تاریخ تدوین فقہ جعفریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ تدوین فقہ جعفریہ

  ابو عبداللہ

صفحہ 3 از 5

اول تو جس آدمی کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ ہوا اس کے تفقہ فی الدین کا طول و عرض آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے پھر جس کو سیدنا جعفرؒ کی طرف سے اللہ کی لعنت کا تحفہ یا سند ملے اس کی ثقاہت کا حال بخوبی معلوم ہو سکتا ہے۔ یہاں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے فقہ جعفریہ کی تیاری میں اس امر کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ ان اصحاب آئمہ کی روایات قبول کی جائیں جن کو آئمہ نے ملعون قرار دیا ہے۔

 فرق اتنا ہے کہ کسی کو اکیلی لعنت کسی کو لعنت ، لعنت ، یعنی(لعنت 3) مگر اپنا اپنا ظرف جو جتنے کے قابل ہواسے اتنا ہی ملتا ہے۔

 علامہ مجلسی نے جن تین اصحاب آئمہ کو سرِ فہرست رکھا ہے ان کے حالات سے اندازہ کر لیا جا سکتا ہے کہ جب اکابر کا یہ حال ہے تو اصاغر کس پائے کے ہوں گے ۔ اب ذرا ان اصحاب میں سے بھی ایک معروف شخصیت کا تعارف کرا دیا جائے جن کا علامہ مجلسی نے ذکر نہیں کیا مگر ہیں وہ بھی چوٹی کے اصحاب 

⁴-جابر بن یزید

محمد بن مسلم کا دعویٰ تو آپ نے پڑھ لیا کہ امام باقر سے تیسں ہزار احادیث لی تھیں یہ صاحب ان کے بھی استاد نکلے ان کا دعویٰ ملاحظہ ہو :

عن جابر بن يزيد الجعفى قال حدثني ابو جعفر بسبعين الف حديث

(رجال کشی صفحہ 128)

جابر کہتا ہے کہ میں نے امام باقر سے ستر ہزار حدیث تعلیم پائی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا علمی مرتبہ محمد بن مسلم سے دو چند سے بھی زیادہ ہے اب اسی فضیلت مآب کی دیانت وامانت کا حال سنئے۔

عن زراره قال سئلت ابا عبدالله عن حديث جابر فقال مارايته عند ابي قط الامرة حدة ومادخل على قط

(رجال کشی صفحہ 126)

زرارہ کہتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفرؒ سے جابر کی احادیث کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ میرے والد سے صرف ایک مرتبہ ملا اور میرے پاس تو کبھی آیا ہی نہیں

یہ بات رئیس اعظم زرارہ بیان کر رہا ہے نہ جانے اسے اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، ممکن ہے اس کا ستر ہزار احادیث کا دعویٰ سن لیا ہو گا ۔ تو اسے تعجب حسرت یا رشک پیدا ہوا ہو گا ۔ مگر جواب جو ملا اس سے زرارہ کی تشفی تو شاید ہوگئی ہو مگر

امام کے بیان نے تو عجائبات کا ایک باب کھول دیا ۔ مثلاً

¹- ایک ملاقات میں امام نے ستر ہزار حدیثیں تعلیم فرمادیں یعنی اگر ایک منٹ فی حدیث شمار کیا جائے تو 166 گھنٹے بنتے ہیں یعنی 48 دن سے کچھ زیادہ وقت بنتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا اتنی لمبی نشست کا تصور کیا جا سکتا ہے؟

 ²- اگر جابر صرف حدیثیں سنتا رہا تو اس کے حافظہ کا کمال ہے کہ ایک دفعہ سن کرستر ہزار حدیث یا دکر لیں۔

³- اگر یہ محال نظر آتا ہے تو پھر وہ ساتھ ساتھ لکھتا رہا اگر یہ صورت فرض کر لی جائے تو وقت کو اور بڑھانا پڑے گا دو چند سے کم کیا ہو سکتا ہے گویا یہ ایک ملاقات تین مہینے سے بھی تجاوز کر گئی اگر یہ نہ مانا جائے تو اور صورت کوئی نہیں کیونکہ اس زمانے میں شارٹ ہینڈ کے فن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

⁴- اگر جابر کا دعویٰ تسلیم کیا جائے تو سب سے پہلے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی اوراس سے بڑی بات یہ ہے کہ امام کو جھوٹا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

