شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 1 از 11

شہید ابنِ شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

آپ بیمار عابد کے سر پر ہاتھ پھیر کر اٹھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی اور ہی منظر بنا ہوا تھا سیدہ زینب کے سر سے چادر اتری ہوئی تھی بال بکھرے ہوئے ہیں نظر تہرائی ہوئی ہے آنسوؤں کے دو موٹے موٹے قطرے پلکوں سے نیچے آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں صابروں کا امام بھی یہ منظر دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا حوصلہ کر کے آگے بڑھے بہن کی گری ہوئی چادر کو اٹھایا علی کی بیٹی کا سر ڈھانپ دیا سیدہ سکینہ کو گود میں لیا علی اکبر کے سینہ کے خون سے لتھڑے ہوئے سیدہ سکینہ کے چہرے کو اپنے عمامہ سے صاف کیا آنکھوں میں پڑی ہوئی ریت کو عمامہ کا کپڑا پھیر کر نکالا بکھرے ہوئے بالوں کو انگلیوں سے درست کیا اور فرمایا سیدہ سکینہ ہوش میں آؤ، ابا کی آخری زیارت کر لو پھر ساری عمر ابا کا چہرہ دیکھنے کے لیے ترس جاؤ گی بیٹی سیدہ سکینہ اٹھو جلدی کرو آخری ملاقات تو کر لو آخری بار بابا کے سینہ سے تو لپٹ جاؤ پھر تو تمہیں بھی سیدہ صغریٰ کی طرح ساری زندگی رو رو کر تڑپ تڑپ کر ہی گزارنا ہے اٹھو بیٹی اب بابا بھی علی اکبر کے پاس جا رہا ہے آپ دامن سے پنکھا بھی کر رہے تھے اور بے ہوش بیٹی سے گفتگو بھی فرما رہے تھے جلدی معصومہ نے آنکھیں کھول دیں خود کو بابا کی گود میں دیکھا تو لپٹ گئیں تین دن کی پیاسی بچی تین دن کے پیاسے بابا سے گلے مل رہی ہے بابا کی گود میں کچھ سکون ملا بچی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی آپ نے تسلی دے کر فرمایا صبر کرو میری بیٹی تم صابروں کی اولاد ہو مجھے دشمن پکار رہے ہیں اور میری خواہش تھی کہ تو مجھے آخری بار گلے ملے اب مجھے جانے دو افسوس کہ تھوڑی دیر بعد تم یتیم ہو جاؤ گی۔ (شہید ابنِ شہید صفحہ 315_316 مطبوعہ چشتی کتب خانہ جھنگ بازار فیصل آباد)

 شہید ابنِ شہید:

سیدنا حسین نے جب اپنے گھوڑے کو چلانا چاہا تو وہ ہل نہیں رہا تھا آپ نے نگاہیں جھکا کر دیکھا تو سیدہ سکینہ گھوڑے کے پاؤں سے لپٹی ہوئی تھی آپ نے فرمایا بیٹی ان معصومانہ کوششوں سے باپ کے دل پر چھریاں نہ چلاؤ۔ ( شہید ابنِ شہید صفحہ 217)

 تردید اول:

اوپر ذکر کی گئیں دو عبارات میں جو مضمون آپ نے پڑھا اس قسم کی بات کسی بھی معتبر سنی یا شیعہ کتاب میں نہیں پائی جاتی اس عبارت میں جس انداز سے واقعہ وہ بھی من گھڑت بیان کیا گیا۔ اس سے چند چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

1: سیدہ زینب کے سر سے چادر اتری ہوئی اور ان کے بال بکھرے ہوئے تھے کیا خاندانِ رسالت کی عظیم شہزادی کا یہ عمل قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے صراحتاً خلاف نہیں ہے قرآن کریم کہے کہ مصیبت کے وقت صبر کرو اور نماز سے استعانت چاہو اللہ صابرین کے ساتھ ہے گویا سائم فیصل آبادی اس بےبنیاد عبارت سے سیدہ زینب کو قرآن و حدیث کے احکام کے خلاف عمل کرنے والی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ یہ فانوادہ دنیا کے لیے اسلامی تعلقات کا نمونہ تھا۔

سیدہ زینب کی مظلومیت کو اس انداز سے بیان کرنا کہ شرعاً ان پر حرف آتا ہو کہاں کی محبت اہلِ بیت سے؟ حسن رضا نے ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا اہلِ بیت پاک سے بے باکیاں گستاخیاں لعنت اللہ علیکم دشمنان اہلِ بیت۔

