تاریخ شیعیت (رافضیت) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ شیعیت (رافضیت)

  ابو عبداللہ

صفحہ 3 از 4

باب فی الائمة انھم اذا ظھر امرھم حکموا بحکم آل داؤد ولا یسالون البینة

"یعنی کہ جب آئمہ کی حکومت ہوگی تو وہ آلِ داؤد کے موافق فیصلہ کریں گے اور شہادت طلب نہیں کریں گے۔

(اصول کافی کتاب الحجہ: جلد 1 صفحہ 397)

دراصل عبداللہ ابن سباء کے ایجاد کردہ عقائد مشرکین، یہود، نصاری اور ایران کی مجوسیت کا ملغوبہ تھا اور ان عقائد کا نشانہ زیادہ تر نو مسلم تھے کیونکہ پختہ نہ ہونے کی وجہ سے نو مسلموں کے لیے اُن عقائد میں بہت کشش تھی جو اُن کے قدیم مراسم اور سابقہ مذہبی عقائد سے بڑے حد تک مماثلت رکھتے تھے۔ عقائد کے اسی بگاڑ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اس رافضی گروہ نے نو مسلموں کی تخریبی انداز میں ذہن سازی کر کے پوری سلطنت میں تخریب کاری کا جال پھیلا دیا اور اس پورے تخریبی نظام کو وہ مصر سے کنٹرول کرتا رہا۔ مالک الاشتر النخعی، ثابت بن قیس الہمدانی، کمیل ابن زیاد، زید بن صوحان، صعصعہ بن صوحان، صعصہ بن الکواء، عروہ بن الجعد، جندب بن زہیر الغامدی، جندب بن کعب الازوی، عمرو بن الحمق الخزاعی، ابنِ الحکنہ، عمیر بن ضابی، حکیم بن جبلہ العبدی اس کے تخریبی نظام کے اہم مہرے تھے۔

اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے بالآخر سیدنا عثمانؓ کی نرمی کا فائدہ اٹھا کر اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظلوم ترین انسان امیر المومنینؓ کو انتہائی بے دردی کی حالت میں شہید کر دیا۔ سیدنا عثمانؓ کی شہادت ملتِ اسلامیہ کا وہ اَلمیہ ہے جو آگے چل کے جنگِ جمل و صفین کے معرکوں میں ایک لاکھ کے لگ بھگ مسلمانوں کی شہادت کا مؤجب بنا۔ مگر آپؓ کی شہادت کا یہ قصاص بھی کارکنانِ قضاء و قدر کے ہاں پورا نہ اترا اور رُبع صدی تک تمام عالمِ اسلام خاک و خون میں لوٹتا رہا اور آج تک شیعہ سنی چپقلش کی صورت میں موجود ہے۔ اور جب تک امتِ مسلمہ اپنے حقیقی منافق دشمن کو پہچان کر کوئی بہتر حکمتِ عملی اور صحیح لائحہ عمل اختیار نہیں کرتی تو جنگ جاری رہے گی۔ سیدنا عثمانؓ کے بعد سیدنا علیؓ کے دورِ حکومت میں بھی انہوں نے سیدنا علیؓ کو سخت کرب میں مبتلا رکھا۔

حضرات شیعہ کے نزدیک معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ میں سیدنا علیؓ کے خطبے کے الفاظ ہیں کہ:

قاتلکم الله لقد ملائتم قلبی قبحا و شجنتم صدری غیظاً وجدعتمونی تعب التھام انفاسا فاسدتم علی رأبی بالخذلان والعصیان

الله تمہیں ہلاک کرے تم نے میرا دل زخموں سے بھر دیا ہے، سینہ غموں سے لبریز کر دیا۔ ہر دم تم لوگوں نے مجھے غموں اور دکھوں کے جرح پلائے تم نے میرا ساتھ چھوڑا۔ میری نافرمانی کی اور مجھے رسواء کیا اور میری تدبیروں کو برباد کر دیا۔

(نہج البلاغہ: صفحہ 47)

مشہور شیعہ مؤرِخ ابو الفرج اصفہانی سیدنا علیؓ کے خطبے کے الفاظ یوں لکھتے ہیں:

یا اشباہ الرجال والارجال و یا طغام الحلام و عقول ربات الحجال و درت انی لم اعدنکم بل وددت انی لم ارکم معرة واللہ جرعت ندما وملاءتم جوفی غیضاً بالعصیان والخذلان 

