شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 11 از 11

ترجمہ: محمد بن خنفیہ نے حسین کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اس صورت میں کہ حسین اونٹنی پر سوار ہو چکے تھے تو سیدنا محمد بن حنفیہ نے عرض کی اے میرے بھائی کیا تو نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں کربلا جانے کے سفر میں غور و فکر کروں گا تو جب حسین کی فرزدق شاعر نے راستے میں ملاقات کی تو حسین نے اس سے کوفہ والوں کا حال پوچھا تو فرزدق نے کہا ان کے دل تمھارے ساتھ ہیں اور ان کی تلواریں بھی تم پر ہیں تو اس ساری گفتگو کے بعد حسین نے اپنی اونٹنی کو آگے چلنے کے لیے حرکت دی اور فرزدق کو کہا السلام علیک۔

 اعيان الشيعه: حسین جب کربلا میں دوسری جمعرات محرم کی سن 61 ھ کو پہنچے تو فرمایا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کہا گیا کربلا آپ نے فرمایا اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ کربلا سے پناہ مانگتا ہوں پھر اپنے اصحاب پر متوجہ ہوئے پھر فرمایا کہ یہ کربلا ہے لوگوں نے کہا ہاں ابنِ رسولﷺ فَقَالَ هَذَا مَوضِعُ كَرْبِ بَلَاءِ انْزِلُوا ههُنَا مَنَاحُ رِكَابِنَا وَمَحَطَّ رِحَالِنَا وَمَسْفَكَ دِمَاتِنَا. وَمَقْتَلُ رِجَالِنَا

 (اعيان الشيعه: جلد اول صفحہ 598 سيرت الحسين وصوله کر بلا مطبوعه بيروت طبع جديد)

ترجمہ: حسین نے فرمایا یہ کربلا کی جگہ ہے اتر جاؤ ہماری سواریاں بٹھانے کی اور کجاووں کو اتارنے کی اور ہمارے مردوں کے قتل ہونے کی اور ہمارے خون گرانے کی یہی جگہ ہے۔ 

اعيان الشيعه: حسین کو جب میدانِ کربلا میں شمر نے روک لیا تو آپ نے فرمایا 

قَدْ بَلَغَكُمْ قَوْلُ نَبِيِّكُم الحَسَنُ وَالْحُسَين سَیدا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ المَفيدُ ثُمَّ دَعَا الْحُسَيْن بِرَاحِلَتِهِ فرَكِبَهَا وَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ۔ 

(اعيان الشيعه جلد اول صفحہ 602 سيرت الحسين صفہ القتال مطبوعه بيروت)

ترجمہ: حسین نے فرمایا تمہارے نبی کی یہ بات تمھیں پہنچ چکی ہے کہ حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں شیخ مفید نے کہا اس خطبہ کے بعد پھر حسین نے اپنی اونٹنی منگوانی اس پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے ندا دی۔