⁵-اگر امام کو سچا تسلیم کریں جیسا کہ ضروری ہے تو جابر کو پرلے درجے کا جھوٹا ماننا پڑتا ہے اور اس کے بغیر چارہ نہیں۔

اصحاب آئمہ میں سے کچھ مستند کتابیں 

حق الیقین میں کچھ غیر مذکور کے حالات نمونہ کے طور پر شیعہ کی کتب رجال میں سے پیش کئے گئے اب ذرا اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھئے:

¹-علامہ مجلسی نے تو فرمایا کہ یہ کثیر جماعت تھی جو سب شیعوں کے رئیس تھے

مگر آئمہ کا بیان اس سے مختلف ہے مثلاً (اصول کافی صفحہ 496 پر امام جعفر کا بیان ہے:

اے ابو بصیر اگر تم میں سے ( جو شیعہ ہو ) تین مؤمن مجھےمل جاتے جو میری حدیث ظاہر نہ کرتے تو میں ان سے اپنے حدیثیں نہ چھپاتا

یہ بیان کیا ہے حقائق کا ایک بحر ناپیدا کنار ہے، پہلی بات یہ ہے کہ سیدنا جعفرؒ کو عمر بھر میں تین مؤمن بھی نہ ملے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مومنوں کی فوج نہیں کھڑی کرنی چاہتے تھے بلکہ اپنے علوم اور اپنی حدیثیں سنانا چاہتے تھے۔

تیسری بات یہ ہے کہ جب انہیں تین مؤمن نہ مل سکے تو انہوں نے اپنی حدیثیں کسی کو نہیں سنائیں جس سے منطقی طور پر یہ نتیجہ نکلا ہے کہ یہ کافی ،

 استبصار، تہذیب اور من لا یحضرہ الفقیہ کی صورت میں ہزاروں حدیثیں جو سیدنا جعفرؒ سے منسوب ہیں وہ ان سے بیزاری کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ سب جھوٹ بناوٹی ذخیرہ ہے۔

چوتھی بات اگر اس کا نتیجہ یہی ہے اور دوسرا کوئی ہو نہیں سکتا تو فقہ جعفری کی قدر و قیمت تو امام نے خود متعین کر دی۔

پانچویں بات یہ ہے کہ امام کا مقصد صرف کسی محرم راز کو حدیثیں سنانا تھا حدیثیں پھیلانا مطلوب نہیں تھا اس لئے فرمایا ان تین مطلوبہ مؤمنوں کی صفت بیان کی جو میری حدیثیں ظاہر نہ کرتے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ امام کی حدیثیں ظاہر کرنے کی چیز نہیں چھپا کر رکھنے کی چیز ہے تو پھر فقہ جعفریہ کو بر سر منبر اور بر سردار لانے کے جتن کیوں ہورہے ہیں؟ یہ تو امام کی مخالفت کی تحریک ہے ان کی خلاف ایجی ٹیشن ہے یہ تو سٹرائیک ہے۔ امام جعفر نے اس سے آگے ایک قدم اور بڑھا کر فرمایا:

میں نے کوئی ایسا آدمی نہیں پایا جو میری وصیت قبول کرتا اور میری اطاعت کرتا سوائے عبداللہ بن یعفور کے۔

 (رجال کشی صفحہ 160)

لیجئیے امام نے ایک اور گتھی سلجھا دی۔

¹-امام جعفر کوئی شاعری نہیں کر رہے کہ شاعری کی ساری روش ہی مبالغہ سےہوتی ہے بلکہ وہ تو حقیقت بیان کر رہے ہیں ۔

²- جب سیّدنا جعفرؒ کی ذات موجود تھی ان کی اطاعت کرنے والا صرف ایک مرد میدان میں نظر آتا ہے تو آج سیدنا جعفرؒ کی طرف منسوب فقہ جعفریہ پر عمل کرانے اور اسےنافذ کرانے کی کیا مجبوری ہے۔

³-اطاعت شعار صرف ایک ہے تو یہی قابلِ اعتماد بھی ہوگا۔ اس لئے دین کی روایت جو اس سے چلی وہی معتبر ہوگی اس صورت میں دینِ شیعہ کا سارا حل خبرِ واحد پر استوار ہوگا۔ مگر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی اپنے بھائیوں سے کچھ مختلف نہیں بلکہ

بات وہی ہے۔

صفحہ 3 از 5