شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 5 از 11

 ترجمہ: فرزدق کو سیدنا حسین نے فرمایا کہ اپنے پیچھے لوگوں کی بات بتاؤ تو اس نے کہا کہ آپ نے واقعی صحیح جاننے والے سے پوچھا ہے لوگوں کے دل آپکے ساتھ ہیں اور ان کی تلواریں بنوامیہ کے ساتھ قضاء آسمان سے اترتی ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے پس سیدنا حسین نے فرمایا تو نے سچ کہا تمام کام اللہ کو ہی زیب دیتے ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ہمارا رب ہر دن ایک نئی شان سے ظاہر ہوتا ہے وہ جو پسند کرتا ہے ویسی ہی قضاء اتارتا ہے ہم اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہیں اور ادائے شکر پر اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے اگر اس کی قضاء لوگوں پر اترتی ہے تو جس کی نیت صحیح ہوتی ہے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کی قوت باطنی مضبوط ہوتی ہے یہ کہا، پھر سیدنا حسینؓ نے اپنی سواری (اونٹنی) کو حرکت دی السلام علیک کیا اور چل دیے۔ 

قارئین کرام! فرزدق کی ملاقات کوفہ کے راستہ میں ہوئی تھی حوالہ مذکورہ یہ بتا رہا ہے کہ آپ اس وقت بھی اونٹنی پر ہی سوار تھے اور گھوڑا ہوتا تو اس پر سوار ہوتے عزم سفر کے وقت بھی اونٹنی پر اور دورانِ سفر بھی اونٹنی پر سوار ہونا ثابت اور محقق ہے۔ 

میدان کربلا میں سیدنا حسینؓ کا اونٹنی پر اور دورانِ سفر بھی اونٹنی پر سوار ہونا ثابت اور محقق ہے۔

 كشف الغمه:  فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ هَذَا كَربَلا مَوَضَعَ كَرْبِ وَ بَلَاء هَذَا امَنَاخ رِكَابِنَا وَ مَحَطِ رِحَالِنَا وَمَقْتَلِ رِجَالِنَا۔

 (1۔كشف الغمة في معرفة الائمه جلد دوم صفحہ 347 في مصرعه ومقتله عليه السلام مطبوعه تبریز ایران) 

(2۔ مناقب ابنِ شهر آشوب جلد چہارم صفحہ97 فی مقتله عليه السلام مطبوعه قم طبع جدید) 

(3۔ مقتل ابی مخنف) 

ترجمہ: حسین نے فرمایا یہ کربلا مصائب کی جگہ ہے یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہیں ہیں۔

اخبار الطوال: قَالَ الْحُسَيْن وَمَا اسْم هَذَا الْمَكَانُ قَالُوا لَهُ كَرْبَلا قَالَ ذَاتَ كَرْبٍ وَ بَلَاءٍ وَلَقَدْ مَرَابِي بِهذا المكان عنہ مسيرة الى صفين و انا معه فوقف فَسَأَلَ عَنْهُ فَاخْبِرَ بِاسْمِهِ فَقَالَ ھھنَا مُحَط ركَابِهِمْ وَهَهُنَا مِحْرَاقُ دِمَاءهِمْ۔

(الاخبار الطوال مصنفه احمد بن داود صفحہ 353 نیابت الحسین مطبوعه بیروت طبع جدید)

ترجمہ: حسین نے پوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے کہا کربلا فرمایا مصیبت کی جگہ میرے والد گرامی جب صفین کی طرف جارہے تھے اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا تو آپ کا جب یہاں سے گزر ہوا تو کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے اس جگہ کے بارے میں پوچھنے لگے تو آپ کو اس کا نام بتایا گیا آپ نے فرمایا یہ جگہ ان (شہیداء کربلا) کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہاں ان کا خون گرے گا۔ 

قارئین کرام روایت بالا کے راوی خود سیدنا حسینؓ اور جن کی طرف سے بات ذکر فرما رہے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم لدنی عطا فرمایا ہے میں اس روایت کے ذکر کرنے کے بعد خاص کر اہلِ سنت کہلانے والے واعظین کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جب میدانِ کربلا میں اونٹوں پر سے سیدنا عالی مقام اور ان کے ساتھیوں کا اترنا اور ان کے بیٹھنے کی جگہ وہ بیان فرما رہے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم لدنی عطا فرمایا کہ جس کی وجہ سے ان کی خبر جھوٹی نہیں ہو سکتی تو پھر آپ لوگ کس منہ سے میدانِ کربلا میں "ذوالجناح" کے فرضی واقعات بیان کر کے لوگوں سے دادِ خطابت وصول کرتے ہیں؟ 

