Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ اپنے لشکر میں عزم و حوصلے کی روح پھونکتے ہیں

  علی محمد الصلابی

پچھلے صفحات میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حضرت مثنیٰؓ دس ہزار اسلامی افواج میں سے صرف پانچ ہزار کو بچا سکے اور انہیں لے کر میدان سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہیں دو ایرانی کمانڈروں یعنی ’’جابان‘‘ اور ’’مردان شاہ‘‘ نے پیچھے دھکیل کر ’’الیس‘‘ سماوہ تک پہنچا دیا تھا۔ حضرت مثنیٰؓ نے انہیں کافی لمبی مسافت میں اندر آنے دیا اور وہ خوب اندر گھس بھی گئے۔ حضرت مثنیٰؓ چاہتے تھے کہ ان پر اس وقت تک دفاعی حملہ نہ کیا جائے جب تک کہ آپ پیچھے ہوتے ہوتے الیس تک نہ پہنچ جائیں۔ چنانچہ جب اس مقام تک پہنچے تو اپنے شہسواروں کے ساتھ بجلی کی طرح بڑھ کر ان پر حملہ کیا اور پھر دونوں ایرانی افواج کو زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی فوج حواس باختہ ہو گئی اور ان کے وہم و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ایسا انسان جس کے لشکر کا کافی حصہ ضائع ہو چکا ہو وہ اس طرح عزم و جانبازی کا مظاہرہ کرے گا جس سے تلوار کند پڑ جائے۔ بہرحال ایرانی فوج کی حواس باختگی اور افراتفری نے اسے بہت نقصان پہنچایا یہاں تک کہ حضرت مثنیٰؓ نے دونوں ایرانی کمانڈروں جابان اور مردان شاہ کو گرفتار کر لیا اور پھر انہیں تہ تیغ کیا۔ اس نصرتِ الہٰی کا زبردست اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کی باقی ماندہ فوج کے عزم و حوصلے بلند ہو گئے اور وہاں کے باشندگان کے حوصلے پست ہو گئے اور خود حضرت مثنیٰؓ کے لشکر کی نگاہوں میں اور قرب و جوار کے قبائل میں ان کی اہمیت اور مقام و مرتبہ میں اضافہ ہو گیا۔

(الحرب النفسیۃ: دیکھیے: أحمد نوفل: جلد 2 صفحہ 167)