Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ بویب 13 ہجری

  علی محمد الصلابی

معرکہ جسر میں مسلمانوں کی شکست خوردگی کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور عراق میں باقی ماندہ اسلامی لشکر کو امدادی فوج دیتے ہوئے انہیں دشمن سے فوری مقابلہ کے لیے عراق روانہ کیا۔ اس میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما اپنی قوم کے ساتھ اور حضرت حنظلہ بن ربیعؓ کو روانہ کیا اور ہلال بن علقمہ رباب کو ایک جماعت کے ساتھ اور عبداللہ بن ذی سہمین قبیلہ خثعم کی ایک جماعت کے ساتھ شریک ہوئے۔ اسی طرح عمر بن ربعی بن حنظلہ اور ربعی بن عامر بن خالد رضی اللہ عنہما اپنے اپنے قبیلہ کے ساتھ مدد کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کو بھی امدادی فوج کی شکل میں عراق بھیجا۔ اس طرح عراق تک امدادی افواج کے قافلوں کا تانتا بندھ گیا، ٹھیک اسی وقت مثنیٰ بن حارثہؓ نے بھی عراق کے مختلف علاقوں میں امراء و حکام کے نام پیغام بھیجا کہ وہ سب اپنے اپنے علاقوں سے غازیان اسلام کی جماعتیں بھیجیں۔ چنانچہ انہوں نے بھرپور مدد کی اور حضرت مثنیٰؓ کی قیادت میں ایک عظیم فوجی لشکر تیار ہو گیا۔

(العملیات التعرضیۃ الدفاعیۃ: نہاد عباس: صفحہ 115) دوسری طرف جب حکمران فارس کو حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے عظیم فوجی لشکر کی خبر ملی تو انہوں نے مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی فوج سے ٹکر لینے کے لیے مہران ہمدانی کو گھڑ سوار لشکر کا قائد بنا کر روانہ کیا اور ادھر جب مثنیٰؓ کو مہران کی فوج کشی کا علم ہوا تو آپ نے دارالخلافہ سے عراق کو آنے والی امدادی افواج کو پیغام بھیجا کہ آپ لوگ مجھے مقام ’’بویب‘‘ پر ملیں۔ ان میں سرفہرست جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما کا قافلہ تھا۔ آپؓ نے لکھا: میں نازک صورت حال سے گزر رہا ہوں اور اس سے اس وقت تک عہدہ برآ نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپؓ لوگوں کا تعاون ہمیں نہ مل جائے، لہٰذا آپ لوگ پہنچنے میں جلدی کریں اور ’’بویب‘‘ میں ہم سے ملیں۔

چنانچہ اسلامی لشکر نے ’’بویب‘‘ میں پڑاؤ ڈالا ایرانی فوج اور اسلامی لشکر دونوں کے درمیان دریا حائل تھا۔ مہران نے حضرت مثنیٰؓ کے نام پیغام بھیجا کہ یا تم دریا عبور کرو یا ہم عبور کریں۔ حضرت مثنیٰ نے جواب دیا: تمہی پار کرو۔ مہران نے اپنا لشکر لے کر دریا عبور کیا۔ چونکہ یہ واقعہ رمضان المبارک کے مہینے میں 13 ہجری میں ہوا تھا لہٰذا حضرت مثنیٰؓ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ لوگ روزے سے ہیں اور روزہ جسم کی کمزوری و نرمی پیدا کرنے والا ہے، میری رائے ہے کہ آپ لوگ روزہ افطار کر لیں اور کھانا کھا کر تازہ دم و طاقتور ہو جائیں، یہ تمہارے دشمن کے مقابلے میں طاقت کا سبب ہو گا۔ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے پھر سب نے افطار کیا۔ اس کے بعد حضرت مثنیٰؓ نے لشکر کو ترتیب دیا اور ان میں چل چل کر انہیں پامردی و استقامت پر ابھارنے لگے اور ہر لشکر کے علم بردار کے پاس جا جا کر کہتے: میں امید کرتا ہوں کہ آج عربوں کی شجاعت و شرافت پر داغ نہ آنے دو گے۔ اللہ کی قسم آج کے دن مجھے وہی چیز خوش کر سکتی ہے جو تم سب کو خوش کر سکتی ہے۔ ناقلین روایات کا بیان ہے کہ حضرت مثنیٰؓ نے اس وقت نہایت منصفانہ قول و فعل کا اظہار کیا، جنگ کی کلفتوں اور نتیجہ میں ملنے والی مسرتوں کو ایسے انداز میں بیان کیا کہ کوئی شخص ان پر عیب نہ لگا سکا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 287) حضرت مثنیٰؓ کا یہ ولولہ انگیز بیان آپ کی حسن قیادت اور وسعت حکمت پر واضح دلیل ہے۔ آپؓ نے ایسے پرخلوص اور محبت بھرے انداز میں اپنی بات رکھی کہ پورا اسلامی لشکر کامل محبت و اطمینان سے آپ کا مطیع ہو گیا اور جب آپ اپنی فوج کی تیاریوں سے مطمئن ہو گئے تو کہا: جب میں تین مرتبہ تکبیر کہوں گا تو تم حملہ کے لیے بالکل تیار ہو جانا اور چوتھی تکبیر پر حملہ کر دینا۔ چنانچہ آپ نے جوں ہی پہلی تکبیر کہی دوسری طرف سے ایرانی فوج نے اچانک حملہ کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہو گئیں حالانکہ ایرانی فوج عموماً اس طرح حملہ نہیں کرتی تھی لیکن معرکہ جسر میں مسلمانوں کو زیر کرنے میں انہیں جو کامیابی ملی تھی شاید اس نے ان کے دلوں سے مسلمانوں کے رعب و دبدبہ کم کر دیا تھا۔ ایرانیوں نے حملے میں سبقت کی اور مسلمانوں نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا۔ جنگ نے شدت پکڑی اور گھمسان کا رن پڑا۔ حضرت مثنیٰؓ جنگ میں برابر کے شریک تھے اور نہایت باریکی سے اپنی فوج پر نگاہ بھی رکھے ہوئے تھے۔ اس قدر گہری نگاہ کہ مسلمانوں کی صف میں خلل دیکھا تو وہاں ایک آدمی بھیجا کہ امیر لشکر تم کو سلام کہتا ہے اور کہتا ہے کہ آج مسلمانوں کو رسوا نہ کرو، جو لوگ آگے بڑھے تھے سیدھے ہو گئے اور کہا ٹھیک ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 288) پھر جب جنگ طویل ہوتی گئی اور خوب گرما گئی تو حضرت مثنیٰؓ نے انس بن ہلال سے کہا: اے انس! جب تم دیکھو کہ میں نے مہران پر حملہ کر دیا ہے تو تم بھی میرے ساتھ حملہ کر دو اور ابن مردی فہر سے بھی اسی طرح کہا، ان دونوں نے آپ کو خوش آئند جواب دیا، حضرت مثنیٰؓ نے مہران پر حملہ کر دیا اور اسے پیچھے دھکیلتے گئے یہاں تک کہ وہ اپنی فوج کے میمنہ میں ضم ہو گیا۔ حضرت مثنیٰؓ اپنے دشمن پر برابر دباؤ بڑھاتے رہے اور پھر دونوں افواج کے قلب کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی، ہر طرف گرد ہی گرد نظر آنے لگی، فوجی دستے میمنہ اور میسرہ میں اس طرح ٹکرائے کہ کسی کو اپنے امیر و قائد کی مدد کا موقع نہ مل سکا۔ نہ مسلمانوں کو اپنے امیر کا اور نہ ایرانیوں کو اپنے قائد کا۔ مسعود بن حارثہ جو مسلمانوں کی پیدل فوج کے امیر تھے کہنے لگے: اگر تم دیکھو کہ ہم قتل کر دیے گئے ہیں پھر بھی اپنی مہم سے پیچھے نہ ہٹنا، کیونکہ فوج تتر بتر ہو کر پھر اکٹھا ہو جایا کرتی ہے، تم اپنی صفوں سے مت ہٹنا اور اپنے پہلو میں لڑنے والے جاں باز کی طرح جان کی بازی کا مظاہرہ کرنا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 288) پھر مسعود اور ان جیسے کئی مسلم قائدین زخم خوردہ ہو ہو کر گر پڑے جب مسعود نے دیکھا کہ مجھے زخم خوردہ دیکھ کر لوگ شکستہ دل ہو رہے ہیں تو کہا: اے بکر بن وائل کے مجاہدو! اپنے جھنڈوں کو بلند کرو اللہ تم کو بلند کرے گا۔ میرا شہید ہو جانا تمہیں شکستہ دل نہ بنائے۔ ادھر مثنیٰؓ اپنے بھائی کی شہادت سے پہنچنے والے نفسیاتی جھٹکے کو محسوس کر رہے تھے انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے للکارا: اے مسلمانو! میرے بھائی کی شہادت تمہیں خوفزدہ نہ کر دے۔ تمہارے بہترین جانباز ایسے ہی شہید کیے جاتے ہیں۔ انس بن ہلال نمیری بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑے اور وہ بھی شہید کر دیے گئے۔ حضرت مثنیٰؓ نے انہیں اور اپنے بھائی مسعودؓ کو اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ ہر محاذ پر جنگ کا شعلہ بھڑک رہا ہے لیکن ایرانی فوج کا قلب ان کے مفاد سے پیچھے ہٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اسلامی فوج کا قلب ایرانی فوج کے قلب پر ضرب کاری لگا رہا ہے، ایسے وقت میں حضرت مثنیٰؓ نے اپنا شکنجہ اس میں ٹھونک دیا۔ ایرانی فوج کے قلب میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما سب سے پہلے گھس گئے، ان کے ساتھ بجیر بھی تھے۔ ابن الہوبر اور منذر بن حسان نے ضبہ والوں کو لے کر حملہ کیا نیز قرط بن جماع عبدی بہادری کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ہاتھوں سے کئی نیزے اور تلواریں ٹوٹ گئیں اور اس خون ریز معرکہ میں شہر بزار نامی ایک عظیم ایرانی جاگیر دار اور ان کے شہسواروں کا قائد قتل کر دیا گیا، لڑائی ہوتی رہی اور مسلمانوں نے مشرکین کے قلب کے ایک ایک فرد کو چن چن کر قتل کیا۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 433، 434، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 289) جب میدان جنگ دھول اور گرد و غبار سے بھر گیا تو حضرت مثنیٰؓ ایک لمحہ کے لیے رک گئے یہاں تک کہ گرد و غبار کے بادل چھٹ گئے، مشرکین کا قلب ختم ہو گیا اور ان کا قائد مہران بھی تہ تیغ کر دیا گیا۔ قلب کے بعد میمنہ اور میسرہ کے فوجی دستے تتر بتر ہو گئے۔ جب مسلمانوں نے افراتفری اور بھگدڑ کا یہ ماحول دیکھا اور دیکھا کہ دشمن کا قلب ختم ہو چکا ہے تو ان کے میمنہ و میسرہ نے ایرانیوں کے میمنہ و میسرہ پر زبردست حملہ کر دیا، دشمن کو پیچھے دھکیلتے چلے گئے، اور مثنیٰؓ اپنے مجاہدین ساتھیوں کے ساتھ اللہ سے اپنی فتح کے لیے دعائیں کرنے لگے اور تمام مسلمان مجاہدین میں یہ پیغام کہلوایا کہ ’’تمہاری خوبیاں تمہی جیسے لوگوں سے ظاہر ہوں گی۔ تم اللہ کے دین کی مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا، مسلمانوں نے ایرانیوں کو شکست دے دی، حضرت مثنیٰؓ نے دشمن کو شکست خوردہ ہو کر بھاگتے ہوئے دیکھا تو بڑھ کر پل پر قبضہ کر لیا پھر اسے توڑ دیا اور دشمنوں کو گرفتار کرنے لگے، ایرانی سپاہی دریائے فرات کے ساحل پر منتشر ہو گئے اور اسلامی لشکر کے گھوڑے انہیں دوڑا دوڑا کر روندتے اور قتل کرتے۔ ان کی اس قدر لاشیں گریں کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ بعض مؤرخین نے اس معرکہ میں ایرانی فوج کے مقتولین کی تعداد ایک لاکھ بتائی ہے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 349، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 289)