اور اس روایت کو شیعہ ذاکرین بھی بار بار پڑھیں یہ ایسے دو عظیم المرتبت حضرات کی روایت ہے جو معصومین کے سردار ہیں وہ کربلا میں وارد ہونا اونٹوں پر بیان فرمائیں اور تم ان کی سواریاں گھوڑوں کو بناؤ کیا ان کی بات سچی ہے یا تمہاری کہانیاں درست ہیں؟ سواری سے اتر کر آپ نے اپنے خادم عقبہ کو جو حکم دیا وہ بھی سن لیجیے۔ 

مقتل ابی مخنف: فَقَالَ الْحَسَين وَالله لَا أَعْطِی بِيَدِی أَعْطَاء الذلِيلِ وَلَا أُفر فِرَارَ الْعَبِيدِ ثُمَّ تَلَا إِنِّى عَذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبَر لَا يُؤْمِنْ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ثم انَاخَ رَاحِلَتَه وَأَمَرَ عُقَبَهِ مِنْ سَمُعَانَ أَنْ يُعْقِلُهَا بِفَاضِلِ رِمَامِهَا۔  

(مقتل ابی مخنف: صفحہ 55 مضائقه القوم للحسين مطبوعه حیدریه نجف اشرف ایران)

 ترجمہ: پھر حسین نے فرمایا خدا کی قسم میں (بیعت کے لیے) ہاتھ کسی ذلیل کی طرح نہ دوں گا اور نہ کسی بزدل کی طرح بھاگوں گا پھر آپ نے یہ تلاوت فرمائی انی عذت الخ ۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ ہر ایسے متکبر سے چاہتا ہوں جو قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا پھر آپ نے اپنی اونٹنی بیٹھائی اور عقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ اس کی فالتو مہار سے اس کے گھٹنے باندھ دو۔ 

بحار الانوار: ثمَّ قَالَ هَذِهِ كَرْبَلَا فَقَالُوا نعَمْ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ هَذَا مَوْضَعُ كَرُبَلًا فَقَالُوا نَعمْ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ فَقَالَ هَذَا مَوْضَعَ كَرُبَلَا هَذا مَنَاخ رِکابِنَا وَمَحَطِ رِحالِنَا وَمَقْتَلِ رجَالِنَا وَسَفَكِ دمائنا

(بحار الانوار: جلد 44 صفحہ 383 تاریخ سیدنا حسین بن علی مطبوعہ تہران)

ترجمہ: پھر پوچھا یہ کربلا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں یہ کربلا ہے اے رسول اللہﷺ کے فرزند پھر پوچھا یہ مقام کربلا ہے؟ لوگوں نے کہا اے رسول اللہ کے فرزند ہاں یہ کربلا ہے فرمایا یہ جگہ ہمارے اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ اور ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ اور ہمارے مردوں کی شہادت گاہ اور اور ہمارے خون گرنے کی جگہ ہے۔

ناسخ التواريخ: فَقَالَ أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ ثُمَّ قَالَ قِفُوا وَلَا تَرَخلُوا منها وَهھنَا وَاللَّهِ مَنَاخُ رِكَابِنَا وَ هَهُنَا وَاللَّهِ مَسْفَكِ دِمَائنَا وَهَهُنَا وَ اللَّهِ مَتُكُ حَرِيمِنَا، وَهَلَنَا وَاللَّهِ مَقْتَلِ رِجالِنَا وَهُهُنَا والله ذبح أَطْفَالِنَا وَهُهَنَا وَاللَّهِ تُزَارُ قُبُورہ وَبِهَذَهِ التَّرْبَةِ وَعَدَنی جَدَى رَسُولُ اللَّهِ ولا خلف لقوله۔

(1۔ ناسخ التواريخ جلد 2 صفحہ 161  دراحوالات سید الشہداء ورود حسين بزمین کربلا مطبوعہ تہران)

صفحہ 5 از 11