Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کسکر میں معرکہ سقاطیہ

  علی محمد الصلابی

 حضرت ابوعبید ثقفیؒ نے معرکہ نمارق میں فتح پانے کے بعد ایران کی شکست خوردہ فوج کا پیچھا کیا، اس نے بھاگ کر ’’کسکر‘‘(کوفہ اور بصرہ کے درمیان ایک قصبہ ہے) میں پناہ لی، یہاں کی فوجی قیادت کسریٰ کے خالہ زاد بھائی ’’نرسی‘‘ کے ہاتھ میں تھی۔ نرسی نے ابوعبیدؒ سے پنجہ آزمائی کے لیے ان لوگوں سے بھر پور تعاون و تائید کی۔ ’’سقاطیہ‘‘ (واسطہ کی سر زمین میں ’’کسکر‘‘ کا ایک سرحدی علاقہ ہے) میں ان کی حضرت ابوعبیدؒ سے معرکہ آرائی ہوئی، آپ نے ان کو ذلت آمیز شکست دی اور بہت کچھ اموال غنیمت اور کھانے پینے کی چیزیں حاصل ہوئیں۔ 

(تاریخ الطبری: جلد صفحہ 272) نرسی شکست خوردہ ہو کر وہاں سے بھاگ نکلا اور مسلمانوں نے اس کے لشکر و اراضی پر قبضہ کر لیا۔ اس کے خزانوں میں سے کافی بیش قیمت چیزیں مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔ اس معرکہ میں جس چیز کو پا کر مسلمان سب سے زیادہ خوش تھے وہ ’’نرسیان‘‘ (انتہائی عمدہ قسم کی کھجور کا نام ہے۔ (مترجم) کھجور کے درخت تھے۔ ’’نرسی‘‘ خاص طور پر اس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ یہ کھجوریں شاہان ایران کی من بھاتی کھجوریں تھیں۔ مسلمانوں نے وہ کھجوریں آپس میں تقسیم کیں اور عراق کے کاشت کاروں کو بھی کھلائیں، نیز اس کا خمس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور لکھا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی غذاؤں سے نوازا ہے جسے شاہان ایران اپنے لیے مخصوص رکھتے تھے، ہماری خواہش ہے کہ آپؓ بھی اسے دیکھیں اور اللہ کے فضل و کرم کو یاد کریں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 272) اس واقعہ میں ہمیں مسلمانوں کے ایک عظیم اخلاقی و مثالی کردار کی طرف اشارہ ملتا ہے، وہ یہ کہ ایک زمانے سے انسانی حقوق سے محروم اور زخم خوردہ جذبات و شکستہ دل کسانوں کو ان کی انسانی عظمت کا احساس دلایا اور انہیں ان کے بادشاہوں کا شاہی کھانا کھلایا، جسے کھانا ان کے لیے اس سے پہلے حرام ہوتا تھا۔ گویا کہ مسلمان فاتحین زبان حال سے گویا تھے کہ ’’اس عظیم دین اسلام کو قبول کر لو جو تمہارے مرتبہ کو بڑھاتا ہے اور شاہان عجم کی غصب کردہ تمہاری انسانی کرامت تمہیں واپس دلاتا ہے۔‘‘

