تاریخ تدوین فقہ جعفریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ تدوین فقہ جعفریہ

  ابو عبداللہ

صفحہ 4 از 5

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ 460ھ تک فقہ جعفریہ کی کوئی کتاب مدون نہیں ہوئی تھی، وہاں احادیث کی یہ چار کتب وجود میں آگئی تھیں مگر ان میں جو روایات درج ہیں وہ اکثر ان اصحاب آئمہ سے مروی ہیں جن کو آئمہ نے گمراہ معلون ، یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر مخلوق قرار دیا لہٰذا آئمہ کے بیان کے مطابق ان کتابوں کی روایات قابلِ اعتماد نہیں۔

پانچویں صدی ہجری میں مصنف تہذیب الاحکام اور استبصار کے بعد فقہ جعفریہ کے کام میں کوئی پیشِ رفت نہیں ہوئی اور ان کتابوں کی عام اشاعت بھی نہ ہوئی اور زیرِ زمین ہی کام ہوتا رہا۔ دین شیعہ تو سراسر راز اور اخفاء کی چیز سے اگر کسی وقت کسی نے اس عقیدہ کو عام کرنے کی کوشش کی تو اسے سرزنش کی گئی جیسا کہ

 اصول کافی صفحہ 140 پر ہے

قال ابو جعفر ولايته الله اسرها الى جبرئیل و اسرها

جبرائيل الى محمدﷺ واسرها محمد الى على و اسرها على الى من شاء تم انتم تذيعون ذالك

امام ابو باقر نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ولایت کا راز جبرائیل کو راز میں بتایا جبرائیل نے یہ راز محمدﷺ کو مخفی طور پر بتایا ۔ حضورﷺ نے یہ راز حضرت علیؓ کو کان میں بتایا پھر حضرت علیؓ نے جسے چاہا بتایا مگر تم لوگ اسے ظاہر کرتے پھرتے ہو۔

 گویا ولایت و امامت کا عقیدہ ہی راز کی چیز ہے اور شیعہ مذہب کی جان یہی عقیدہ تو ہے لہٰذا اسے ظاہر کرنا امام کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔

 آخر آٹھویں صدی ہجری میں ایک مجاہد اٹھا اس نے فقہ جعفریہ کی پہلی کتاب صحیح فقہی طرز پر لکھی۔ اس فقیہ کا نام محمد جمال الدین مکی ہے اور اس کتاب کا نام لمغردمشقیہ ہے اس سلسلے میں چونکہ یہ پہلی کوشش تھی اس لئے اس کی پذیرائی اور قدر افزائی ہونی ایک فطری بات ہے ۔ مگر حالات اس کے برعکس نظر آتے ہیں اسے واجب القتل قرار دے کر قتل کر دیا گیا ۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ اس کتاب کی تصنیف ہی ہو سکتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ

 یہ کتاب کوئی علمی یا دینی خدمت نہیں سمجھی گئی بلکہ اس کے الٹ ہی کچھ سمجھا گیا اب اس کا نام جو چاہو رکھ لو ۔ مگر جعفریہ نے اسے شہید اول کا لقب دیا ۔

اس کے قتل سے عوام میں فقہ جعفریہ کی قدروقیمت کا ایک معیار تو قائم ہو گیا پھر حسبِ سابق جعفریہ زیرِ زمین ہی کام کرنے لگے ۔ رفتہ رفتہ دسویں صدی ہجری میں ایک اور مجاہد اٹھا اور اس نے فقہ جعفریہ کو عام فہم کرنے اور اسے پھیلانے کے لئے لمغردمشقيه كى شرح روضة البهیه کے نام سے لکھی اس کا نام علامہ زین الدین ہے جب متن لکھنے والا واجب القتل قرار دیا گیا تو اس کے شرح لکھنے والے کو کون سی جاگیر ملنی تھی چنانچہ اسے بھی واجب القتل قرار دے کر قتل دیا گیا۔ اور جعفریہ نے بھی حسبِ عادت اس کو شہید ثانی کا لقب دیا۔ فقہ جعفریہ کا علمی سرمایہ یہی کچھ ہے ان کتابوں پر ممکن ہے انفرادی طور پر نیک شیعہ عمل کرتے ہوں مگر اجتماعی طور پر کسی حکومت نے اس فقہ کو قابل سر پرستی اور قابلِ نفوذ نہ سمجھا۔

