Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نمارق سقاطیہ اور باروسما کے معرکے

  علی محمد الصلابی

 معرکہ نمارق 13 ہجری

حضرت ابوعبید ثقفی رحمہ اللہ کے عراق پہنچنے اور وہاں کی فوجی کمان ہاتھ میں لینے کے بعد یہ معرکہ پیش آیا۔ دراصل اہل فارس کا مقصد یہ تھا کہ اس معرکہ کے گرمانے والے یعنی ابوعبید ثقفیؒ کو نفسیاتی طور پر دبا دیں اور عراقیوں کے دل میں اپنی کامیابی اور فتح کے قوی ارادوں کی پیشگی دھاک بٹھا دیں، چنانچہ انہوں نے اندرونی طور پر اپنی قوت مضبوط کی، لاؤ لشکر تیار کیا اور مسلمانوں کو ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف سے گھیرنا شروع کیا۔ دوسری جانب عراق کے جاگیرداروں کو لکھا کہ اپنے علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت کی آگ بھڑکائیں اور تمام اضلاع میں ایک نقیب مقرر کیا جو وہاں کے باشندوں کو بغاوت کے لیے تیار کرے، چنانچہ ’’جابان‘‘ کو حکم دیا کہ فرات کے ساحلی علاقوں سے ہوتا ہوا ’’ببہقباذ‘‘ پہنچے اور ’’نرسی‘‘ اور ’’کسکر‘‘ پہنچے اور ایک لشکر روانہ کیا تاکہ وہ وہاں پہنچ کر لشکر تیار کریں اور وہاں سے مثنیٰ کی زیر قیادت اسلامی فوج پر حملہ کریں، مثنیٰ کو دشمن کے یکجا ہونے کی جب خبر ملی تو آپؓ نے اپنے ہتھیار بند مجاہدین کو ایک مقام پر سمیٹنا شروع کیا اور دوسری طرف عراقی جاگیرداروں نے بغاوت کا اعلان کر دیا، تمام اضلاع میں ایرانی ہرکاروں نے انقلاب کی آگ بھڑکانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور یکے بعد دیگرے ان کے علاقوں سے شر و فساد کی خبریں آنے لگیں۔ ابوعبید اور مثنیٰ اپنا اپنا لشکر لے کر ’’خفان‘‘ پہنچے اور مورچہ بندی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ پھر ’’نمارق‘‘ کے میدان میں دونوں افواج صف آراء ہوئیں اور گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اس معرکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل فارس کو شکست دی۔ ایرانی فوج کا سپہ سالار ’’جابان‘‘ اور اس کے میمنہ کا افسر ’’مردان شاہ‘‘ دونوں گرفتار کر لیے گئے۔ یاد رہے کہ انہی دونوں نے مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت کی آگ بھڑکانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔

(حرکۃ الفتح الإسلامی: شکری فیصل: صفحہ 72) ’’جابان‘‘ کو مطر بن فضہ تمیمی نے گرفتار کیا تھا، وہ نہیں جان سکے کہ میرا قیدی حقیقت میں ایرانی فوج کا سپہ سالار ’’جابان‘‘ ہے۔ ’’جابان‘‘ نے ان کو دھوکا دیا اور کہا کہ کچھ معاوضہ لے کر مجھے رہائی دے دو۔ مجاہدین نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور پکڑ کر ابوعبیدؒ کے پاس لائے اور بتایا کہ یہ ایرانی لشکر کا سپہ سالار ہے، اسے قتل کر دیا جائے۔ حضرت ابوعبیدؒ نے فرمایا: میں اللہ سے خوف کھاتا ہوں، بھلا اس شخص کو کیوں قتل کر سکتا ہوں جسے ایک مسلمان امان دے چکا ہو۔ مسلمان باہمی تعاون و محبت میں ایک جسم کی مثال ہیں، جو فرض کسی ایک مسلمان پر لازم ہو وہ سارے مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ ایرانی فوج کا قائد ہے۔ آپ نے کہا: قائد ہے تو رہا کرو، میں اس کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا اور پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 87) اس واقعہ میں ابوعبیدؒ ثقفی کا مؤقف مسلمانوں کے عفو و درگزر اور وعدہ وفائی کی ایک لازوال مثال ہے اگرچہ کسی ایک فرد ہی نے اسے مان لیا ہو۔ بے شک لوگوں کو مسلمان بنانے اور انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے میں ان بلند اخلاق کا بہت بڑا اثر تھا، چنانچہ جیسے جیسے غیر مسلموں میں اس بات کا چرچا ہوتا کہ مسلمانوں نے ایرانی فوج کے عظیم قائد کو محض اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ مسلمانوں کے عام آدمی نے فدیہ لے کر اسے چھوڑ دینے کا وعدہ کر لیا تھا تو وہ دین اسلام کی طرف کشاں کشاں چلے آتے۔ دراصل یہ دین اسلام کا کمال تھا جس نے ان جیسے افراد کو جنم دیا تھا۔

اس مقام پر ہم حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کے شاندار مؤقف کو بھی نہیں بھول سکتے کہ وہ خود کو حضرت ابوعبیدؒ کی امارت کے تابع کر دیتے ہیں جب کہ خود عراق کے قدیم سپہ سالار رہ چکے ہیں۔ حضرت ابوعبیدؒ ابھی پہلی مرتبہ وہاں آ رہے ہیں۔ اس فرماںبرداری کی روح تھی کہ امیر المؤمنین نے حضرت ابوعبیدؒ کو امیر بنا کر بھیجا تھا، قابل رشک ہیں وہ سپہ سالار اور ان کے ماتحت فوجی۔ حضرت مثنیٰؓ فطری طور پر ان اوصاف حمیدہ کے زیور سے آراستہ تھے، اس سے پہلے وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ بھی اسی طرح کر چکے تھے۔ اسلام کے لیے ان کی محبت و فریفتگی میں کبھی کوئی بدلاؤ نہیں آیا خواہ وہ سپہ سالار فوج رہے ہوں یا ایک عام سپاہی اور ایسا کیوں نہ ہوتا نابغہ روزگار ہستیاں اسی طرح ہوا کرتی ہیں۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 334)