Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو شیعہ لکھوانے والے مولوی کی امامت


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک امام مسجد اپنا رقم بینک فارم میں یہ لکھ کر دیں کہ میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتا ہوں بالفاظ دیگر میں شیعہ ہوں۔ کیونکہ بینک میں شیعہ سنی کہ الگ الگ اکاؤنٹ ہیں۔

ابھی دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا اس طرح لکھ کر دینے والے شخص کے پیچھے سنی مسلمانوں کی نمازیں پڑھنا عند الشرع جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ شخص اس تحریر کے بعد کسی مسجد کا امام بن سکتا ہے یا نہیں؟ برائے کرم شرعی حکم مدلل تحریر فرمائیں۔

جواب: تکفیر اہلِ بدعت میں فقہائے احنافؒ کے مختلف اقوال ہیں، بعضے احتیاط برتتے ہیں۔ البتہ اگر منصوصاتِ قطعیہ کے منکر ہوں وہ بے شک کافر ہوں گے۔ 

شیعوں میں سے جو بھی تحریف قرآن پر یقین رکھتا ہو اور جو قرآن کریم کو (معاذالله) ناقص و محرّف کہتا ہو یا سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہو وہ بے شک کافر ہے۔ 

نعم لاشک فی تکفیر من قذف السیدۃ عاںٔشة او انکر صحبة الصدیقؓ او اعتقد الولوھیة علیؓ ۔الخ

(شامی: جلد، 3 صفحہ، 406)

پس بلا ریب امام مذکور امامت کا لائق نہیں جو اتنا بےضمیر ہے کہ چند پیسے زکوٰۃ کی کھٹوتی سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو شیعہ لکھتا ہے، جو خود جانا چاہے اس کو کوئی کیسا روکے۔

(ثمینة الفتاویٰ: جلد، 1 صفحہ، 48)