نئے ہجری سال کی ابتداء
مفتی محمد راشد ڈسکویمحرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کا پہلا مہینہ ہے کتنے ہی پڑھے لکھے دیندار لوگ ایسے ہیں جنہیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم اس کے مہینوں کے نام اور ان کی تاریخ ہر کسی کو معلوم ہوتی ہے جب جب شمسی سال کے پہلے مہینے جنوری کی ابتداء ہوتی ہے تو وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں خوب ہلّہ غلّہ کرتے ہیں گویا اس طریقے سے وہ نئے سال کا آغاز کرتے ہیں اس مقام پر ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ "نیو ائیر" کی اس طرز پر ابتداء ہم نے کہاں سے لی؟
ہمارے لیے تو "نیوائیر" کی ابتداء محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں اس لیے ہمیں اپنی زندگی کی راہ و رسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت نہیں ہم تو خود ساری دنیا کو تہذیب و شائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔
نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ:
تو "نئے سال" کی ابتداء ہو یا "نئے مہینے" کی، اس کی ابتداء کا مسنون طریقہ شریعتِ مطہرہ میں یہ ہے کہ مہینے کے اختتام پر نئے مہینے کے چاند کو دیکھنے کا اہتمام کیا جائے یہ مسنون عمل ہے اور جب چاند نظر آجائے تو نیا چاند دیکھنے کی دعا بھی پڑھی جائے،
یہ بھی مسنون عمل ہے اس مسنون طریقے کے ہی اپنانے میں اور دعاؤں کا اہتمام کرنے میں ہی برکت، حفاظت اور ثواب ہے ہمیں فضول قسم کی رسومات اور خرافات سے بچتے ہوئے اسی کا اہتمام کر کے سچے مسلمان اور محبِ نبیﷺ ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے امام ابنِ السنی نے مہینہ کی ابتداء کے بارے میں آپﷺ کی سنت و عادتِ شریفہ کا یوں ذکر فرمایا ہے:
إن رسول اللہﷺ کان إذا رأی الھلال قال اللّٰھم اجعلہ ھلال یُمنٍ و برکةٍ۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السنی، صفحہ، 596 رقم الحدیث، 641 مکتبة الشیخ، کراتشی)
ترجمہ: حضرت رسول اللہﷺ جب پہلی رات کے چاند کو دیکھتے تو یوں دعا مانگتے: اے اللہ! ہمارے لیے اس چاند کوخیر و برکت والا بنا دے۔
نیا چاند دیکھتے وقت کی مسنون دعا:
ایک دوسری روایت میں اس وقت یہ دعا پڑھنے کا ذکر ہے: اللھم اھلہ علینا بالیمن والایمان والسلامۃ والاسلام ربیع و ربک اللہ۔
(مسند أحمد بن حنبل، مسند أبی محمد طلحہٰ بن عبید اللہ: جلد، 2 صفحہ، 179 رقم الحدیث: 1397 دارالحدیث القاھرة)
ترجمہ: اے اللہ! اس پہلی رات کے چاند کو امن و سلامتی اورایمان و اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، اے چاند میرا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ہمیں بھی مہینے کی ابتداء اُسی طرح کرنی چاہیئے، جیسا کہ آپﷺ کا طریقہ تھا تاکہ برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوں چہ جائیکہ! ہم رسوم و بدعات اور نوحہ خوانی سے ابتداء کریں ۔
اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت:
دوسری بات یہ کہ ہمیں چاہیئے ہم اسلامی تقویم ہجری کے استعمال کی عادت ڈالیں، اپنے روز مرہ کے استعمال میں اس تقویم کو سامنے رکھیں اگرچہ! دوسرے کلینڈروں کا استعمال گناہ نہیں ہے شرعاً اس کے اختیار کرنے میں بھی ممانعت نہیں ہے لیکن شمسی تقویم کا ایسا استعمال کہ ہم اسلامی تقویم کو بالکل ہی بھلا بیٹھیں یہ کسی طرح درست نہیں اس لیے کہ اسلامی تقویم ہجری کی حفاظت بھی مسلمانوں کا فرض ہے اور اس کے استعمال میں ثواب ہے جس سے محروم نہیں ہوناچاہیئے، نیز اپنی شناخت اور اپنے امتیاز کو باقی رکھنا بھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے اس معاملے میں اس کی بہتر شکل یہ ہے کہ ہم قمری تاریخ کے استعمال کو ترجیحی بنیادوں پر دوسری تقویم کے مقابلے میں استعمال کریں، خدا نخواستہ اگر سب مسلمان اسلامی تقویم ہجری کو چھوڑ بیٹھیں اور بھلا دیں تو سب کے سب اللہ کے یہاں مجرم ٹھہریں گے اس لیے کہ اسلام کی بہت ساری عبادات کا تعلق اسی تقویم سے ہے حضرت حکیم الأمت رحمہ اللہ علیہ اپنی تفسیر "بیان القرآن" میں رقم طراز ہیں:
