تاریخ شیعیت (رافضیت) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ شیعیت (رافضیت)

  ابو عبداللہ

صفحہ 2 از 4

سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: میرے بعد ایک قوم ہوگی جسے رافضی کہا جائے گا۔ اگر تم انہیں پاؤ تو ان سے قتال کرو کیونکہ وہ مشرک ہوں گے۔ سیدنا علیؓ کے استفسار پر نبی کریمﷺ نے ان کی علامتیں بتائیں کہ وہ تمہاری ذات میں غلو کریں گے، اسلام پر طعن کریں گے، اہلِ بیت کی محبت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ وہ ہماری محبت سے خالی ہوں گے اور ابوبکرؓ اور عمرؓ کو برا بھلا کہیں گے(گالیاں دیں گے)۔

(دارقطنی: صواعق المحرقہ: صفحہ 13 ابنِ حجر ہیشمی)

مگر منافقت کے پردے میں چھپے شیعوں (روافض) نے اپنی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا جال بڑی منافقت اور شاطر بازی سے پھیلایا۔ اسی وجہ سے نبی کریمﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے فوراً بعد ارتداد اور منکرینِ زکوٰۃ کے جو فتنے پیدا ہوئے وہ بھی شیعوں (روافض) کی زیرِ زمین تحریک کا نتیجہ تھے۔ جن کو خلیفۂ رسول سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے الله کے فضل سے بڑے تدبّر اور فراست سے ختم کر دیا اور خود اپنے یارِ غارﷺ سے جا ملے۔ آپؓ کے بعد سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے بھی اللہ کے فضل سے دنیا کی دو عظیم الشان سپر طاقتوں، روم کی عیسائی اور ایران کی مجوسی سلطنتوں کی دھجیاں اڑا کا اسلام کا جھنڈا بلند کیا۔ مگر ہنگامے اور فتوحات کے اس دور میں بھی آستین کے سانپوں کی تحریک کو اپنی طاقت بڑھانے کا خوب موقع ملا اور سقوطِ ایران کے بعد تو ایران کے مجوسی بھی ان کی طاقت بن گئے تھے کیونکہ اقوامِ عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ احساسِ برتری یا تفاخر کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا اقوام مفتوح ہو جائیں یا ان کی حیثیت متاثر ہو جائے یا ان کی طاقت چھن جائے جس سے ان کے نفسیاتی عارضہ کو ٹھیس پہنچے تو وہ اقوام فتنوں اور سازشوں کے ذریعے تخریبی کاموں میں مشغول ہو جاتی ہیں اور مذکورہ عوامل کے ذریعے اپنی انفرادیت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے دور میں چونکہ اس تحریک کو کبھی کھل کر کام کرنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔ اس لیے سیدنا امیر المومنینؓ کو شہید کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اس لیے ایرانی ابو لُؤلؤ فیروز ملعون، خلیفتہ الرسولﷺ کو شہید کر کے تاریخِ شیعیت میں بابا شُجاع کے نام سے معروف ہو گیا۔ حتیٰ کہ سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کی خلافت کا زمانہ آ گیا۔ اس دور میں سیدنا ذوالنورینؓ کی نرم دلی، تواضع، انکساری اور رحم دلی سے یہود اور مجوسیوں کو کھلم کھلا گٹھ جوڑ کا موقع ملا۔

مشہور شیعہ مؤرخ حسین کاظم زادہ نے اس گٹھ جوڑ کی وجہ یوں تحریر کی ہے۔

جس دن سعد بن ابی وقاصؓ نے خلیفۂ دومؓ کی جانب سے ایران کو فتح کیا۔ ایرانی اپنے دلوں میں کینہ و انتقام پالتے رہے یہاں تک کہ فرقہ شیعہ کی بنیاد پڑنے پر اس کا پورے طور پر اظہار کرنے لگے۔

آگے چل کر یہی رقمطراز ہیں۔

ایرانی ہرگز اس بات کو نہیں بھول سکتے تھے، نہ معاف کر سکتے تھے، نہ قبول کر سکتے تھے کہ مٹھی بھر ننگے پیروں پھرنے والے عربوں نے جو صحراؤں اور جنگلوں کے رہنے والے تھے ان کی مملکت پر تسلط کر لیا ہے اور ان کے قدیم خزانوں کو لوٹ کر غارت کر دیا ہے اور ہزاروں لوگوں کو قتل کر دیا۔

