تاریخ تدوین فقہ جعفریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ تدوین فقہ جعفریہ

  ابو عبداللہ

صفحہ 1 از 5

تاریخ تدوین فقہ جعفریہ

اس فقہ کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ سیدنا جعفرؒ کے نام سے منسوب ہے جس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ سیدنا جعفرؒ کے عہد میں آیا آپ کی زیرِ نگرانی اس فقہ کی تدوین ہوئی۔ مستند کتب شیعہ میں سیدنا باقرؒ تک فقہی اعتبار شیعہ کا دورِ جاہلیت ہی ثابت ہوتا ہے مثلاً

اصول کافی نمبر 2:

ثم كانا محمد على ابا جعفر و كانت الشيعته قبل ان يكون ابو جعفر وهم لا يعرفون مناسک حجهم وحلالهم و حرامهم حتىٰ كان ابو جعفر ففتح لهم وبين لهم مناسك حجهم و حلالهم و حرامهم حتى صار الناس يحتاجون اليهم من بعد ما كانوا يحتاجون الى الناس

پھر امام باقر آئے ان سے پہلے تو شیعہ حج کے مناسک اور حلال و حرام سے بھی واقف نہیں تھے۔ امام باقر نے شیعہ کے لئے حج کے احکام بیان کئے اور حلال و حرام میں تمیز کا دروازہ کھولا یہاں تک کہ دوسرے لوگ ان مسائل میں شیعہ کے محتاج ہونے لگے جب کہ اس سے پہلے شیعہ ان مسائل میں دوسروں کے محتاج تھے۔

 اس اعتراف سے ظاہر ہے کہ سیدنا باقرؒ سے پہلے شیعہ حلال و حرام سے واقف ہی نہیں تھے۔

سیدنا باقر کا سن وفات 113ھ ہے یعنی پہلی صدی اور دوسری صدی میں فقہ جعفریہ کا وجود ہی نہیں تھا۔ اس لئے کسی اسلامی سلطنت میں اس کے نافذ کئے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس زمانے میں خلافتِ راشدہ اور خلافت بنو اُمیہ کا اکثر حصہ شامل ہے، پس یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پہلی صدی میں فقہ جعفریہ کا نہ وجود تھا نہ کہیں اس پر عمل ہوتا تھا۔ اسلام کی دعوت کے ساتھ نبی کریمﷺ نے حلال و حرام کی نشاندہی فرما دی تھی جب دین مکمل ہو گیا تو حلال و حرام عبادت، معاملات و عقائد تمام چیزیں مکمل ہو گئیں۔ حضورﷺ نے نہ صرف سب کچھ بتا دیا بلکہ ان اصولوں پر ایک معاشرہ تیار کیا۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں حلال و حرام کے ان مسائل پر عمل ہوتا رہا جو نبی کریمﷺ نے بتائے تھے۔ مگر شیعہ کی معتبر ترین کتاب کے مؤلف صاحبِ اصول کافی کہتے ہیں کہ شیعہ کو حلال و حرام کا علم نہ تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ شیعہ کو حلال وحرام کے ان مسائل اور حج کے ان مناسک سے تعلق کوئی نہیں تھا جو اسلام نے اور داعی اسلام نے سکھائے تھے۔

سیدنا باقرؒ کے متعلق کتب شیعہ سے اس بات کا سراغ ملتا ہے کہ آپ نے شیعہ کو حلال و حرام کا احساس دلایا اور ان کو حدود سے روشناس کرایا لیکن اس کا کہیں سراغ نہیں ملتا کہ آپ کی زیرِ نگرانی کسی فقہ کی تدوین ہوئی۔

اس کے بعد سیدنا جعفرؒ کا دور آتا ہے آپ کی وفات 148ھ میں ہوئی چونکہ یہ فقہ ان کی طرف منسوب ہے اس لئے اس امر کی تلاش کی جائے آپ نے فقہ کی کوئی کتاب اپنی زیرِ نگرانی تیار کرائی۔ تاریخ میں اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ پھر اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ نے جو روایات اور احادیث بیان فرمائیں۔ انہی فقہی ابواب کے تحت جمع کر لیا گیا۔ بنیادی طور پر وہ حدیث کی کتابیں شمار ہوں گی مگر چونکہ انکی تدوین فقہی عنوان کے تحت ہوئی اس لئے ان کتب کو فقہ جعفریہ کی بنیادی کتابیں تصور کر لینا چاہیے۔ اس نوع کی کتابیں چار ہیں ان کو صحاحِ اربعہ کہتے ہیں:

