شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 4 از 11

 کیا یہ لوگ سیدنا عالی مقام کو گھوڑے پیش کرنے والے ہو سکتے ہیں؟ اگر کوئی سنی واعظ اور شیعہ ذاکر کسی معتبر کتاب کے حوالے سے ثابت کر دیں کہ سیدنا عالی مقام کو میدانِ کربلا میں فلاں قبیلہ فلاں سردار یا فلاں نامی شخص نے گھوڑے پیش کیے تھے تو میں اسکو ہزار روپیہ انعام پیش کرونگا اگر گھوڑے پیش کرنے والا ہی کوئی نہیں اور خود یہ خاندان اہلِ بیت کا قافلہ اونٹوں پر سوار ہو کر آیا تھا تو پھر سیدنا عالی مقام سے گفتگو وغیرہ سب باتیں سرے سے ہی جھوٹی ہوئیں جب کوئی ثابت ہی نہیں کر سکتا کہ "ذوالجناح" وہاں تھا تو پھر فرضی واقعات سے اس خاندان اہلِ بیت کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ انہوں نے صبر و ہمت کا دامن چھوڑ دیا تھا اور اپنا سکہ جمانے کی خاطر عوام کو غلط باتوں پر رلانا کیا ایسے واعظین و ذاکرین کو شرمِ نبی اور خوفِ خدا نہیں آتا ایسے واہی تباہی کہنے والوں کے بارے میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی چند عبارات نقل کر چکا ہوں جن سے خاص کر سنی واعظین کو اپنی روش تبدیل کرنی چاہیے خصائص کبریٰ اور سر الشہادتین کے حوالہ سے سیدنا عالی مقام کے بارے میں حضورﷺ کی پیشین گوئی بذریعہ سیدنا علی المرتضیٰؓ غلط نہیں ہوسکتی اس لیے حقیقت یہ ہے کہ سیدنا عالی مقام اپنے رفقاء و اہل و عیال کے ہمراہ اونٹوں پر سوار ہو کر کربلا پہنچے تھے۔

 سیدنا حسینؓ نے سفر کا آغاز او نٹنی پر فرمایا

 ذبحِ عظیم بجوالہ مقتل ابی مخنف: ثم ان محمد ابنِ حنفيه سَمِعَ إِنَّ أَخَاهُ الْحُسَيْنَ يُرِيدُ الْعِرَاقَ فَبَكَى بكاء الشديدًا ثُمَّ قَالَ لَهُ أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ قَدْ عَرَفتَ غدْرَهُمْ بِأَبيكَ وَأَخِيكَ وَإِن قَبْلَتُ قَولِي أَقِمْ بِمَكَّةَ فَقَالَ يَا أَخِي اتِي أَخْشَى أَنْ تَقَاتِلَنِي جُنُودُ بَنِي أُمَيَّةَ بِمَكَّةَ فَأَكُونَ كَالَّذِي يَسْتَبَاح رَمَهُ فِي حَرُمِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ يَا اخى فيسر الى يمين فانك امن الناس به فقالَ الْحُسَيْنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا أَخِي لَو كُنتُ فِي بَطْنِ صَخْرَةٍ لَا سَتَخْرِجونِي مِنْهَا فَيَقْتَلُونَنِي ثم قَالَ لَهُ الْحُسَيْنِ يَا اخی سَانُظُرُ فِيمَا قُلْتَ فَلَمَّا كان وقت السحْرِ عَزَمَ السَّيرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَخَذَ محمد بن حنفيہ مام نَاقَتِهِ وَقَالَ يَا اخي مَا سَبَبْ ذَالِكَ أَنَّكَ عَجِلْتَ فَقَالَ جَدِّي رسول الله اتانِي بَعْدَ ما فارقتُكَ وَأَنَا قائِمٌ فَضمْنِی إِلَى صَدْرِهِ قَبْلَ بَيْنَ عَيْنتى وَقَالَ لِي يَاحُسَيْنُ يَا قَرَةُ عَيْنِي اخْرُجُ إِلَى الْعِرَاقِ فَإِنَّ الله عزوَجَلَّ قَدْ شَاءَ أَنْ يَرَاكَ قَتِيلا۔