اے زنان بصورت مردوں، اے کمینوں زمانہ عقل والو! میری آرزو ہے کاش میں تمہیں نہ جانتا، نہ پہچانتا اور اے کاش میں نے تمہیں کبھی نہ دیکھا ہوتا۔ مجھے انتہائی ندامت ہے اور تم پر غصہ ہے تم میرے نافرمان اور رسواء کرنے والے ہو۔

 (کتاب الاغانی: جلد 1 صفحہ 43)

غرض کہ انہوں نے سیدنا علیؓ کی خلافت کو نام نہاد یا برائے نام بنا دیا اور آپ کو سخت رنجیدہ کیا ہمارے اس قول کی گواہی میں معتبر شیعہ قاضی نور اللہ شوستری رقمطراز ہیں:

وحاصل کلام آنکہ آنحضرت مادر آں ایام نام خلافت بیش نہ بودہ ھموارہ او فتند تمکن و فقاعد انصار وتخاذل اعوان شکایت ھی نمودنہ۔

ترجمہ: اور حاصلِ کلام یہ ہے کہ ان دنوں سیدنا علیؓ کی خلافت برائے نام تھی اور اپنی کمزوری اور اپنے اعیان و انصار (یعنی قریبی لوگوں ) کی پستی اور پہلوتہی کی شکایت فرماتے تھے۔

(مجالس المؤمنین: مجلس اول صفحہ 24)

مختصراً یہ کہ سیدنا علیؓ کی ہستی وہ مظلوم شخصیت تھی جو اس زیرِ زمین سازشی تحریک کا سب سے زیادہ نشانہ بنی کیونکہ نبی کریمﷺ سے قریبی تعلق، خونی رشتہ، عظمت اور صاحبِ عِلم ہونے کی وجہ سے سیدنا علیؓ ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ اس لیے اس سازشی تحریک نے آپؓ سے اپنی نسبت کا اظہار اور آپؓ سے اپنی قربت کا پرچار کرکے آپؓ کی شخصیت کو استعمال کرتے ہوے نہ صرف اپنے کام کے لیے میدان ہموار کیا بلکہ اپنے بہت سے ہمنوا بھی پیدا کیے۔ جس کی وجہ سے یہ اتنے طاقتور ہو گئے کہ کہیں تو سیدنا علیؓ کی الوہیت کی داستانیں گھڑیں اور کہیں سیدنا علیؓ کی ان کوششوں کو تاراج کیا جو آپس کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سیدنا علیؓ کی طرف سے ہوئیں۔ جس کی وجہ سے جنگِ جمل و صفین میں بہت سے مسلمان ان کی سازشوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یعنی انہوں نے سیدنا علیؓ سے اپنی نسبت کا پرچار کر کے نہ صرف یہ کہ سیدنا علیؓ کو مفلوج کر دیا بلکہ اس کو بطورِ دفاعی ہتھیار آج تک تھاما ہوا ہے۔ سیدنا علیؓ کی خلافت کو مفلوج کرنے سے اس سازشی ٹولے کا مقصد نظامِ خلافت کا خاتمہ تھا۔ اس کے لیے انہوں نے جو جال بچھایا خود سیدنا علیؓ بھی اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ آپؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کے صحیح جانشین سیدنا حسنؓ نے کمالِ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اپنے والد سیدنا علیؓ کی وصیت:

وان علیاً ابی کان یقول لا تکرھوا امارة معاویة فانکم لو فار قتموہ لرأیتم الرؤس کندر عن کواھلحا کالحنظل

ترجمہ: میرے والد سیدنا علیؓ فرماتے تھے کہ سیدنا معاویہؓ کی امارت سے تم کراہیت نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے ان کو بھی گنوا دیا تو تم دیکھنا کندھوں پر سے حنظل کی طرح سے سر گریں گے۔

(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 131، شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید: جلد 3 صفحہ 36)

اور حضورﷺ کی پیشن گوئی: 

 ابنی ھذا سید و لعل الله ان یصلح به بین فئتین عظیمتین من المسلمین

میرا یہ بیٹا(حسنؓ) سردار ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اسکے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرائے گا۔

(تفہیم البخاری کتاب الصلح: جلد 1 صفحہ 1228)

کو پورا کر کے سیدنا معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور سبائیوں کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیئے۔

صفحہ 3 از 4