شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 10 از 11

ترجمہ: پھر گھوڑا کودا اور آپ نے تلوار کھینچ لی واضح ہوا کہ سیدنا عالی مقام کی سواری معتبر کتابوں میں دو ناموں سے مذکور ہے ایک گھوڑا حضورﷺ کا تھا جس کا نام مرتجز تھا دوسری سواری اونٹ تھی جس کو مسنا کہتے تھے اور گھوڑا کہ جسے ذوالجناح کا نام دیا گیا ہے حدیث اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں میں نے اس کا نام نہیں دیکھا اور ذوالجناح ایک شخص شمر بن لھیعہ کا لقب تھا اور کسی کے گھوڑے کا یہ نام میں نے نہیں سنا اور اگر چند گھوڑوں کا نام جناح ہو اور اس کے ساتھ ذو کا لفظ جوڑ کر ذوالجناح بنایا جائے تو بھی یہ گھوڑا سیدنا حسین کا نہیں ہو سکتا اور اگر حضورﷺ کے گھوڑوں کا نام جناح رکھیں پھر بھی ذوالجناح کہنا غلط ہے بہر حال اس نام کا گھوڑا کوئی نہ تھا۔

 توضیح: شیعہ مؤرخ کی مذکورہ تحریر سے چند امور ثابت ہوتے ہیں۔ 

1۔ سیدنا عالی مقام کی سواریاں صرف دو تھیں ایک گھوڑا اور دوسری اونٹنی۔ 

2۔ مرتجز نامی گھوڑا اور اصل رسول کریمﷺ کا گھوڑا تھا جو سیدنا عالی مقام کو ملا۔ 

3۔ احادیث اخبار اور تاریخ کی معتبر کتابوں میں ذوالجناح نام کے گھوڑے کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔

4۔ سیدنا عالی مقام کے کسی گھوڑے کا نام ذوالجناح نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حضورﷺ کے گھوڑے مرتجز کا نام ذوالجناح ہو سکتا ہے۔

جب سیدنا عالی مقام کی سواریاں صرف دو ہی تھیں کیا یہ دونوں سواریاں واقعہ کربلا میں آپ کے پاس موجود تھیں؟ اس کا جواب علامہ طبری سے سنیے۔ 

تاریخ طبری: عن القاسم بن اصبغ بن بناته قال حدثنى مَنْ شَهِدَ الْحُسَيْنَ فِي عَسْكَرِهِ أَنَّ حُسَينَ حِينَ غَلَبَ عَلَى عَسْكَرِهِ رَكِبَ الْمُسَناتِ۔

(تاریخ طبری: جلد 1 صفحہ 258 سن 61ھ مطبوعہ بیروت)

 ترجمہ: قاسم بن اصبغ بن بنانہ کہتا ہے کہ میں نے ایسے شخص سے سنا جو سیدنا حسین کے لشکر میں موجود تھا کہ جب سیدنا حسین کا لشکر مغلوب ہوگیا تو آپ مسنات نامی اونٹنی پر سوار ہو گئے۔

 الكامل في التاريخ: ثُمَّ رَكِبَ الْحُسَيْنُ رَاحِلَةً وَ تَقَدَّمَ إِلَى النَّاسِ وَنَادَى بِصَوْتٍ عَالٍ يَسْمَعُهُ كُلُّ أَنَاسٍ۔

(الكامل فى التاريخ: جلد 4 صفحہ 61 ثم دخل سنة احدى وستين ذكر مقتل الحسين مطبوعه بيروت)

 ترجمہ: پھر سیدنا عالی مقام اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگوں کی طرف تشریف لے گئے اس زور سے بولے کہ تمام لوگوں نے آپ کی آواز سن لی۔ 

قارئین کرام اس حوالہ سے بھی معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام کے پاس کربلا میں اونٹ تھا گھوڑا نہیں اور جن لوگوں نے سیدنا حسینؓ کے لیے گھوڑے ثابت کیے اور دعوے کیے کہ کربلا میں سیدنا حسینؓ اور آپ کے رفقاء کے پاس گھوڑوں کے اثبات پر ہم تو حوالہ جات پیش کر سکتے ہیں یہ ان کا دعویٰ صرف روایت پرستی پر موقوف ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جس کی حقیقت یہ ہی ہے کہ سیدنا حسینؓ کے پاس اونٹ تھا گھوڑا نہیں تھا کو ابھی ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کر چکے ہیں۔ 