البتہ چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حسابِ قمری پر ہے اس لیے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنا لے جس سے حسابِ قمری ضائع ہو جائے تو سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ہے اور حسابِ قمری کا برتنا بوجہ اُس کے فرضِ کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے۔
(بیان القرآن: سورة التوبة، جلد، 3 صفحہ، 131 مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
اسلامی سال کے اس پہلے مہینے کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہے یہ عظمت والے مہینوں میں سے ہے تاریخی روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت سے عظیم الشان واقعات پیش آئے احکامات کے اعتبار سے صحیح اور مستند احادیث سے جو امور سامنے آتے ہیں وہ صرف دو ہیں:
ماہ محرم الحرام میں پہلا حکم:
اس ماہِ مبارک میں مطلقاً کسی بھی دن روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ شمار ہوتا ہے نیز نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا اور بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے:
افضل الصّیام بعد رمضان، شھر اللہ المحرم، وافضل الصّلاة بعد الفریضة صلوة اللیل۔
(صحیح مسلم، کتاب الصوم، باب فضل صوم المحرم، رقم الحدیث: 202)
ترجمہ: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل رات کی نماز تہجد ہے۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
حین صام رسول اللہﷺ یوم عاشوراء، وأمر بصیامہ قالوا یا رسول اللہ إنہ یوم تُعظِّمہ الیھود والنصاری فقال رسول اللہﷺ فإذا کان العام المقبل إن شاء اللہ صُمنا الیوم التاسع قال فلم یأت العام المقبل حتیٰ توفی رسول اللہﷺ۔
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: أی یوم یصام فی عاشوراء رقم الحدیث: 1134 جلد، 2 صفحہ، 797 دارالکتب العلمیة)
ترجمہ: جب حضرت رسول اللہﷺ نے عاشوراء کے دن خود روزہ رکھا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو اِس پر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن کی تو یہود و نصاریٰ بھی تعظیم کرتے ہیں؟ غالباً یہ عرض کرنا مقصود ہو گا کہ روزہ رکھ کر تو ہم نے بھی اس دن کی تعظیم کی گویا ہم ایک عمل میں ان کی مشابہت اختیار کرنے لگے تو اِس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو اگلے سال ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے اس طرح سے مشابہت کا شبہ باقی نہیں رہے گا سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگلا سال آنے سے پہلے ہی آپﷺ کا وصال ہو گیا۔
اسی وجہ سے فقہائے کرام فرماتے ہیں صرف عاشوراء کا روزہ نہ رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ 9 یا 11 محرم کا روزہ بھی ملا لیا جائے تاکہ یہود کے ساتھ مشابہت سے بچ سکیں۔
صحیح مسلم کی ہی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش بھی زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔
عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کانت قریش تصوم عاشوراء فی الجاھلیة وکان رسول اللہﷺ یصوم، فلما ھاجر إلی المدینة صامہ وأمر بصیامہ فلما فرض شھر رمضان قال: من شاء صامہ، ومن شاء ترکہ۔
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صوم عاشوراء، رقم الحدیث: 1125 جلد، 2 صفحہ، 792 دارالکتب العلمیة)
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھتے تھے اور جناب رسول اللہﷺ بھی روزہ رکھتے تھے جب آپﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو وہاں بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، پھر جب ماہِ رمضان میں روزہ رکھنے کی فرضیت کا حکم آیا تو آپﷺ نے لوگوں کو اختیار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہجرت سے قبل بھی حضورﷺ کی اپنی عادتِ شریفہ روزہ رکھنے کی تھی اور ہجرت کے بعد دوسروں کو بھی تاکید فرمائی تھی۔
1: ماہ محرم سے متعلق دو موضوع احادیث:
شیعہ کی طرف سے اس ماہِ مبارک میں کچھ موضوع اور من گھڑت روایات بھی علی الاعلان بیان کی جاتی ہیں اور ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے حالانکہ احادیث نبویہﷺ میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو آپﷺ نے بیان نہیں فرمائی بہت بڑا جرم ہے ایسے شخص کے لیے جہنم کی وعید ہے، جیسا کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