علامہ مجلسی نے اپنی کتاب حق الیقین میں جہاں یہ بیان کیا کہ ان لوگوں (یعنی آئمہ ) نے فقہ حدیث و کلام میں کتابیں تصنیف کر کے تمام مسائل جمع کیا یہ بات ایک تاریخی مغالطہ نظر آتا ہے زرارہ محمد بن مسلم ، ابوبصیرہ جن کے نام درج ہیں انہوں نے کوئی کتاب تصنیف نہیں کی بلکہ ان کے بعد قریباً دوصدیوں سے لیکر تین صدیوں تک لوگوں نے ان کے نام سے روایات جمع کر کے وہ چار کتابین تصنیف کیں

جن پر اوپر بحث کی جا چکی ہے۔

 پھر علامہ مجلسی نے فرمایا ان لوگوں کا اختصاص آئمہ طاہرین کے ساتھ معلوم و مستحق ہے جیسا کہ ابو حنیفہؒ کے ساتھ ابو یوسفؒ اور اس کے شاگردوں کا اختصاص ہے یہ تثنیہ اور تمثیل بھی خلافِ حقیقت ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کے حالات تو یہ ہیں کہ انہوں نے چالیس ماہرین فن کی ایک مجلس مذاکرہ بنائی تھی ہر آدمی ایک خاص فن میں مہارت رکھتا تھا پھر جو نئے مسائل پیش آتے وہ قرآن وسنت اور تعامل صحابہؓ کی روشنی میں زیرِ بحث آکر طے ہوتے جب کسی نتیجے پر پہنچتے تو ابوحنیفہؒ کے شاگردوں میں سے امام شیبانی اسے لکھ لیتے چنانچہ امام محمد شیبانی کی چھ تصانیف فقہ حنفی میں کتب ظاہر الروایۃ کے لقب سے مشہور ہوئیں اور اسی دوران تصنیف ہوئیں اور ابو حنیفہؒ کے دوسرے شاگر دا بو یوسفؒ نے کتاب الخراج تصنیف کی اور فقہ حنفی باقاعدہ طور پر خلفائے عباسیہ نے اپنی سلطنت میں رائج بلکہ اور بھی اسلامی ممالک میں فقہ حنفی رائج رہی اس کے مقابلے میں علامہ مجلسی نے جن اصحاب آئمہ کو ابوحنیفہؒ کے شاگردوں سے تشبیہ دی ہے انہوں نے نہ تو کوئی کتاب تصنیف کی نہ قرآن وسنت تک پہنچے بلکہ صرف امام کی بات بلکہ امام سے منسوب کر کے اپنی بات بیان کرتے رہے اور بعد والوں نےان کی روایات کو جمع کر کے فقہ جعفریہ کا نام دے دیا۔

جہاں تک اس فقہ کے رائج ہونے کا تعلق ہے تو یہ بات خواب و خیال سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ 

خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں وہی فقہ رائج تھی جو رسول اللہﷺ نے کتاب اللہ کی روشنی میں اپنے ارشادات اور صحابہؓ کی عملی تربیت کر کے رائج فرمائی تھی ۔ سیدنا علیؓ نے اپنے عہد خلافت میں اس فقہ سے بال برابر بھی انحراف نہیں کیا یعنی انہوں نے بھی وہی فقہ رائج رکھی جو خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں رائج رہی ۔ اگر سیدنا علیؓ کوئی نئی فقہ رائج یا نافذ کرتے چاہے اس کا نام فقہ جعفریہ نہ ہوتا کوئی اور ہوتا یا بے نام ہوتی بلکہ اس فقہ سے مختلف جو خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں رائج رہی تو بعد میں آنے والوں کو بھی حق پہنچتا تھا کہ اس علوی فقہ کے نفاذ کا مطالبہ کرتے یا اس کی جدو جہد کرتے جس فقہ پر سیدنا علیؓ نے اپنا پورا عہدِ خلافت گزار دیا آج نام نہاد محبّانِ علیؓ کو اس فقہ سے بیر کیوں ہے؟ یہی وہ فقہ ہے جو خلفائے عباسیہ کے عہد میں آکر باقاعدہ فقہی تربیت سے مدون ہو کر فقہ حنفی کے نئے نام سے اسی پرانی صورت اور اسی نبوی اصول پر رائج ہوئی پھر قریباً تمام اسلامی سلطنتوں میں یہی فقہ رائج رہی اور حکومت کی طرف سےنافذ ہوتی رہی۔

انصاف کی بات تو یہ ہے کہ ان رؤسا شیعہ نے آئمہ سے جو روایات منسوب کی ہیں ان سے بڑھ کر آئمہ کی 

صفحہ 4 از 5