تاریخ تدوین فقہ جعفریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ تدوین فقہ جعفریہ

  ابو عبداللہ

صفحہ 2 از 5

1۔ اصحاب آئمہ کی کثیر جماعت جس کا شمار نہیں ان کے مطابق تو کہا نہیں جا سکتا مگر جن کا شمار کیا جاسکتا ہے ان کے نام دیئے گئے ہیں اور وہ شیعوں کے رئیس ہیں۔

2۔ آئمہ سے ان اصحاب نے فقہ وحدیث کے مسائل جمع کئے ہیں۔

3۔ اگر یہ حضرات ثقہ ثابت ہو جائیں تو فقہ جعفریہ آئمہ سے ماخوذ ثابت ہو سکتی ہے اس فقہ کا ماخذ کتاب اللہ سے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ شیعہ عقیدہ کی رو سے یہ قرآن محرف ہے اور تحریف بھی پانچ قسم کی ہوئی ہے لہٰذا اس کا کیا اعتبار! 

اب ہم ان روسائے شیعہ کے حالات شیعہ کتب رجال سے پیش کرتے ہیں:

1۔ زرارہ

یہ صاحب تو آئمہ کے بھی رئیس ہیں یہاں تک کہ ان کی علمی فضیلت سیدنا جعفرؒ کے ہم پایہ ہے۔

 رجال کشی میں ہے:

قال اصحاب زراره من ادرک زراره بن اعین فقد ادرک ابا عبدالله

زرارہ کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جس نے زرارہ بن امین کو دیکھا تو گویا اس نے ابو عبد اللہ ( یعنی امام باقر) کو دیکھ لیا۔

ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ تعریف اور کیا ہو سکتی ہے مگر سوال تو امانت و دیانت اور کردار کا ہے سو اس کے متعلق رائے ملاحظہ ہو:

یہ حکم ایسی جماعت کے حق میں ہے جن کی ضلالت پر صحابہؓ کا اجماع ہے جیسا کہ زرارہ اور ابو بصیر (حق الیقین اردو: صفحہ 722)

یعنی زرارہ اور ابو بصیر بالا جماع گمراہ ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جو خود گمراہ ہے وہ دوسروں کی رہنمائی کیا کرے گا جس راہ پر خود چلا ہے دوسروں کو بھی اسی راہ پر چلائے گا۔

قال ای (امام نعم زراره شر من اليهود والنصارىٰ ومن قال ان مع الله ثالث ثلاثه(رجال کشی: صفحہ 107) 

امام جعفر نے فرمایا کہ زرارہ تو یہودی و نصاریٰ اور تثلیت کے قائلین سے بھی برا ہے۔

امام جعفر کا زرارہ کو قائلین اور تثلیث سے بھی برا قرار دینا خالی از علت نہیں اور نہ نری شاعری ہے اس سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ امام نے زرارہ کے متعلق آگاہ کر دیا کہ جس طرح قائلین تثلیت نے دین حق سے منہ موڑ کر تثلیت کا عقیدہ گھڑا اور ایک مخلوق کو گمراہ کیا اسی طرح زرارہ بھی دینِ اسلام سے منحرف ہو کر ایسے عقائد گھڑے گا کہ ایک دنیا گمراہ ہو جائے گی اور واقعی امام کا خدشہ درست ثابت ہوا۔

امام جعفر نے فرمایا:

 ولعن اللہ زرارہ لعن الله زرارہ لعن الله زرارہ 

 (رجال کشی: صفحہ 100)

یعنی امام جعفر نے تین مرتبہ فرمایا کہ اللہ لعنت کرے زرارہ پر۔

ظاہر ہے کہ جس فقہ کا رئیس اعظم ایسا ہو جس کو امام نے بتاکید ملعون قرار دیا ہو اس فقہ کی ثقاہت، افادیت اور افضیلت کا انکار کون کر سکتا ہے؟

امام تو آخر امام تھے اور امام بقول شیعہ معصوم ہوتا ہے اس لئے معصوم کے قول میں شک کی گنجائش کہاں؟ لہٰذا زرارہ کے ملعون ہونے کا انکار وہی کرے جو امام کا منکر ہو مگر دوسری طرف زرارہ کا ردِ عمل بھی نا قابلِ التفات نہیں۔

 زرارہ کہتا ہے:

فلما خرجت ضرطت لحيته لا يفلح ابدا

( رجال کشی: صفحہ 106)

