حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو مار دیا،رات کو پوشیدہ جنازہ پڑھایااور قتل چھپانے کی خاطر وصیت مشہور کر دی تھی۔
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندسیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا آٹھواں اعتراض
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو مار دیا ، رات کو پوشیدہ جنازہ پڑھایا اور قتل چھپانے کی خاطر وصیّت مشہور کر دی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ علی المُرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رات کو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا جنازہ اس لیے پڑھایا تھا تاکہ پوشیدہ راز عیاں نہ ہو جائے۔ اور پوشیدہ راز یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کو مار دیا تھا اور قتل چھپانے کی خاطر وصیّت مشہور کر دی تھی۔
جوابات اہلسنّت
جواب 1: سراسر جاہلانہ تخیّل ہے، ذرہ بھر بھی یہ بات پایۂ ثبوت تک نہیں پہنچ سکی۔
جواب 2: سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور سیّدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے درمیان رشتہ داری کی حیثیت سے جو قرب ہے وہ کسی کے مابین نہیں۔ پس اس خصوصی تعلق کے پیشِ نظر اس قسم کا وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