من کذب علی متعمدًا فلیتبوء مقعدہ من النار۔
(المقاصد الحسنة فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرة علی الألسنة باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہﷺ: رقم الحدیث: 3 جلد، 1 صفحہ، 10 دار الکتب العلمیة)
ترجمہ: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
اس لیے اس جرم کے ارتکاب سے باز رہنا بہت ضروری ہے ان من گھڑت روایات میں سے ایک یہ ہے:
ما من عبد یبکی یوم قتل الحسین، إلا کان یوم القیامة مع أولی العزم من الرسل۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السنی: صفحہ، 596 رقم الحدیث: 641 مکتبة الشیخ کراتشی)
ترجمہ: جو شخص بھی شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کے دن ان کے غم میں روئے گا قیامت کے دن وہ اولو العزم رسولوں کے ساتھ ہو گا۔
اور ایک دوسری روایت یہ ہے:
من صام تسعة أیام من أول المحرم بنی اللہ لہ قبة في الھواء میلا فی میل لھا أربعة أبواب۔
(عمل الیوم واللیلة لابنِ السنی: صفحہ، 596: رقم الحدیث: 641 مکتبة الشیخ، کراتشی)
ترجمہ: جس نے پہلی محرم سے نو دن کے روزے رکھے اللہ اس کے لیے ہوا میں ایک خیمہ بنائیں گے جو ایک میل چوڑا اور ایک میل لمبا ہوگا اور اس کے چار دروازے ہوں گے۔
واضح رہے کہ ان جیسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات کو بیان کرنا یا ان پر یقین کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے اس لیے ان جیسی بہت سی روایات اور افسانوی باتیں جو محرم الحرام کے آتے ہی عام کی جاتی ہیں کہ جن کی کوئی فنی شہادت اور ثبوت نہیں ہوتا ان سے پورے اہتمام سے نہ صرف بچا جائے بلکہ ان کے بیان کرنے والے کے اس بیان کو رد کرنے کی بھی از حد ضرورت ہے۔
2: محرم الحرام میں سوگ کرنے کا حکم:
ایک اور چیز جس کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیئے کیوں؟
اس لیے کہ اس مہینے میں نواسہ رسول اللہﷺ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہایت بیدردی سے شہید کر دیا گیا ان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے غم منانا سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ہے سوچنا تو یہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں شریعت کی طرف سے کیا راہنمائی ملتی ہے؟
اس بارے میں سب سے پہلے علامہ ابنِ کثیر رحمتہ اللہ علیہ کا ایک قول ملاحظہ کرتے ہیں:
ہر مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو حضرت حسینؓ کی شہادت کا واقعہ غمگین کر دے اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے سردار اور اہلِ علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے آپ جناب رسول اللہﷺ کی سب سے افضل لختِ جگر کے بیٹے یعنی آپﷺ کے نواسے تھے آپ عبادت کرنے والے بڑے بہادر اور بہت زیادہ سخی تھے لیکن آپ کی شہادت پر شیعہ جس انداز سے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں، وہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے بلکہ ان کی یہ حرکات بناوٹی اور ریاکاری سے تعلق رکھتی ہیں آپ کے والد حضرت علی المرتضیٰؓ آپ سے زیادہ افضل تھے اُن کو چالیس ہجری، اکیس رمضان، جمعہ کے دن ، جب کہ وہ اپنے گھر سے نمازِ فجر کے لیے تشریف لے جا رہے تھے شہید کر دیا گیا لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت عثمانِ غنیؓ اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک حضرت علی المرتضیٰؓ سے افضل ہیں، جنہیں چھیالیس ہجری عید الاضحیٰ کے آٹھویں دن 18 ذی الحجہ کو انہی کے گھر میں شہید کردیا گیا لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو بھی اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے افضل ہیں، جن کو 27 ذی الحجہ کو مسجد کے محراب میں نماز کی حالت میں زہر آلود تیر سے وار کرکے زخمی کردیا گیا جب کہ وہ قراءت کر رہے تھے اور وہ اس زخم سے 1 محرم الحرام کو شہید ہوگئے لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح سیدنا حسینؓ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ان تینوں حضرات سے افضل تھے لیکن شیعہ ان کی وفات کے دن اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح حضرت حسینؓ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں اور جناب نبی اکرمﷺ جو دنیا و آخرت میں بنی آدم کے سردار ہیں ان کی وفات کے دن بھی یہ شیعہ اس طرح ماتم نہیں کرتے، جس طرح یہ جاہل رافضی حضرت حسینؓ کی شہادت کے دن کرتے ہیں۔