(ذبح عظیم: صفحہ 165 مکہ معظمہ سے سیدنا حسین کی روانگی مطبوعہ مینجر کتب خانہ اثنا عشری لاہور) 

ترجمہ: پھر جب حسین کے بارے میں ان کے بھائی محمد بن حنفیہ نے سنا کہ آپ عراق جانے کا ارادہ کر رہے ہیں تو وہ بہت روئے پھر کہا بھائی جان! اہلِ کوفہ نے آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ جو بے وفائی اور غداری کی آپ اسے بخوبی جانتے ہیں کہ اگر میری بات مانیں تو مکہ ہی میں ٹھہرے رہیں۔ عالی مقام نے جواب دیا بھائی مجھے خطرہ ہے کہ بنوامیہ کے لشکر مکہ میں ہی مجھ سے لڑنا شروع نہ کر دیں تو پھر بھی ایسے لوگوں میں سے ہو جاؤں جن کا خون اللہ کے حرم میں مباح ہو جائے پھر سیدنا ابنِ حنفیہ نے کہا کہ آپ مدینہ تشریف لے جائیں وہاں آپ بالکل امن میں رہیں گے۔ عالی مقام نے فرمایا بھائی! اگر میں کسی چٹان کے اندر بھی ہوا تو بھی وہ لوگ مجھے وہاں سے نکال کر شہید کر دیں گے پھر آپ نے فرمایا اچھا میں تمہاری پیش کش پر غور کروں گا جب سحری کا وقت ہوا آپ نے عراق کی طرف سفر کا عزم فرمایا تو محمد بن حنفیہ نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی اور کہا بھائی جان! آپ کے جلدی کرنے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا تمہارے جانے کے بعد نیند کی حالت میں نانا جان رسول اللہ تشریف لائے تھے میری آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور مجھے سینہ سے لگا کر فرمانے لگے بیٹا حسین! اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک عراق کی طرف سفر پر نکل پڑو اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ وہ تمہیں شہید ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔صاحبِ ذبح عظیم سید اولادِ حیدر نے مقتل ابی مخنف کی عبارت سے جو حوالہ نقل کیا ہے میں نے اس کی مکمل عبارت نقل کر دی ہے وہ اس حوالہ میں عالی مقام کے بھائی محمد ابن حنفیہ کا سیدنا حسین کے عزم سفر کے وقت ایک عمل ہمارے سامنے ہے "فاخذ محمد بن حنفيہ مام ناقة سیدنا محمد بن حنفیہ نے سیدنا حسین کی اونٹنی کی مہار پکڑی جس کا واضح مطلب ہے کہ سیدنا حسین نے سفر کرتے وقت اونٹنی پر سفر فرمایا تھا راستہ میں کہیں تبدیل ہو گئی اور اس کی جگہ گھوڑا سواری کے لیے آپ نے لیا اس کا کوئی ثبوت نہیں تو معلوم ہوا کہ گھوڑے کا ذکر اور ذوالجناح کی کہاوتیں بالکل لایعنی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

مدینہ منورہ سے کربلا تک آپ کی سواری اونٹنی ہی رہی:

 تاریخ طبری: فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْنُ بَيْنِ لَنَانَبَأَ النَّاسِ خَلْفَكَ فَقَالَ لَهُ الفرزدق من الخبير مَالَتْ قُلُوب النَّاسِ مَعَكَ وَ سَيُوفُهُم مَعَ بَنِي أُمَيَّةَ وَالْقَضَاء يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَاللَّهِ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْنِ صَدَقَتَ لِلَّهِ الْأَمْرُ وَاللَّهِ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ وَكُلُّ يَوْمِ رَبَّنَا فِی شَأْنٍ أَنْ نَزَلَ الْقَضَاءَ بِمَا يَحِبُّ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى نِعْمَائِهِ وَهُوَ المُستَعَانُ عَلَى آدَاءِ الشَّكْرِ وَأَنَّ حَالَ الْقَضَاء دُونَ الرجال فلم يعتد مَنْ كَانَ الْحَقُّ نيتُهُ وَتَقَوَى سَرِيرُهُ ثُمَّ حَرَكَ الْحُسَيْنُ راحِلَتَهُ فقال السلام عليك ثُمَّ افترقا۔

( تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 218 سن 20ھ)

صفحہ 4 از 11