تاریخ شیعیت (رافضیت) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ شیعیت (رافضیت)

  ابو عبداللہ

صفحہ 4 از 4

مگر اس کے بعد بھی روافض نے اپنے گماشتوں کی معرفت مصالحت کے اس فیصلے کو سبوتاژ کرنے کے لیے آپؓ پر بہت دباؤ ڈالا مگر کامیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے ایک آلہ کار کے ذریعے آپؓ کو زہر دے کر شہید کرا دیا۔ سیدنا حسنؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کے چھوٹے بھائی سیدنا حسینؓ کو بھی ایک سازش کے تحت کربلا میں بلا کر شہید کر دیا۔ اِس ساری سازش کے روح رواں یہی کوفی شیعہ تھے۔ ہمارے اس قول کی گواہی میں مشہور شیعہ مصنف صاحب خلاصۃ المصائب رقمطراز ہیں:

لیس فیھم شامی ولا حجازی بل جمیعھم اھل الکوفة

اہلِ بیت کو شہید کرنے والوں میں کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا بلکہ سب کے سب کوفی تھے

( خلاصۃ المصائب: صفحہ 201)

اور مشہور شیعہ مجتہد نور اللہ شوستری اہلِ کوفہ کے مذہب کے متعلق رقم طراز ہے:

 تشیع اھل کوفہ حاجب باقامت حجت نہ دارد و سنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل و محتاج دلیل است

کوفیوں کا شیعہ ہونا اتنا واضح ہے کہ اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں اور کوفی الاصل کا سنی ہونا خلافِ عقل اور دلیل کا محتاج ہے۔

(مجالس المومنین: جلد  اول صفحہ 25)

یہی کوفی اشرار تھے جو سیدنا حسینؓ کو شہید کرنے کے بعد رونے پیٹنے سے بھی اپنے آپ کو بے قصور ثابت نہ کر سکے۔ اس سلسلے میں طبرسی سیدنا زین العابدین کے الفاظ رقم طراز ہے:

لما اتی زین العابدین بالنسوة من کربلا دو کان مریضاً واذا النسآء اھل الکوفہ ینتدین مشققات الجیوب والرجال معھن یبکون فقال زین العابدین بصوت ضیلیل فقد تھکتہ العلة ان ھولآء یبکون علینا فمن قتلنا غیرھم

جب سیدنا زین العابدین عورتوں کے ہمراہ کربلا سے تشریف لائے اور وہ بیمار تھے تو اس وقت کوفہ کی عورتیں اور مرد گریبان چاک کر کے رو پیٹ رہے تھے تو اس وقت سیدنا زین العابدین کمزور آواز سے فرمانے لگے یہ لوگ رو رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے علاوہ ہمیں کسی غیر نے قتل نہیں کیا۔

(الاحتجاج: صفحہ 158)

 ہمارے اس بیان کے ثبوت میں کتب شیعہ سے مزید بہت سے حوالہ جات دستیاب ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جلاء العیون جلد 2 صفحہ 597 پر سیدہ زینبؓ کے دل سے نکلی ہوئی بددعا:

اے ماتم کرنے والو! تم قیامت تک ماتم کرتے رہو گے یہی تمہاری سزا ہے۔

 باقر مجلسی صاحب نے لکھی ہے جو کہ: 

 دل سے جو آہ نکلتی ہے سو اثر رکھتی ہے

 کے بمصداق رنگ لائی جس کے لیے ہمیں کوئی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہر عقل رکھنے والا شخص محرم میں ہمارے بیان کی تصدیق کر سکتا ہے۔

 تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ شیعہ مذہب میں اتنا تضاد ہے کہ یہ بھان متی کا سوانگ اور مداری کا کرتب بن گیا ہے۔ اسی تضاد کے متعلق مشہور شیعہ مجتہد مولوی دلدار علی مجتہد رقمطراز ہے: 