(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 579)
اس قول کو ملاحظہ کرنے سے روافض کے ڈرامے اور ڈھونگ کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے اس کے بعد سمجھنا چاہیئے کہ شہادت کا مرتبہ خوشی کا ہے یا غم اور سوگ کا؟
تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہاء سعادت کی بات ہے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت:
یہی وجہ تھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مستقل حصولِ شہادت کی دعا مانگا کرتے تھے۔
دعا کے الفاظ یہ ہیں: اللھم ارزقنی شھادۃ فی بلد رسولک۔
(صحیح البخاری کتاب فضائل مدینہ باب کراہیة النَّبِیﷺ أن تعری المدینة، رقم الحدیث: 1890 جلد، 3 صفحہ، 23 دارطوق النجاة)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا شوقِ شہادت:
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنہیں بارگاہِ رسالت سے سیف اللہ کا خطاب ملا تھا وہ ساری زندگی شہادت کے حصول کی تڑپ لیے ہوئے قتال فی سبیل اللہ میں مصروف رہے لیکن اللہ کی شان انہیں شہادت نہ مل سکی تو جب ان کی وفات کا وقت آیا تو پھوٹ پھوٹ کے رو پڑے کہ میں آج بستر پر پڑا ہوا اونٹ کے مرنے کی طرح اپنی موت کا منتظر ہوں۔
(البدایہ والنھایہ سنة احدی وعشرین ذکر من توفی احدی وعشرین: جلد، 7 صفحہ، 114 مکتبة المعارف، بیروت)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق شہادت:
شہادت تو ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے جس کی تمنا خود جناب رسول اللہﷺ نے اپنے لیے کی اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
ولوددت انی اورل فی سبیل اللہ ثم احیا ثم اقتل ثم احیا ثم اقتل۔
ترجمہ: میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں پھر شہید کر دیا جاؤں پھر مجھے زندہ کر دیا جائے پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کر دیا جاؤں پھر مجھے زندہ کر دیا جائے پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور پھر شہید کر دیا جاؤں۔
(صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب: فضل الجھاد و الخروج فی سبیل اللہ، رقم الحدیث: 4967)
الغرض یہاں تو صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ شہادت تو ایسی نعمت ہے جس کے حصول کی شدت سے تمنا کی جاتی تھی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر افسوس اور غم منایا جائے اگر اس عمل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر ہمیں بتلایا جائے کہ پورے سال کا ایسا کون سا دن ہے جس میں کسی نہ کسی صحابیِ رسول کی شہادت نہ ہوئی ہو کتبِ تاریخ اور سیر کو دیکھ لیا جائے ہر دن میں کسی نہ کسی کی شہادت مل جائے گی جس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس دن کو اظہارِ غم اور افسوس بنایا جائے نیز اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جناب رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ میں بھی تو کئی عظیم اور نبی کریم ﷺ کی محبوب شخصیات کو شہادت ملی لیکن کیا ہمارے پیارے نبیﷺ نے بھی ان کی شہادت کے دن کو بطورِ یادگار کے منایا؟
نہیں بالکل نہیں تو پھر کیا ہم اپنے نبی کریمﷺ سے زیادہ غم محسوس کرنے والے ہیں؟
خدارا ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس قسم کی شیطانی اور گمراہ کن رسومات و اعمال سے بچنے کی مکمل کوشش کریں۔
شرعا سوگ کرنے کا حکم:
شرعاً سوگ کرنے کی صرف چند صورتیں ہیں اور وہ بھی عورتوں کے لیے:
1: مطلقہ بائنہ کے لیے صرف زمانہ عدت میں
2: جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کے لیے صرف زمانہ عدت میں
3: کسی قریبی رشتے دار کی وفات پر صرف تین دن
اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر عورت کے لیے سوگ کرنا جائز نہیں ہے اور سوگ کا مطلب یا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس عرصہ میں زیب و زینت اور بناؤ سنگھار نہ کرے زینت کی کسی بھی صورت کو اختیار نہ کرے، مثلاً خوشبو لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا اور رنگ برنگے خوشنما کپڑے پہننا وغیرہ اس کے علاوہ کوئی صورت اپنانا مثلاً اظہارِ غم کے لیے سیاہ لباس پہننا یا بلند آواز سے آہ و بکا اور سیاہ لباس وغیرہ پہننا جائز نہیں۔
نیز مردوں کے لیے تو کسی صورت میں سوگ کی اجازت نہیں ہے تو پھر محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی سوگ اور ماتم کے کیا معنیٰ؟
محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم:
اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکل بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے جس کا ترک لازم ہے لہٰذا جب سوگ جائز نہیں تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہوگی بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کی سیدہ فاطمہؓ سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی۔
(ملاحظہ ہو: تاریخ مدینةالدمشق لابنِ عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلاة والسلام وأزواجہ: جلد، 3 صفحہ، 128 دار الفکر تاریخ الرسل والملوک للطبری ذکر ما کان من الأمور فی السنة الثانیة غزوة ذات العشیرة: جلد، 2 صفحہ، 410 دار المعارف بمصر)
اس مہینے میں شادی نہ ہونے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس مہینے میں نحوست ہے جب کہ شرعاً یہ بات بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے بلکہ یہ عقیدہ یا ذہن رکھنا ہی گناہ ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی دن یا زمانے میں کسی قسم کی نحوست نہیں رکھی گئی اکابرینِ مفتیانِ عظام کے فتاویٰ میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ذیل میں فتاویٰ رحیمیہ سے اسی مسئلے کا جواب نقل کیا جاتا ہے۔
الجواب: ماہِ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش و اقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں حرام ہے آنحضرتﷺ کا فرمان ہے:
لا یحل لامرأة تؤمن باللہ والیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلٰث لیال إلا علی زوج أربعة أشھر وعشراً۔
ترجمہ: جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔
(بخاری باب: تحد المتوفی عنھا أربعة أشھر وعشراً إلخ، صفحہ، 803 جلد، 2 پارہ، 22 صحیح مسلم، باب وجوب الإحداد فی عدة الوفات إلخ، صفحہ، 496 جلد، 1 مشکوٰة: باب العدة، الفصل الأول، صفحہ، 288)
ماہِ مبارک محرم میں شادی وغیرہ کرنا نامبارک اور نا جائز سمجھنا سخت گناہ اور اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے، اسلام نے جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا ہو اعتقاداً یا عملاً ان کو نا جائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کا خطرہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ روافض اور شیعہ سے پوری احتیاط برتیں، ان کی رسومات سے علیحدہ رہیں، ان میں شرکت حرام ہے۔
مالابد منہ عقائد کی مشہور کتاب میں ہے مسلم را تشبہ بہ کفار وفساق حرام ہے یعنی: مسلمانوں کو کفار و فساق کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔(صفحہ، 131)
ماہِ مبارک میں شادی وغیرہ کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی میں اختلاف بھی نہیں ہے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ پڑھئے:
سوال: بعض سنی جماعت عشرہ اولیٰ محرم الحرام میں نہ تو دن بھر میں روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ بعدِ دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ماہِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب: تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔
(احکام شریعت: صفحہ، 90 جلد، 2)
فقط واللہ اعلم بالصواب
(فتاوی رحیمیہ، کتاب البدعة والسنة، ماہ محرم میں شادی کرے یا نہیں: جلد، 2 صفحہ، 115 دار الاشاعت کراچی)
اسی طرح فتاویٰ حقانیہ (کتاب البدعة والرسوم، محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم: جلد، 2 صفحہ، 96 جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک) میں بھی موجود ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے۔