Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہزیمت کی خبر سننے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زید انصاریؓ کے ذریعہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس معرکے کی خبر بھیجی۔ حضرت عبداللہ بن زیدؓ جب حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے تو وہ منبر پر تشریف فرما تھے۔ وہیں سے پوچھا: اے عبداللہ بن زیدؓ کیا خبر ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے پاس خبر ہی دینے آیا ہوں اور پھر امیر المؤمنین کے قریب جا کر آہستہ سے آپؓ کو عراق کی صورت حال اور معرکہ کی ہزیمت سے مطلع کیا۔

(الأنصاری العصر الراشدی: صفحہ 217) آپؓ نے حضرت عبداللہ بن زیدؓ کے علاوہ جن لوگوں سے بھی ہزیمت کی خبر سنی تھی ان میں سب سے تفصیلی اور معتبر خبر حضرت عبداللہ بن زیدؓ کی تھی۔

(الأنصاری العصر الراشدی: صفحہ 218) اس معرکہ میں اسلامی فوج کی شکست کی خبر سن کر حضرت عمرؓ اور وہاں موجود دوسرے صحابہؓ بہت غمگین ہوئے، پھر سیدنا عمرؓ نے دعا کی: اے اللہ ہر مسلمان میری طرف سے آزاد ہے، میں ہر مسلمان کا مددگار ہوں، جو مسلمان اپنے دشمن سے نبرد آزما ہوا اور اس کے حملوں کا شکار ہو گیا میں اس کے لیے بھی مددگار ہوں، اے اللہ ابوعبیدؒ پر رحم فرما! اگر وہ میری طرف لوٹتا تو میں اس کا بھی مددگار ہوتا۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 279) حضرت عمرؓ کا یہ مؤقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حضرت عمرؓ طبعی طور پر سخت اور پختہ عزم و انسان ہونے کے باوجود جہاں نرمی اور شفقت کی ضرورت پڑتی وہاں نرمی اور غم خواری بھی کرتے تھے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 347)