الاحادیث الماثورہ عن الأئمة مختلفة جداً. لایکاد یوجد حدیث الا و فی مقابلته ما ینافیه ولا یتفق خبراً الا و بازائہ ما یضادہ , حتی صار ذلک سببا لرجوع بعض الناقصین عن اعتقاد الحق کما صرح بہ شیخ الطائفة فی اوائل التھذیب والاستبصار

ائمہ سے منقول احادیث میں سخت اختلاف ہے۔ ایسی کوئی حدیث نہیں ملے گی جسکے مقابلے میں اسکے مخالف خبر نہ ہو یہاں تک کہ یہ اختلاف بعض ناقص لوگوں کیلئے مذہب سے انحراف کا سبب بن گیا۔ جیسا کہ شیخ الطائفہ نے تہذیب اور استبصار کے شروع میں اسکی تصریح کی ہے۔

( اساس الاصول: صفحہ 51)

اسی تضاد کا شاخسانہ ہے کہ سیدنا علیؓ کو شہید کرنے والے گروہ کے ساتھی اور اپنے چچا سعد بن مسعود کو سیدنا حسنؓ کی گرفتاری کی ترغیب دینے والے مختار ثَقفی نے واقعہ کربلا کے بعد اس واقعہ کے ذمہ دار کوفیوں کو ساتھ ملا کر اس تحریک کو باقاعدہ ایک مذہبی شکل دے دی اور کبھی تو نبوت اور کبھی مہدویت کا دعویٰ کیا۔ اس نے سبائی تحریک کو مذہبی شکل دے کر لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا۔ اس کے بارے میں مشہور شیعہ نور اللہ شوستری لکھتا ہے: 

مختار بن ابی عبید ثقفی رحمة اللہ تعالیٰ علامه حلی اور از جمله مقبولان ثمردہ

ترجمہ: مختار بن ابی عبید ثقفی اللہ کی اس پر رحمت ہو علامہ حلی نے اس کو مقبولان بارگاہ الہیٰ میں شمار کیا ہے۔

( مجالس المؤمنین: صفحہ 51) 

حالانکہ علامہ کشی رقمطراز ہیں:

 عن ابى عبدالله قال كان المختار يكذب على على بن الحسين (علیھما السلام) 

"سیدنا صادقؒ فرماتے ہیں کہ مختار سیدنا زین العابدینؒ پر جھوٹ بکتا تھا۔

(رجال کشی: صفحہ 125)

اور صرف یہی نہیں بلکہ عقیدہ بداء کا مؤجد بھی یہی مختار ثقفی تھا۔ اس نے اپنے سازشی منصوبوں میں اہلِ بیتِ اطہار کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے سیدنا حسینؓ کے بھائی محمد بن علیؓ المعروف محمد بن حنفیہ کو بھی قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جب اس کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو حضورﷺ کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے اور سیدہ اماں عائشہؓ کے بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ کو اس کے مقابلے پر اپنے چھوٹے بھائی مصعب بن زبیرؓ کو بھیجنا پڑا۔ جنہوں نے اللہ کے فضل و کرم سے اس ظالم کو قتل کیا۔ مگر جس فتنے کی بنیاد عبداللہ بن ابی نے رکھی اور عبداللہ ابن سباء نے جس فتنے کو منظم کیا، مختار ثقفی نے اس کو مذہبی شکل دے کر اس کی جڑیں مضبوط کر دی تھیں۔ اس لیے گمراہی کی بنیاد پر قائم تحریک میں مختار کی موت کے بعد بھی ہر دور میں مزید گمراہ فرقوں نے جنم لیا۔ جو گمراہی کی تمام حدود پھلانگ کر اپنے اسلاف سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی تاریخ میں آپ کو درجنوں ایسے فرقوں کا ذکر مل جائے گا جنہوں نے کہیں تو خدائی کا، نبوت کا اور مسیحیت کا دعویٰ کیا اور کہیں مہدویت اور امامت کے چکروں میں مسلمانوں کو گمراہ کیا۔ ان میں اکثریت شیعہ روافض فرقوں کی ہے جن میں سے بعض آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔


صفحہ 4 از 4