1۔ الکافی ابو جعفریه کلینی 330ھ یعنی امام جعفر سے قریباً 180 برس کی تصنیف ہے۔

2۔ من لا یحضره الفقیہ محمد بن علی ابنِ بابویہ قمی 380 ھ یعنی امام جعفر سے قریباً 230 برس بعد۔

3۔ تہذیب الاحکام

4۔ استبصار محمد بن حسن طوسی 460 ھ یعنی امام جعفر سے قریباً 310 برس بعد۔

 فقہ جعفریہ کی ان چاروں کتابوں کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی کتاب اصولِ کافی اس وقت لکھی گئی جب خلفائے عباسیہ کے اکیسویں خلیفہ المتقی باللہ کا دورِ خلافت تھا۔ اور آخری کتاب کے مصنف کا سن وفات بتاتا ہے کہ اس وقت خلفائے عباسیہ کے بتیسویں خلیفہ القائم باہر الاللہ کا دورِ خلافت تھا۔ گویا پانچویں صدی ہجری کے اواخر میں فقہ جعفریہ کامل طور پر وجود میں آئی اس لئے پانچویں صدی بلکہ سقوط بغداد تک اس فتنہ کا کسی اسلامی حکوت میں نافز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد مصر میں عباسی خلافت مستنصر باللہ 659 ھ سے متوکل علی اللہ

ثالث 923ھ تک وہاں بھی اس فقہ کا نفاذ کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

پھر ترکان عثمانی کی خلافتِ عثمان اول 1288ھ سے 1924ء تک رہی جب مصطفیٰ کمال نے خلافت کا خاتمہ کر دیا اس عرصے میں بھی اس اسلامی سلطنت کے کسی حصہ میں بھی فقہ جعفریہ کے رائج ہونے کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا۔

مختصر یہ کہ کسی اسلامی حکومت نے کسی دور میں فقہ جعفریہ کو اپنے دستور یا قانون میں جگہ نہیں دی۔

فقہ جعفریہ کے متعلق تاریخی سروے تو ضمناً آ گیا۔ بات یہ چل رہی تھی کہ سیدنا جعفرؒ کے بعد ایک سو اسی برس سے لیکر تین سودو برس بعد تک یہ کتابیں مدون ہوئیں جو سیدنا جعفرؒ سے منسوب کر کے فقہ جعفریہ کی اصولی اور بنیادی کتابیں شمار ہوتی ہیں ظاہر ہے کہ اس عرصے میں سیدنا جعفرؒ کی روایات مختلف راویوں کے ذریعے ان محدثین کے پاس پہنچی ہوں گی اس لئے ان مسائل اور فقہ کی صحیح یا مشکوک ہونے کا انحصار ان رواة کی ثقاہت اور عدم ثقاہت ہے اس بناء پر ضروری ہے کہ جعفریہ فنِ رجال کے بیان کی روشنی میں اس حقیقت کا جائزہ لیا جائے۔

مشہور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی نے اپنی مایہ ناز کتاب حق الیقین صفحہ 371 پراس حقیقت کا اظہار یوں کیا ہے:

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہلِ حجاز و عراق خراسان و فارس وغیرہ سے فضلاء کی ایک جماعت کثیر حضرت باقر اور حضرت صادق نیز تمام آئمہ اصحاب سے تھی۔ مفصل زرارہ محمد بن مسلم

 ابو بریدہ ابو بصیر شاہین، حمران، جیکر مومن طاق امام بن تغلب اور معاویہ بن حمار کے اور ان کے علاوہ کثیر جماعت بھی تھی جن کا شمار نہیں کر سکتے اور کتب رجال اور علمائے شیعہ کی فہرستوں میں سطور و مذکور ہیں یہ سب شیعوں کے رئیس تھے ان لوگوں نے فقہ حدیث و کلام میں کتابیں تصنیف کر کے تمام مسائل کو جمع کیا ہے۔ ان لوگوں کا اختصاص آئمہ طاہرین کے ساتھ معلوم و تحقق ہے جیسا کہ ابوحنیفہؒ کے ساتھ ابو یوسفؒ اور اس کے شاگردوں کا اختصاص

یہ اقتباس ایک طویل بیان کا حصہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

صفحہ 1 از 5