*علی المُرتضی رض کا ابو جہل کے دروازے پر جانا اور اس کی لڑکی کے نکاح کے لیے خواستگاری کرنا سنی و شیعہ دونوں کی کتابوں میں منقول ہے۔ تو کیا اس میں سیّدہ کی توہین نہیں۔؟*
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️ *سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا نواں اعتراض* ♦️
*علی المُرتضی رض کا ابو جہل کے دروازے پر جانا اور اس کی لڑکی کے نکاح کے لیے خواستگاری کرنا سنی و شیعہ دونوں کی کتابوں میں منقول ہے۔ تو کیا اس میں سیّدہ کی توہین نہیں۔؟*
علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا ابو جہل کے دروازے پر جانا اور اس کی لڑکی کے نکاح کے لیے خواستگاری کرنا اہلِ سُنّت اور اہلِ تشیع دونوں کی کتابوں میں منقول ہے۔ تو کیا اس میں سیّدہ رضی اللہ عنھا کی توہین نہیں۔؟
♦️ *جوابات اہلسنّت* ♦️
سیّدنا علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے یہ فعل واقعی ثابت ہے۔ لیکن جب تک کوئی امر خُدا اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صراحتًا ممنوع نہ ہو چُکا ہو تب تک وہ درجۂ اباحت میں رہتا ہے۔ جب قرآن مجید میں:-
{فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ }
کے پیشِ نظر ایک بیوی کے بعد دوسری بیوی کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت تھی، نیز حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا عمل اس کی تائید میں تھا۔ تو سیّدنا علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا یہ عمل قابلِ اعتراض نہ رہا۔ ہاں اگر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کر دیا ہوتا اور منع کے بعد سیّدنا علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے یہ اقدام ثابت ہوتا تو یہ قابلِ جرم ہو سکتا تھا اور ألحمدللّٰہ سیّدنا علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اس سے پاک ہیں۔