شیعت کی تخریب کاریاں تاریخ کے آئینہ میں - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعت کی تخریب کاریاں تاریخ کے آئینہ میں

  ابو عبداللہ

صفحہ 1 از 2

شیعت کی تخریب کاریاں تاریخ کے آئینہ میں

اسلام کی پوری تاریخ کا مطالعہ کر لیں خلافتِ راشدہ ہو خلافتِ بنو اُمیہ ہو یا خلافتِ عباسیہ اور دورِ خلافت عثمانیہ ہو یا تاریخ بر صغیر اسلام کی پوری تاریخ میں ان شیعہ رافضیوں کی فتنہ انگیزی ظلم و شقاوت اور بلیک میلنگ واضح نظر آئے گی اگر ہم ان کی تفصیل لکھنے بیٹھ جائیں تو بہت سے دفاتر بھی کم پڑ جائیں گے اس لئے مختصراً چند تاریخی حقائق بیان کئے دیتے ہیں عہدِ بنواُمیہ میں تو اس فتنہ کی دانست میں حادثہ کربلا اور فتنہ مختار ثقفی ہی اس کے بہت بڑے کارنامے ہیں مگر اس کے بعد بھی اس فتنہ نے زیرِ زمین کام جاری رکھا اور عربوں میں باہمی تعصب پیدا کر کے دولت بنواُمیہ کی جڑیں کھوکھلی کر دیں اور شاہ ایران کے بھی نمک خوار ابو مسلم خراسانی نے نہ صرف ہزاروں عربوں کو تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا بلکہ بنواُمیہ کی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا دے کر خلافتِ عباسیہ کا محسن بن بیٹھا اس نے اپنے اثر و رسوخ کی بدولت حادثہ کربلا کو آڑ بنا کر ایران میں ایک بھی عربی کو سلامت نہ چھوڑا ابو مسلم خراسانی کے بعد اور بھی چھوٹے بڑے بہت سے فتنے اٹھتے رہے مگر کوئی فتنہ آلِ برمک سے زیادہ شدید نہ تھا، چونکہ یہ بھی آتش کدہ ایران کے فرزند تھے اس لئے بڑے ساحرانہ انداز میں خلافتِ عباسیہ کو بلیک میل کر کے پورے اسلامی معاشرے کو ایرانی مجوسی رنگ میں رنگنے کے لئے زندیقیت کو فروغ دیا اور خلافتِ عباسیہ کو ختم کرنے کی کوشش کی اس کے لئے انہوں نے اپنے تمام وسائل اور اختیارات کو استعمال کیا تاکہ اسلامی ثقافت اور عقائد کی عمارت زمین بوس ہو جائے مگر ابو مسلم خراسانی کی طرح آلِ برمک بھی اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوئے آلِ برمک کے بعد بھی اس فتنہ پرور گروہ نے خلافتِ عباسیہ کو اپنی تلبیسانہ کاوشوں سے کبھی تو شیعی اور کبھی معتزلی فلسفہ کی طرف راغب کرنا چاہا مگر مستقل کامیابی نہ ملنے کی صورت میں کھلی دہشت گردی کے ذریعے بویہہ خاندان نے نئے خلیفہ کو یرغمال بنالیا یہ لوگ نسلاً ایرانی اور ذات کے ماہی گیر تھے آتش انتقام انہیں وراثت میں ایران سے ملی تھی اسی لئے یہ لوگ انتہائی متعصب شیعہ تھے اور ان کا تقریبا سوا سو سالہ دورِ اقتدار ظلم و بربریت کی تاریخ ہے انہوں نے بغداد میں لاکھوں سنیوں کو قتل کیا اور یومِ عاشورہ بزور جبر تمام کاروبار بند کر کے مسلح ماتمی اور تبرائی جلوس نکالنے اور عیدِ غدیر جیسی بدنام زمانہ مجوسی رسوم مسلط کرنے کی کوششیں کیں یہی دور تھا جب شیعی عقائد کی پہلی کتاب اصول کافی، شیعہ فقہ کی پہلی کتاب فروغ کافی اور آئمہ کی تاریخ اور مواعظ پر پہلی کتاب روضة الکافی مشہور شیعہ عالم ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی نے لکھیں۔

یہی وہ فسادی تھے جنہوں نے ایک ایرانی مجوسی لوہار کے لڑکے کو اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے فاطمی بنا کر خلافتِ عباسیہ کے مقابل ابو محمد عبید اللہ المہدی سے لیکر العاضد لدین اللہ تک تقریباً پونے تین سو سال تک عبیدی حکومت قائم کی اس حکومت کی چیرہ دستیوں اور تعصب کی وجہ سے لاکھوں مسلمان شہید کئے گئے کتنے ہی مسلمانوں کو بزور جبر شیعہ بنا گیا اس حکومت کے اسلام دشمن رویہ کی وجہ سے عیسائیوں کو صلیبی جنگوں کا حوصلہ ہوا انہیں کی شہ سے عیسائیوں نے 494ھجری میں بیت المقدس میں ہزاروں مسلمانوں کو ذبح کیا یہی وہ منحوس حکومت تھی جس نے اپنے سر خلافت کا خود ساختہ تاج پہن کر عیسائیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسلام کی شکل بگاڑنے اور نظامِ خلافت کی مرکزیت ختم کرنے کی بھر پور کوششیں کیں۔ اسی نے شام کے رشید الدین سنسان اور فاطمین مصر نے صلاح الدین ایوبیؒ کے مقابلے میں ہمیشہ عیسائیوں کی مدد کی۔ عباسی دور کو وہ دلخراش منظر بھی دیکھنا پڑا جب لا تعداد مسلمانوں کا قاتل بد باطن ابو طاہر قرمطی14ذالحجہ 317ھجری کو بہت سے حجاج کو شہید کر کے حجرا اسود اکھاڑ کر لے گیا اور 4 دن کم بائیس سال بعد 10محرم 339ھجری کو بوجہ مجبوری واپس کیا اور بعض روایات کے مطابق تیس ہزار دینار کے عوض واپس کیا اسی ہی خلافتِ عباسیہ کے آخری دور میں ایک ایسا شیعی فتنہ پیدا ہوا جس کی مثال پوری تاریخ اسلام میں نہیں مل سکتی یہ فتنہ ایران کے شہر رے کا مجوسی النسل حسن بن صباح تھا اس نے بہت سے شیعوں کو اکھٹا کر کے اپنا طاقتور گروہ بنایا تھا۔ 

صفحہ 1 از 2