 قارئین کرام غور فرمائیں شیعوں کے خاتم المحققین الامام محسن الدین نے اپنی شہرہ آفاق کتاب اعیان الشیعہ میں اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ جب سیدنا حسینؓ نے مدینہ شریف سے چلنے کا ارادہ کیا تو سیدنا محمد بن حنفیہؒ نے آ کر ان کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی جس پر سیدنا حسینؓ سوار تھے اور روکنے کی کوشش کی لیکن سیدنا حسینؓ نہ روکے راستے میں پہنچے تو فرزدق شاعر سے ملاقات ہوئی تو اس سے کوفہ والوں کے حالات پوچھے تو اس نے جواب دیا کہ ان کے دل تمہارے ساتھ لیکن تلواریں بھی تم پر ہیں سیدنا حسینؓ نے یہ جواب سن کر اپنی اونٹنی کو حرکت دی اور اسے السلام علیک کہا جب سیدنا حسینؓ کربلا میں پہنچے تو اس جگہ کا نام پوچھا تو لوگوں نے کہا اس کا نام کربلا ہے تو آپؓ نے فرمایا ہمارے والد نے اس مقام پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا تھا کہ حسین اور اس کے قافلے کے اونٹ یہیں بیٹھیں گے اور کجاوے بھی یہیں اتریں گے اور یہاں ہی ہمارے لوگ قتل ہوں گے اس کے بعد جب سیدنا حسینؓ نے جہاد کی تیاری کی اور آپؓ نے صف آراری فرمائی تو اپنی اونٹنی منگوا کر اس پر سوار ہوئے مذکورہ عبارت کا خلاصہ یہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو گھوڑا نکالنے والے اور اس کی پوجا پاٹ کرنے والے ہیں جب ان کی ایک ضخیم کتاب کہ جس کی میں نے اگرچہ پوری عبارت باعث طوالت کے نقل نہ کی مگر مذکورہ الفاظ من و عن اعیان الشیعہ سے میں نے نقل کیے اور ان کا ترجمہ پیش کیا اس کے بعد کسی شیعہ کو تحقیقی طور پر حق نہیں پہنچتا کہ وہ سیدنا حسینؓ کا گھوڑا نکالیں اور اس پر نوحہ خوانی اور ماتم برپا کریں اور اس کو ذوالجناح کا نام دیں میں ان تمام چیزوں کی تردید کر چکا ہوں ذوالجناح نام تو کجا اصل میں وہاں گھوڑا ہی موجود نہ تھا تو پھر گھوڑا نکالنے اور ماتم برپا کرنے کا کیا معنیٰ پھر مجھے اپنے سنی مولوی محمد عبد السلام پر افسوس ہے کہ اس نے بغیر تحقیق کے سو (100)حوالہ گھوڑے کے نکالنے پر پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے یہ صرف روایت پرستی پر موقوف ہے کہ جس کی تحقیق میں پیش کر چکا ہوں اگر کوئی مولوی یہ ثابت کر دے کہ سیدنا حسینؓ کو اتنے گھوڑے کہاں سے ملے، دینے والا کون تھا؟ منہ مانگا انعام پائے اس لیے ان حوالہ جات کو پڑھ کر مولوی عبد السلام کو چاہیے کہ مبلغ دس ہزار بذریعہ منی آرڈر روانہ کردے ورنہ انکو عظیم ندامت اٹھانی پڑے گی۔ 

نوٹ: مولوی عبد السلام کے دعویٰ کو پڑھ کر میں خود ان سے ملنے ان کے گھر واقعہ دھوپ سڑی ساندہ کلاں لاہور گیا اور ملاقات پر پوچھا کہ گھوڑوں کی موجودگی کے بارے میں آپ نے حوالہ جات کس کتاب سے نقل کیے ہیں انہوں نے حیات المنفی نامی کتاب کا ذکر کیا جو ناپید ہے میں نے گزارش کی کہ مجھے وہ کتاب دکھائی جائے انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ کتاب سیالکوٹ کوٹلی لوہاراں میں کسی کے پاس میں نے محفوظ رکھی ہوئی ہے منگوا کر آپ کو دکھاؤں گا میرے ساتھ قریب ہی آبادی کے ایک عالم دین محمد شرف الدین صاحب بھی تھے وہ اس بات کے گواہ ہیں ان کی موجودگی میں میں نے کہا کہ کرایہ آمدورفت میرے ذمہ آپ وہ کتاب منگوائیں تاکہ کتاب کو دیکھ کر پتہ چل سکے کہ کس قسم کی کتاب اور کس مصنف کی کتاب ہے اس پر مولوی عبدالسلام صاحب نے اس کے تصنف اور اس کی کتاب کی بہت زیادہ تعریف کی کہ اس کا لکھنے والا نہایت محقق آدمی ہے اور ان کی کتاب تحقیق سے بھری پڑی ہے۔

مختصر یہ ہے کہ وہ کئی وعدے کرنے کے باوجود کتاب نہ دکھا سکے اس قسم کے وعدے وہی لوگ کرتے ہیں جن کی محض واقعات تک رسائی ہوتی ہے تحقیق سے کام نہیں لیتے گھوڑوں کے موجود ہونے والی روایات وہی ہیں جو غیر معتبر کتب میں لوگوں نے لکھ ڈالیں اور سراسر من گھڑت ہیں ان تمام روایات کا مأخذ لوط بن یحییٰ ابومخنف ہے اس کے علاوہ کسی معتبر کتاب نے خواہ وہ شیعہ مسلک کی ہو یا سنی مسلک گھوڑوں کا تذکرہ نہیں بلکہ تردید کی ہے اور لوط بن یحییٰ ابومخنف ایسے واقعات تراشنے کا بہت ماہر تھا۔ 

فاعتبروا يا أولى الابصار


صفحہ 11 از 11