مخلص مسلمان جب بھی کسی مصیبت میں واقع ہوئے اللہ نے اسباب پیدا کر کے انہیں مصیبت سے نکالا
علی محمد الصلابیسیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی معمولی تعداد کے ساتھ عراق میں باقی رہے، وہ اتنے بھی نہ تھے کہ مسلمانوں نے جن علاقوں کو فتح کیا ہے کم از کم انہی کی حفاظت کر سکیں۔ ایسے وقت میں اہل فارس کے لیے بہت آسان تھا کہ مسلمانوں کی اس مختصر سی فوج پر حملہ کر دیں اور انہیں عراق سے نکال باہر کر دیں۔ اس موقع پر انہیں ایسے عرب معاونین کے مل جانے کی بھی توقع تھی جو مسلمانوں کو صحرا میں کھدیڑتے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مومن جماعت کا ساتھ دیا اور وہ ہمیشہ ہر مقام پر اپنے مومن بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کبھی مخلص مسلمان کسی مشکل میں پھنسے اللہ نے مشکلات سے نکالنے کے لیے ان کے سامنے اسباب پیدا کر دیے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا، اللہ تعالیٰ نے ایسا سبب پیدا کر دیا کہ وہ مسلمانوں سے غافل ہو گئے۔ بایں طور کہ ایرانی حکومت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، ایرانیوں کی ایک جماعت نے رستم کو اپنا حاکم بنا لیا اور ایک جماعت نے فیرزان کو اور جب ایرانی حکومت کے فوجی جرنیل بہمن جاذویہ کو یہ خبر ملی تو وہ فوراً مدائن واپس چلا گیا، کیونکہ وہ ایرانی سیاست کا ایک دانش مند فرد مانا جاتا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے جنگ کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے انہیں مشکل حالات سے بچا لیا۔ ادھر دارالخلافہ سے ان تک اسلامی افواج کو پہنچنے کا بہترین موقع مل گیا پھر مسلمانوں کی فوجی قوت میں اضافہ ہو گیا اور ان کا ایک بڑا لشکر تیار ہو گیا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 345، 346)