فاعتبروا يا اولى الابصار

امام حسین کے پاس میدانِ کربلا میں گھوڑا ہونے پر مولوی عبد السلام کا بےاصل دعویٰ

اعلیٰ حضرت کے زمانہ میں یقیناً اتنے خرافات ماہ محرم اور واقعہ کربلا کے لیے ایجاد نہ ہوئے تھے جتنے اس زمانہ میں ایجاد ہوچکے ہیں تو اعلیٰ حضرت نے بھی اپنے زمانہ کے واعظین اور مصنفین کو جنہوں نے واقعہ کربلا کو رنگیلاپنی سے بیان کرنے کا طریقہ اپنایا اور کتابیں لکھیں ان کے ان افعال پر آپ نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مراتب ان کے لیے ذکر کیے تو اب ہمارے زمانہ میں تو ان سنی واعظین نے حدیں ہی توڑ دیں جیسا کہ گزر چکا ہے لیکن ان میں سے ایک صاحب مولوی عبدالسلام ہیں جن کی تصنیف کردہ کتاب کا نام شہادت نواسہ سید الابرار ہے یہ اس کتاب میں لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے بعض لوگ بڑے دعویٰ سے دس ہزار روپے کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی گھوڑے کے ہونے کا ثبوت دیدے تو دس ہزار روپیہ انعام دیں گے تو اس کا جواب یہ ہے سنی کتب میں سے کسی میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں آیا کہ آپ کے پاس اونٹ ہی تھے گھوڑا نہ تھا بلکہ تمام کتب معتبرہ میں اس امر کا واضح ثبوت بارہا ملا ہے کہ گھوڑے تھے اور خود جس پر سوار ہو کر سید شہداء گر کر شہید ہوئے تھے وہ گھوڑا تھا اونٹ نہیں عجیب بےوقوفی ہے کہ جس چیز کا کسی جگہ ذکر نہیں اس کے متعلق کہنا کہ یہ کتب معتبرہ میں موجود ہے اور جس چیز کا متعدد کتب میں ذکر ہو اس کے وجود کا انکار ہو رہا ہے اور پھر اس پر دس ہزار روپے انعام کا اعلان کیا جارہا ہے تو میں ایک کتاب کیا بلکہ ایک سو معتبر کتب سے ثبوت دے سکتا ہوں جیسا کہ میں اس کتاب میں اس کا ثبوت بھی دے چکا ہوں چاہیے کہ فی الفور مجھے دس ہزار روپیہ بذریعہ ڈاک منی آرڈ کر دیا جائے۔ 

(شہادت نواسئه سید الابرار: صفحہ 840  امام علیہ السلام کے نام کی تحقیق مطبوعہ مکتبہ حامد یہ لاہور)

مذکورہ عبارت کی تردید: مولوی عبدالسلام کا یہ دعویٰ ہی بلاتحقیق ہے ورنہ ہم نے گذشتہ اوراق میں چند معتبر کتب کے حوالہ جات اس بارے میں پیش کر دیے ہیں کہ سیدنا عالی مقام کے پاس مدینہ منورہ سے شہادت تک گھوڑا نہیں بلکہ اونٹ تھا ان کے علاوہ اور بھی شیعوں کی ایک بڑی ضخیم اور معتبر کتاب اعیان الشیعہ جو دس جلدوں پر مشتمل ہے اس سے ہم اس مسئلہ کی تحقیق پیش کرتے ہیں کہ جس کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

اعيان الشيعه: محمد بن حنفیہ کو جب معلوم ہوا کہ سیدنا حسین کربلا کی تیاری کر رہے ہیں تو فاتَاہ فَأَخَذَ بِنَ مَامِ نَاقَتِهِ وَقَدْ رَكِبَهَا فَقَالَ يَا أَخِي المُ تَحدُنی النَّظْرَ فِيمَا سَأَلْتُكَ الخ محرَّكَ رَاحِلَتَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ۔

 (اعيان الشيعة: جلد اول صفحہ 593 تا 594 سيرة الحسين خروجه الى العراق مطبوعہ بيروت)

صفحہ 10 از 11