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 335) حضرت ابوعبیدؒ کسکر میں قیام پذیر ہوئے اور ایرانی فوج کو پیچھے دھکیلنے نیز جن کسانوں نے مسلمانوں کا عہد و پیمان توڑ کر اہل فارس کی مدد کی تھی انہیں سزا دینے کے لیے اپنی فوج اطراف و جوانب میں پھیلا دی، اس طرح ’’کسکر‘‘ کے علاقہ میں مسلمان بھاری پڑ گئے۔ اس فتح و نصرت الہٰی کے بعد ایرانی علاقوں کے کچھ والیان ریاست و جاگیرداران ابوعبیدؒ کے پاس صلح کی خواہش لے کر آئے، ان میں سے دو والیان ریاست نے اپنا اعلیٰ و عمدہ کھانا ابوعبیدؒ کی ضیافت میں پیش کیا اور کہا: یہ آپ کی ضیافت ہے، اس کے ذریعہ ہم آپ کی قدر اور عزت و تکریم کرنا چاہتے ہیں۔ ابوعبیدؒ نے پوچھا: کیا تم نے میرے لشکر کے تمام لوگوں کی اسی طرح اعزاز و اکرام سے ضیافت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ابھی تو ہم سب کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے ہیں لیکن ضرور ایسا کریں گے۔ حضرت ابوعبیدؒ نے فرمایا: مجھے ایسے کھانوں کی کوئی ضرورت نہیں جو ہمارے تمام سپاہیوں کے لیے کافی نہ ہو۔ ابوعبیدؒ کی بات سن کر وہ سہم گئے اور اپنے بارے میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ ابوعبیدؒ نے کہا: کیا میں نے تم کو نہیں بتلایا کہ میں اس کھانے کو اس وقت تک ہاتھ نہیں لگانے والا ہوں جب تک کہ میرے ساتھ لڑنے والے میرے تمام مجاہدین کو یہی کھانا نہ مل جائے۔ انہوں نے کہا: آپ کے لشکر کے تمام مجاہدین کو ان کے ٹھکانوں پر یہی کھانا شکم سیر کر کے کھلایا جا چکا ہے۔ پھر جب آپ نے اس کی تحقیق کر لی تو ان کی ضیافت قبول فرمائی۔ آپ نے کھانا خود بھی تناول فرمایا اور آپ کے ساتھ جو لوگ مہمان ہوا کرتے تھے انہیں بھی کھانے کے لیے بلا بھیجا۔ حالانکہ اہل فارس کی طرف سے ان کی بھی مہمان نوازی ہو چکی تھی۔ ہمیشہ آپ کے ساتھ کھانے والے رفقاء کو یہ پتہ نہیں تھا کہ حضرت ابوعبیدؒ کی خدمت میں انواع و اقسام کے عمدہ و لذیذ کھانے پیش کیے گئے ہیں، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ روزانہ کی طرح آج بھی کھانا ویسا ہی ہو گا اور جو کھانا انہیں پیش کیا گیا تھا اسے چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ جو آدمی انہیں کھانے کے لیے بلانے آیا تھا اس سے انہوں نے کہلوا دیا کہ جاؤ اور ہمارے امیر لشکر سے کہہ دو کہ ہمیں اب مزید کھانے کی خواہش نہیں ہے۔ امیر لشکر ابوعبیدؒ نے پھر ایک آدمی کو یہ کہلا کر بھیجا کہ یہاں شاہان عجم کے کھانوں کی ارزانی و فراوانی ہے، ہمارے پاس آ جاؤ اور دیکھو کہ جسے تم کھا رہے ہو اس کے مقابلے میں اس کی کیا شان ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 272، 273) اس طرح خاکسار و صاحب کمال امیر لشکر نے دو مرتبہ عجمی جاگیرداروں کی ضیافت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور تیسری مرتبہ جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ جس طرح یہ لوگ میری ضیافت کرنا چاہتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بہتر انداز میں میرے لشکر کے تمام افراد کو وہ یہی کھلا چکے ہیں تب آپؒ نے کھانا تناول فرمایا۔ مزید برآں تنہا کھانا پسند نہ کیا، بلکہ اپنے مہمانوں کو بلوایا اور ان سے کھانے کے لیے اصرار کیا، نوع بہ نوع کھانوں کا ذکر کیا تاکہ وہ بھی کھانے میں شریک ہو جائیں اور جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ وہ بھی میری طرح جاگیرداران عراق کا عمدہ کھانا کھا رہے ہیں تب آپ نے لقمہ اٹھایا۔ یہ ہے بلند اخلاق اور عزت کا ایک نمونہ اور کیوں نہ ہو کہ اخلاق فاضلہ کامیاب حکومت کا ایک اہم عنصر ہوا کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین رحمہم اللہ کے یہ مواقف ہمیں سامان عبرت دیتے ہیں کہ دیکھو وہ اخلاقی بلندی اور تہذیب و تمدن کی ترقی کے کتنے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 336)