(ملخص از تجلیات روح ایران در ادوار تاریخی)

یہاں میں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ فتنہ شیعہ یا روافض کی اصل طاقت اور مرکز تو ایران ہی تھا. مگر اسکے بانی و مؤجد اور اس طاقت کو صحیح طور پر منظم کرنے کا سہرا عبداللہ ابنِ سباء یمنی کے سر ہے جو انتہائی شاطر یہودی تھا. یہی وجہ ہے کہ بعد کے لوگ اس فتنہ کو سبائی تحریک یا سبائیت بھی کہتے ہیں۔

ہمارے اس بیان کی تائید میں علامہ مجلسی کشی سے رقمطراز ہیں:

وذکر بعض اھل العلم ان عبداللہ بن سباء کان یھودیا فاسلم و والی علیا علیہ السلام وکان یقول وھو علی یھودیة فی یوشع بن نون وصی موسیٰ من الغلو. فقال فی اسلامه بعد وفات الرسولﷺ فی علی مثل ذلک و کان اول من اشھر بالقول بفرض امامة علیؑ. واظھر براءة اعدائه و کاشف مخالفیه واکفرھم فمن ھمنا قال من خالف الشیعة اصل التشیع والرفض ماخوذ من الیھودیة

بعض اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ ابنِ سباء یہودی تھا پس اسلام لے آیا اور سیدنا علیؓ کی ولایت کا قائل ہوا۔ یہ اپنے یہودیت کے زمانے میں یوشع بن نون کے بارے میں غلو کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی ہیں۔ پس اسلام لانے کے بعد وہ اس قسم کی باتیں سیدنا علیؓ کے متعلق کہنے لگا کہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد وہ آپﷺ کے وصی تھے۔ یہ سب سے پہلا شخص تھا جس نے اس بات کو مشہور کیا کہ سیدنا علیؓ کی امامت کا قائل ہونا فرض ہے اور اس نے سیدنا علیؓ کے دشمنوں پر اعلانیہ تبراء کیا اور سیدنا علیؓ کے مخالفین کو واشگاف کیا اور ان کو کافر کہا۔ یہیں سے وہ لوگ جو شیعہ کے مخالف ہیں یہ کہتے ہیں کہ تشیع اور رافضیت یہودیت سے ماخوذ ہے۔

 (بحار الأنوار: جلد 25 صفحہ 287)

اور اسی صفحے پر علامہ موصوف کا یہ حاشیہ بھی بڑا معنیٰ خیز ہے:

کان قبل ذلك یتقون ولا یقولون علانیة تلک الامور فظھر وترک التقیة وعلن القول بذلک القول بکفر المخالفین مختصاته لعنة اللہ علیه

اس (عبداللہ بن سباء) سے پہلے لوگ تقیہ سے کام لیتے تھے اور ان امور (تبراء اور غلو) کو اعلانیہ نہیں کہتے تھے لیکن اس ملعون نے تقیہ چھوڑ کر ان باتوں کو اعلانیہ ذکر کرنا شروع کر دیا۔ مخالفینِ امامت کو بھی کافر کہنا اس کی خصوصیات میں سے ہے۔ لعنت ہو اس پر اللہ کی۔ 

( حاشیہ بحار الانوار: جلد 5 صفحہ 287)

مندرجہ بالا بیان سے جہاں ہماری بات کی تائید ہوتی ہے وہاں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ عبداللہ بن سباء کی اختراع عقیدۂ تقیہ شیعہ حضرات کے نزدیک اس درجہ اہم ہے کہ اس کے چھوڑنے والے پر لعنت بھیجی جاتی ہے نیز حضرات شیعہ کا محور عقیدۂ امامت اور تبراء کا مؤجد بھی عبداللہ ابن سباء تھا۔ عقائد کے اس بگاڑ سے اس کا مقصد یہود کو کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے ساتھ ساتھ یہودی قوانین کا نفاذ اور یہودی حکومت کا قیام تھا۔ ہمارے اس بیان کو مزید تقویت حضرات شیعہ کی معتبر ترین ہستی کلینی کی کتاب میں موجود باب اور ذیلی روایات سے حاصل ہوتی ہے۔

صفحہ 2 از 4