معرکہ باروسما 13 ہجری
علی محمد الصلابیاسلامی فوج، ایرانی افواج کو سقاطیہ میں شکست دینے کے بعد سقاطیہ کے درمیان ’’باروسما‘‘ نامی ایک مقام پر ایرانیوں سے محاذ آرا ہوئی، نرسی کے میمنہ اور میسرہ پر اس کے دو ماموں زاد بھائی ’’بندویہ‘‘ اور ’’بیرویہ‘‘ تھے اور رستم ہزیمت کی خبر ملنے کے بعد جالینوس کو فوج دے کر ’’نرسی‘‘ کی مدد کے لیے روانہ کر چکا تھا۔ جب حضرت ابوعبیدؒ کو اس کی اطلاع ہوئی تو ’’نرسی‘‘ تک جالینوس کی مدد پہنچنے سے پہلے ہی اس پر حملہ کر دیا۔ دونوں فوجوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی بالآخر ایرانی فوج شکست کھا گئی اور نرسی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا، اس کے بعد حضرت ابوعبیدؒ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ اور دیگر فوجی دستوں کو عراق کے نشینی علاقوں مثلاً نہرجور وغیرہ میں روانہ کیا۔ انہوں نے ان علاقوں کو کہیں صلح اور کہیں جنگ کے ذریعہ فتح کیا اور وہاں کے لوگوں پر جزیہ و خراج نافذ کرتے ہوئے بہت سارا مال غنیمت لے کر واپس ہوئے۔ انہوں نے جالینوس کی فوج کی بھی کمر توڑ دی تھی جو جابان کی مدد کے لیے آ رہی تھی، اس کی فوج کا اسلحہ وغیرہ مال غنیمت کی شکل میں ہاتھ آیا اور وہ ذلت و حقارت کی کالک ملتے اپنی قوم کی طرف بھاگ گیا۔
(ترتیب وتہذیب: البدایۃ والنہایۃ: محمد صامل السلمی: صفحہ 89) اس طرح نہایت مختصر مدت میں پے در پے تین ایرانی لشکروں کا صفایا ہو گیا؛ حالانکہ اہل فارس کے لیے ممکن تھا کہ اپنی فوج کو اکٹھا کر لیں اور کثرت تعداد کی بنا پر مسلمانوں کو ان کے آگے پیچھے دائیں اور بائیں ہر طرف سے گھیر لیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں ہونے دیا بلکہ دشمن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور وہ مسلمانوں سے اس قدر مرعوب و خوفزدہ ہو گئے کہ ان کا ہر سپہ سالار یہی تمنا کرتا تھا کہ کاش میری جگہ دوسرے کو مقابلہ کرنا پڑتا اور وہ مسلمانوں کو کمزور کر دیتا تو بہتر ہوتا، ان تمام معرکوں میں مسلمانوں کی فوجی پیش قدمی اور دشمن کی سست رفتاری نے مسلمانوں کو خوب فائدہ پہنچایا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 337)