معرکہ جسر 13 ہجری
علی محمد الصلابیایرانی فوج کا سپہ سالار جالینوس جب مسلمانوں سے شکست خوردہ ہو کر فارس واپس لوٹا تو اہل فارس نے اسے اور اس کی فوج کو کافی ملامت کی اور غرور کی پیشانی سے ذلت و ہزیمت کا پسینہ دھونے کے لیے آپسی اختلافات بھلا کر رستم کی حکمرانی پر سب متفق ہو گئے اور رستم نے ذو الحاجب بہمن جاذویہ کی قیادت میں بہت بڑی فوج مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے روانہ کی اور اسے چیتے کی کھال کا بنا ہوا ’’درفش کاویانی‘‘ عظیم پرچم نامی کسروی جھنڈا دیا، اہل فارس کی نگاہوں میں وہ جھنڈا متبرک مانا جاتا تھا، گویا وہ اسے فتح کی علامت سمجھ رہے تھے۔ اس کا طول بارہ ہاتھ اور عرض آٹھ ہاتھ تھا۔ ایرانی فوج مسلمانوں کے قریب پہنچی، دونوں کے درمیان ایک نہر تھی جس پر پل بنا ہوا تھا۔ انہوں نے مسلم افواج سے کہا: یا تو تم دریا عبور کرو یا ہم عبور کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے امیر ابوعبیدؒ کو مشورہ دیا کہ آپ دشمن ہی کو دریا عبور کرنے دیں۔ لیکن حضرت ابوعبیدؒ نے کہا: وہ ہم سے زیادہ موت پر دلیر نہیں ہیں، دریا ہم عبور کریں گے۔ پھر آپ دشمن کی طرف بڑھے اور اپنی فوج لے کر ایک تنگ جگہ پر اکٹھا ہوئے اور دونوں افواج میں ایسی زبردست جنگ ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی اس کی مثال نہیں ملتی تھی، اسلامی فوج کی تعداد تقریباً دس ہزار تھی جب کہ ایرانی فوج کے ساتھ ہاتھیوں کا ایک عظیم لشکر تھا۔ مسلم افواج کے گھوڑوں کو بدکانے کے لیے ان کے گلوں میں گھنٹیاں باندھے ہوئے تھے۔ وہ جب مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے تو گھوڑے ان ہاتھیوں اور گھنٹی و گھنگرو کی آوازوں سے بدک جاتے۔ کافی مجبور کرنے پر بہت کم ہی گھوڑے میدان میں ٹک سکے اور جب مسلمان حملہ آور ہوئے تو ان کے گھوڑے آگے بڑھنے کو تیار نہ ہوئے۔ ادھر فیل نشین ایرانی فوج مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر دیتی، اس طرح مسلمانوں کے اوسان خطا ہو گئے اور بہت سے فوجی شہید ہو گئے تاہم انہوں نے ایرانی فوج کے چھ ہزار سپاہیوں کو مار گرایا۔
(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 90) بہرحال جب ہاتھیوں کے گردن میں لٹکتی ہوئی گھنٹی کی آوازوں سے مسلمانوں کے گھوڑے بدک رہے تھے اور مسلمان ایرانی فوج تک پہنچنے سے عاجز نظر آ رہے تھے، کیونکہ ہاتھی ان کی صفوں کو منتشر کر دیتے تھے، ایسے وقت میں ابوعبیدؒ اپنے گھوڑے سے کود پڑے، ان کو دیکھ کر دوسرے مسلم فوجی بھی اپنے گھوڑوں سے کود گئے اور تلواریں لے کر ایرانی فوج سے گتھم گتھا ہو گئے۔ ایرانی فوج کے فیل بانوں، شہ سواروں اور پیدل چلنے والوں سپاہیوں کا مقابلہ کرنے لگے۔ ایرانی فوج مسلمانوں کو تیروں کا نشانہ بنا رہی تھی اور مسلمان بڑی بے جگری سے مورچہ لیتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے تھے، لیکن گھوڑوں کے آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے مات کھا جاتے۔ ان کی تاریخ کا یہ بہت ہی مشکل وقت تھا۔ تاہم ایسے نازک وقت میں انہوں نے جس جانبازی اور قربانی کا مظاہرہ کیا انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ وہ اسلام کے جانباز سپوت اہل فارس کے سامنے ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ باوجودیکہ دشمن کے پاس جنگ کے تمام اسباب اور تدبیریں موجود تھیں اور ہاتھی ان کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوئے جس کا مسلمانوں کو سامنا تھا۔ وہ ہاتھی جدھر رخ کرتے فوج کی صفوں کو منتشر کر دیتے۔ حضرت ابوعبیدؒ نے اپنے مجاہدین کو آواز دی اور کہا کہ ہاتھیوں پر دھاوا بولو، پالان کی رسیوں کو کاٹ دو اور ان پر سوار فوج کو الٹ دو۔ سب سے پہلے آپ ہی نے بڑے سفید ہاتھی پر حملہ کیا اور اس کی رسی کو کاٹ دیا اور جتنے ایرانی فوجی اس پر سوار تھے سب گر پڑے، دوسرے مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا جو ہاتھی سامنے آتا اس کے پالان کی رسیاں کاٹ دیتے اور اس پر سوار کو الٹ دیتے پھر انہیں قتل کر دیتے، لیکن ہاتھی برابر حملے کرتے رہے کیونکہ انہیں جنگی ٹریننگ دی گئی تھی۔ حضرت ابوعبیدؒ نے پہلی فرصت میں ان کو ختم کرنا چاہا اور اس سلسلے میں تدبیریں کرنے لگے، آپ کے ساتھیوں نے بتایا کہ اگر ان کی سونڈ جڑ سے کاٹ دی جائیں تو وہ مر جائیں گے چنانچہ آپ نے سفید ہاتھی پر حملہ کیا اور اس کی سونڈ پر زور دار تلوار ماری، لیکن خود ہاتھی کی لپیٹ میں آ گئے، اس نے آپ کو پٹخ دیا اور پھر پاؤں کے نیچے رکھ کر روند دیا۔ آپ کے بعد لشکر کا جھنڈا آپ کے بھائی حکم بن مسعودؒ نے اٹھا لیا۔ انہوں نے بھی ہاتھی کو مار کر ابوعبیدؒ سے اس کو دور کر دیا، لیکن ہاتھی نے ان کے ساتھ بھی ابوعبیدؒ ہی جیسا کیا یعنی سونڈ میں لپیٹ کر پٹخ دیا اور پاؤں سے کچل دیا۔ پھر یکے بعد دیگرے جن لوگوں کو ابوعبیدؒ نے علم بلند کرنے کے لیے نامزد کیا تھا باری باری وہ سب جھنڈا اٹھاتے رہے، انہی لوگوں میں ابوعبیدؒ کے تینوں فرزند وہب، مالک اور جبر بھی تھے۔ اس طرح سب کے سب شہید کر دیے گئے اور سورج غروب ہوتے ہوئے سب سے آخر میں حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی، اس وقت تک بعض مسلمان پیچھے ہٹتے اور کھسکتے پل کے اس پار اتر چکے تھے اور کچھ میدان چھوڑ کر پیچھے آ رہے تھے، عبداللہ بن مرثد ثقفیؒ نے جب دیکھا کہ مسلم فوج میدان چھوڑ کر بھاگنا چاہتی ہے تو انہوں نے جلدی سے دریا پر بنا ہوا پل توڑ دیا اور کہنے لگے جس طرح تمہارے امراء و قائدین نے لڑتے لڑتے جانیں دی ہیں، اسی طرح تم بھی جان دے دو یا کامیاب ہو کر لوٹو، وہ لوگوں کو دریا عبور کرنے سے روکنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ بعض لوگ ان کو پکڑ کر حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کے پاس لائے۔ آپ نے غصہ سے ان کو مارا اور کہنے لگے: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یعنی پل کیوں توڑ ڈالے؟ انہوں نے کہا: تاکہ فوج جم کر جنگ لڑے۔ دراصل عبداللہ بن مرثد نے اپنے اجتہاد کی بنا پر یہ اقدام کیا تھا، حالانکہ ان کا اجتہاد نامناسب مقام پر تھا۔ اس لیے کہ پل کا ٹوٹ جانا ایرانیوں کے دباؤ سے بھاگتے ہوئے بہت سارے مسلمانوں کے دریا میں غرق آب ہونے کا سبب بن گیا۔ اس وقت کی مناسب فکر تو یہ تھی کہ جس قدر ممکن ہو سکے پیچھے ہٹ کر بقیہ مسلمانوں کی جان بچائی جائے اور حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے یہی حکمت عملی اختیار بھی کی۔ دوبارہ پل باندھنے کا حکم دیا اور خود چند مسلم جانبازوں کو ساتھ لے کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئے اور اپنی فوج کی پشت پناہی کرنے لگے یہاں تک کہ سب دریا پار اتر گئے۔ آپ اس وقت کہہ رہے تھے: اے لوگو! ہم تمہارے لیے دشمنوں کو روک رہے ہیں۔ اپنی رفتار سے پل پار کرتے رہو، گھبراؤ نہیں ہم یہاں سے ہٹنے والے نہیں، یہاں تک کہ تم کو دریا کے اس پار دیکھ لیں، بھگدڑ مچا کر خود کو دریا میں غرق مت کرو، اس طرح حضرت مثنیٰؓ اور آپ کے ساتھی عاصم بن عمرو اور کلج ضبی وغیرہ مرد میدان نے سب سے آخر میں دریا عبور کیا۔ بہمن جاذویہ یہ چاہتا تھا کہ بچے کھچے مسلمانوں پر بھی اسی وقت حملہ کر دے اور اس کے لیے وہ آگے بھی بڑھا لیکن پھر ہمت نہ کر سکا۔ حضرت مثنیٰؓ نے اسے کوئی موقع نہ دیا اور منظم شکل میں اپنے ساتھیوں کو پیچھے کھینچ کر محفوظ کر لیا۔ یہ جانباز جنہوں نے مسلمانوں کو پیچھے کر کے خود دشمن کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ تمام مسلمان دریا عبور کر گئے، بے شک وہ دشمن کے سامنے ایک پہاڑ تھے۔ اسلامی فوج نے میدان کارزار میں پانچ ہزار شہداء کو چھوڑ کر بقیہ پانچ ہزار کی تعداد میں دریا عبور کیا۔ ان شہداء میں اکثر صحابہؓ تھے، بالخصوص اس میں وہ لوگ شہید ہو گئے جو ابوعبیدؒ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور پانچ ہزار کی جو تعداد میدان جنگ سے واپس آ گئی تھی ان میں سے دو ہزار مدینہ وغیرہ واپس چلے گئے اور صرف تین ہزار حضرت مثنیٰؓ کے ساتھ باقی رہے۔ واضح رہے کہ مسلمانوں نے اس معرکہ میں بے حد نامساعد و ابتر حالات کے باوجود چھ ہزار ایرانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا، دشمن کو اس قدر خسارہ پہنچانا درحقیقت مسلمانوں کی بہادری اور ان کی قوت تحمل کی دلیل ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 279، التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 341)