور وہ موجود نہیں ہوتے تھے، وہ یہ سب نہیں جانتے تھے، اسی وجہ سے میں لوگوں کو نوازا کرتا تھا اور میری یہ چیز ان کی مخالفت کا سبب بنی۔‘‘

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 349، الخلافۃ و الخلفاء: صفحہ 198) اور جب آپؓ کی وفات قریب ہوئی تو رونے لگے اور کہا: ’’لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد مجھے اپنے تمام کارناموں میں ایک کارنامے کی وجہ سے بخشش کی زیادہ امید ہے، جب سخت سردی کے موسم میں رات کے وقت میں مہاجرین کے سریہ میں شریک تھا، ڈھال سنبھالے ہوئے پوری رات کاٹی تھی اور آسمان سے بارش ہو رہی تھی، میں صبح کے انتظار میں تھا کہ کافروں پر دھاوا بولوں۔ آپ لوگ بھی اپنے لیے جہاد لازم کر لو، میں اتنے اتنے معرکوں میں شریک ہوا، میرے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جس پر تلوار نیزے یا تیر کا زخم نشان نہ ہو اور اب دیکھو میں اپنے بستر پر مر رہا ہوں جیسے اونٹ مرتا ہے۔ بزدلوں کی آنکھیں خوف سے نہ سوئیں، میں شہادت کی موت مرنا چاہتا تھا لیکن قضا و قدر کا یہی فیصلہ تھا کہ اپنے بستر پر مروں۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 382، الطریق إلی المدائن: صفحہ 376) آپؓ نے موت کے وقت حضرت عمرؓ کو اپنا وصی بناتے ہوئے کہا:

’’میں اپنی وصیت، میراث کی تقسیم اور اپنے عہد کا نفاذ سیدنا عمر بن خطابؓ کے حوالے کرتا ہوں۔‘‘

سیدنا عمر بن خطابؓ یہ سن کر رونے لگے تو طلحہ بن عبیداللہؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ سے کہا: آپ کی اور خالد کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ شاعر نے کہا ہے:

لا ألفینک بعد الموت تندبنی

وفی حیاتی مازودتنی زادی

(الفاروق عمر: صفحہ 287) ’’تمہیں میں ایسا نہ پاؤں کہ تم میرے مرنے کے بعد آہ و بکا کرتی رہو اور میری زندگی میں میرے لیے توشہ تک تیار نہ کیا۔‘‘

حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی وفات پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت غمگین ہوئے اور حضرت خالدؓ کی چچا زاد بہنیں بھی ان پر روئیں۔ سیدنا عمر بن خطابؓ سے لوگوں نے کہا: آپ انہیں عورتوں کو منع کیوں نہیں کرتے؟ آپؓ نے فرمایا: اگر وہ ابو سلیمان کو اس طرح روئیں کہ نہ گریبان پھاڑیں نہ واویلا مچائیں تو انہیں رونے دیں۔ رونے والیوں کو ابو سلیمان جیسے لوگوں پر رونا چاہیے۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 366) اور حضرت خالدؓ کے بارے میں فرمایا: ’’خالد کی موت سے اسلام میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو جلدی پُر نہیں ہو گا، کاش وہ زندہ ہوتے! جب تک رہے میدان کار زار میں ناقابل تسخیر پہاڑ بن کر رہے۔ اللہ کی قسم، وہ دشمن کے مقابلے میں ایک مضبوط دیوار تھے، ان کے مشورے قابل قدر ہوتے تھے۔‘‘

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 348) ہشام بن نجتری بنی مخزوم کے چند لوگوں کے ساتھ حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، ہشام ایک شاعر آدمی تھا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے کہا: ہشام مجھے وہ شعر سناؤ جو تم نے خالد کے بارے میں کہے ہیں۔ ہشام نے اپنے بہترین اشعار سنائے، پڑھ چکا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: ابو سلیمان پر اللہ رحم فرمائے، تم نے ان کی توصیف کا حق ادا نہیں کیا، وہ شرک اور مشرکوں کو قعر مذلت میں ڈالنا پسند کرتے تھے، ان کو برا بھلا کہنے والا اللہ کی ناراضی کا مستوجب قرار پائے گا۔ پھر آپؓ نے شاعر کے قول سے مثال دی:

فقل للذی یبغی خلاف الذی مضٰی

تہیأ لأخری مثلہا فکأن قد

’’اس شخص سے کہہ دو جو گزری ہوئی چیز کے خلاف خواہش رکھتا ہے کہ اس کے مثل دوسری چیز کی تیاری کرے وہ تو گزر چکی۔‘‘

فما عیش من قد عاش بعدی بنافعی

ولا موت من قد مات بعد بمخلدی

’’جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا اس کی زندگی سے مجھے کوئی فائدہ نہیں اور نہ میرے بعد مرنے والے کی موت مجھے زندگی عطا کر سکتی ہے۔‘‘

پھر حضرت عمرؓ کہنے لگے: ’’ابو سلیمان پر اللہ کی رحمت ہو، دنیا کی عظمت و شرافت کے مقابلے میں اللہ کے پاس ان کے لیے جو کچھ ہے وہ بہتر ہے۔ وہ بہتر کارناموں کے ساتھ زندہ رہے اور سب کو رنجیدہ چھوڑ کر اس دنیا سے کوچ کر گئے۔‘‘

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 5 صفحہ 116) میں نے نہیں دیکھا کہ زمانہ نے کسی کو دنیا میں ہمیشہ کے لیے زندگی عطا کی ہو۔ اس طرح 21 ہجری میں حضرت خالدؓ کی وفات ہوئی اور شام کے شہر حمص میں آپؓ کی تدفین ہوئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 130، القیادۃ العسکری: صفحہ 589) اللہ تعالیٰ حضرت خالدؓ پر رحمت کے پھول برسائے اور مصلحین امت میں ان کی یادگار کو تا ابد باقی رکھے۔ آمین