2: سیدہ سکینہ کو گود میں لے کر اس عمامہ سے جس سے سیدنا حسین نے سیدنا علی اکبر کا خون صاف کیا ان کی آنکھوں سے ریت کو نکالا یہ واقعہ کس کتاب سے لیا گیا تو جب کسی کتاب میں ان کا ذکر تک نہیں تو سیدنا عالی مقام کی طرف انہیں منسوب کرنا کس قدر بے باکی اور گستاخی ہے اگر کسی معتبر کتاب میں امام عالی مقام کا ایسا کرنا اور ایسا کہنا صائم نعت خوان دکھا دے۔ تو منہ مانگا انعام پائے۔

3: اٹھو سیدہ سکینہ بابا کے سینہ سے لپٹ جاؤ ورنہ تم بھی صغریٰ کی طرح ساری زندگی رو رو کر اور تڑپ تڑپ کر گزارو گی گزرشتہ اوراق میں ہم (سیدہ فاطمہ صغریٰ) کے بارے میں تحقیق بیان کر چکے ہیں اس نام کی سیدنا حسینؓ کی کوئی صاحبزادی نہ تھی جو مدینہ میں پیچھے رہ گئی تو پھر جو دو آپ کی صاحبزادیاں تھیں وہ آپ کے ساتھ میدانِ کربلا میں موجود تھیں لہٰذا سیدہ صغریٰ کا مدینہ میں رہنا اور وہاں آہ و بکا اور رونا رلانا سب بےاصل ہے "سیدہ سکینہ بابا کے سینہ سے لپٹ جاؤ"

کیا سیدنا عالی مقام نے سیدہ سکینہ کو واقعی یہ الفاظ کہے؟ اگر کہے تو اس کا کسی معتبر کتاب سے ثبوت پیش کر کے منہ مانگا انعام حاصل کیا جائے علاوہ ازیں سیدہ سکینہ کوئی بچی نہیں کہ انہیں سینے سے لپٹ جانے کا کہا جائے۔ انہیں بچی کہنا اور گود میں لیے جانے کی بات کرنا قطعاً من گھڑت ہے آپ شادی شدہ ہیں اور ان کے خاوند سیدنا عبداللہ بن حسن یہ دونوں واقعی کربلا میں موجود تھے۔

4: اب مجھے جانے دو افسوس کہ تھوڑی دیر بعد تم یتیم ہو جاؤ گی جس بیٹی کو باپ یتیمی کی پیشین گوئی کر رہا ہو کیا وہ ایسا کر کے بیٹی کو صبر کی تعلیم و تلقین کر رہا ہوگا یا بےصبری کی طرف بلا رہا ہوگا ایسی عبارات لکھتے وقت ان لوگوں کو قطعاً خدا خوفی اور شرعاً اہلِ بیت کی پرواہ نہیں ہوتی بس عبارت میں رنگینی پیدا ہو جائے چاہے حدود شرعیہ پامال ہو جائیں اس کی پرواہ تک نہیں۔

5: "بیٹی ایسی معصومانہ کوششوں سے باپ کے دل پر چھریاں نہ چلاو" معصوم عام طور پر نابالغ بچوں کو کہاں جاتا ہے یا پھر شیعہ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ بارہ امام اور ان کی اولاد معصوم ہیں اگر معصوم سے مراد پہلا معنیٰ ہے تو یہ واقعات کہ بالکل خلاف ہے کیونکہ سیدہ سکینہ شادی شدہ تھیں اس پر مزید گفتگو عنقریب آرہی ہے اور اگر دوسرا معنیٰ پیش نظر ہے تو یہ اہلِ سنت کا عقیدہ نہیں لہٰذا صائم چشتی سنی بن کر شیعوں کے مسلک کی ترجمانی کر رہا ہے یہی طریقہ اس نے "مشکل کشا" نامی کتاب میں اپنایا ہے اور شہید ابنِ شہید بھی ایسے ہی خیالات و نظریات کا پلندہ ہے۔

 سکینہ گھوڑے کے پاؤں پکڑے ہوئے ہونا صائم چشتی نے ذکر کیا اسی من گھڑت داستان کو افتخار الحسن صاحب نے اپنے رنگ میں ڈھال کر بیان کیا فرضی مکالمے اور من گھڑت گفتگو اس انداز سے کی کہ جیسا واقعہ کے چشم دید گواہ ہوں۔ عبارت ملاحظہ ہو۔

صفحہ 1 از 11