 یعنی جب میں باہر نکالا تو میں نے امام کی داڑھی میں پاد مارا اور میں نے کہا کہ امام کبھی نجات نہ پائے گا۔

 مقابلہ بڑا عبرت ناک ہے اور ایک طرف سے لعنت برسائی جاری ہے دوسری جانب سے عدم نجات کی بشارت سنائی جارہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ جس امام کی داڑھی میں پاد مارنے والا اور جس امام کو نجات نہ پانے کی اطلاع دینے والا اسی امام سے منسوب کر کے دین وفقہ سکھائے تو ایسے دین وفقہ کی حیثیت ارباب دانش ہی سمجھ سکتے ہیں۔

2۔ ابوبصیره

حق الیقین میں زرارہ کے ساتھ گمراہی میں واحد حصہ دار ابو بصیر کو بتایا گیا ہے لہٰذا اسی کے متعلق پہلے بیان ہوتا ہے:

فقہ جعفریہ کے مسائل میں یہ شخص بھی میں شمار ہوتا ہے اس لئے سیدنا جعفرؒ کے متعلق اس کا عقیدہ معلوم کر لینا کافی ہے:

قال جلس ابوبصیر علی باب ابی عبدالله علیه

السلام ليطلب الازن ولم يؤذن له فقال لو كان معنا طبق لازن قال فجار كلب قشعر في وجه ابي بصير

(رجال کشی صفحہ 112)

راوی کہتا ہے، ابو بصیر امام جعفر کے دروازے پر بیٹھا تھا اندر جانے کی اجازت چاہتا مگر امام اجازت نہیں دے رہے تھے ابو بصیر کہنے لگا اگر میرے پاس کوئی تھال ہوتا تو اجازت مل جاتی پھر کتا آیا اور اس کے منہ میں پیشاب کر دیا

اس سے ظاہر ہے کہ: 

¹-ابو بصیر کی نگاہ میں امام جعفر بڑے طماع ، دنیا پرست تھے رشوت لیکر ملاقات کی اجازت دیتے تھے۔ ²-ابو بصیر خود اصحابہ آئمہ میں اس فضیلت کا مالک تھا کہ دروازے پر پڑا ر ہے تواس کو ملاقات کی اجازت ہی نہیں ملتی تھی ، اہمیت کا کیا کہنا

³-ابوبصیر چونکہ اندھا تھا کتے کو دیکھ نہ سکا مگر اتنا تو سوچتا کہ آنکھیں تو خدا نے بند کی تھیں منہ تو خود بند رکھتا آخر منہ کھول کے لیٹنے میں کون سی حکمت تھی، پھر کتا آخر جانور ہے مگر اتنی سمجھ تو اسے بھی تھی کہ پیشاب کرنے کے لئے موزوں جگہ کون سی ہے۔

⁴- یہ اتفاق سمجھئے یا قدرت کی طرف سے انتباہ کہ اس منہ سے گلفشانی کی توقع نہ رکھنا بلکہ جیسا کچھ اس منہ میں داخل ہو رہا ہے ایسی ہی پاکیزہ باتیں اس سے نکلیں گی۔

ظاہر ہے کہ ایسے مقدس منہ سے نکلے ہوئے مسائل کیسے پاکیزہ اور مقدس ہوں گے اور جس امام کے متعلق اس صحابی کی یہ رائے ہے اس سے منسوب کر کے جو مسائل بیان کئے گئے ہوں گے یا گھڑے گئے ہوں گے ان کے ثقہ اور معتبر ہونے میں کس احمق کو ہی شبہ ہوسکتا ہے۔

³- محمد بن سلم

اس کا دعویٰ ہے کہ امام باقر سے 30 ہزار حدیثیں سنیں اور امام باقر سے 16 ہزار حدیث کی تعلیم پائی۔(رجال کشی صفحہ 109)

عن مفضل بن عمر قال سمعت ابا عبدالله يقول لعن الله محمد بن مسلم كان يقول ان الله لا يعلم شياء حتىٰ يكون

 (رجال کشی 113)

مفصل کہتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفرؒ سے سنا فرماتے تھےکہ محمد بن مسلم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہ کہتا تھا کہ جب تک کوئی چیز وجود میں نہ آ جائے اللہ کو اس کے متعلق علم نہیں ہوتا

صفحہ 2 از 5