شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 6 از 11

ترجمہ: پھر فرمایا یہ مصیبت کی زمین ہے پھر فرمایا یہاں رک جاؤ آگے کوچ نہ کرنا خدا کی قسم یہاں ہمارے گھر والوں کی عزت لوٹی جائے گی خدا کی قسم یہاں ہمارے مردوں کو ذبح کیا جائے گا خدا کی قسم یہاں ہمارے بچوں کو شہید کیا جائے گا خدا کی قسم یہ وہ جگہ ہے جس کا مجھ سے میرے نانا جان نے وعدہ کیا تھا اور ان کے قول میں غلطی نہیں۔ 

قارئین کرام سیدنا حسینؓ نے قسمیں کھائیں کہ میدانِ کربلا ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور ان کے کجاوے رکھنے اور ہمارے شہید ہونے کی جنگ کے ہے ان تمام باتوں کا وعدہ اس شخصیت نے مجھ سے کیا تھا جن کی بات غلط نہیں ہو سکتی جب وہ غلط نہیں ہو سکتی تو پھر لازماً سیدنا حسینؓ میدانِ کربلا میں اونٹوں پر پہنچے انہیں وہاں بٹھایا سنی واعظین اور شیعہ ذاکرین کی غلط بیانی کو دیکھیں یا جناب رسالت مآبﷺ کے سچے قول کو دیکھیں تو یقیناً ہر مسلمان ہی فیصلہ کرے گا کہ رسول کریمﷺ کی بات سچی ہے تو معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقامؓ اونٹوں پر میدانِ کربلا میں تشریف فرما ہوئے اور یہیں اتر کر اونٹوں کو رسیوں سے باندھنے کا حکم دیا شیعوں کے مسلک کے ستون اور ان کے مذہب کے نامور مجتہد کہ جس کی ہر بات حرف آخر سمجھتی جاتی ہے اس کی زبانی سنیے کہ سیدنا عالی مقامؓ مدینہ منورہ سے کیسی سواری پر چڑھ کر روانہ ہوئے اور چلتے چلتے میدانِ کربلا میں پہنچے تو اس وقت کون سی سواری آپ کے نیچے تھی؟ ملاحظہ ہو۔

بحار الانوار: فَلَمَّا كَانَ السَّفْر ارتَحَلَ الْحَسَينَ وَ بَلَغَ ذَالِكَ ابْنَ الْحَنْفِيَّةً فَأَتَاہ فَأَخَذَ بِزمَامِه نَاقَتِهِ وَقَدْ رَكِبَهَا فَقَالَ يَا أَخِي المْ تَعُدُنِي النَّظَرُ فِيمَا سَأَلْتُكَ۔

(بحار الانوار: جلد 44 صفحہ 364 تاريخ الحسين بن على مطبوعہ تہران جدید) 

ترجمہ: پھر جب سفر کا وقت آیا تو حسین نے کوچ کا ارادہ فرمایا اور یہ خبر ابنِ حنفیہ کو پہنچی تو ان کے پاس آئے اور ان کی اونٹنی کی مہار پکڑی جبکہ حسین اس پر سوار ہو چکے تھے سیدنا ابنِ حنفیہ کہنے لگے بھائی جان کیا آپ نے میرے سوال پر غور فرمانے کا وعدہ نہ کیا تھا؟ 

قارئین کرام گزشتہ سطور میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ عراق کی طرف ارادہ سفر کے وقت سیدنا حسینؓ کے بھائی سیدنا محمد بن حنفیہ آئے اور کچھ معروضات پیش کیں اس وقت جانے کے لیے سیدنا حسینؓ اونٹنی پر سوار ہو چکے تھے انہوں نے ان کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر رک جانے کو کہا اس حوالہ سے بھی معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو آپ اونٹنی پر سوار تھے اور مدینہ منورہ سے چل کر راستہ میں جب شاعر فرزدق سے ملاقات ہوئی تو آپ اس وقت بھی اونٹنی پر سوار تھے۔ 

بحار الانوار: حسین نے فرمایا کوفہ کی خبر سناؤ فرزدق نے کہا ان لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ اور اللہ کی تقدیر آسمان سے اترے گی اللہ جو چاہے گا کرے گا۔ حسین نے فرمایا تو نے سچی بات کہی ہے تمام معاملات پچھلے اور بعد کے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اللہ کی ہر دن نئی شان ہوتی ہے اگر اس نے قضاء کو اس طرح نازل کیا جس طرح ہم چاہتے ہیں تو ہم اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں گے وہ وہی ذات ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے شکر کے ادا کرنے پر اگر قضاء نے ہماری امیدوں کی مخالفت کی تو نہیں پرواہ کرتا وہ آدمی جس کی نیت سچی اور دل متقی ہو فرزدق نے سیدنا حسین سے کہا ہاں یہ بات سچی ہے خدا آپ کو وہ عطاء کرے جس کو آپ چاہتے ہیں اور اس سے بچائے جس سے آپ ڈرتے ہیں فرزدق نے سیدنا حسین کچھ چیزوں بارہ میں یعنی نذر اور مناسک حج کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے مجھے ان کی خبر دی وَحَرَكَ رَاحِلَتَهُ وَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ ثم اخترقنا آپ نے اپنی اونٹنی کو حرکت دی اور فرمایا السلام علیکم اس کے بعد ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔

(بحار الانوار: جلد 44 صفحہ 365 مطبوعہ تہران)

میدانِ کربلا میں سیدنا حسینؓ اور آپ کے رفقاء کے پاس بوقتِ جنگ اونٹ ہونے پر چند مزید شواہد

تاریخ روضة الصفاء: حسین فرمود مرگ نزد من آسان تراست از ملاقات با ابن زیاد بعد ازاں فرمود تاشتران بار کردندو مردم خودرا سوار ساختہ روئے بجانب حجاز نبہاد۔

(تاریخ روضته الصفاء: جلد سوم صفحہ 579 مطبوعہ لکھنؤ طبع قدیم)

ترجمہ: حسین نے فرمایا میرے نزدیک مرنا ابنِ زیاد سے ملاقات کرنے کی بہ نسبت آسان تر ہے پھر فرمایا اونٹوں پر سامان لاد دو اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ سوار ہو جاؤ اور حجاز کی جانب چل پڑھو۔

تفسیر لوامع التنزيل: جَاءَ الشمَرَ فِي قَبِيلَةٍ عَظِيمَةٍ يُقَاتِلُه ثم حَالَ بينه وبين رحيله وحرمه

 (تفسير لوامع التنزيل: جلد 13 صفحہ 91 در مطبع دفاع عامہ سنٹیم پریس لاہور)

ترجمہ: شمر ایک بڑے لشکر کے ساتھ آیا اور آپ سے لڑائی کرنے لگا امام حسین رضا اور آپ کی اوٹنی اور آپکی اہل بیت کے درمیان حائل ہو گیا۔ 

الكامل في التاريخ: ثُمَّ رَكِبَ الْحُسَينُ رَاحِلَهَ وَتَقَدَّمَ إِلَى النَّاسِ و نادى بِصُوتٍ عالٍ يَسْمَعُهُ كُلُّ النَّاسِ۔ 

(الكامل في التاريخ: جلد 4 صفحہ 61 ثم داخل احدى وستين) 

ترجمہ: پھر حسین اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بلند آواز سے آواز دی جسے سب لوگوں نے سنا ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عالی مقام مدینہ منورہ سے پہلے تو بھی اونٹوں پر سوار تھے راستہ طے کیا تو بھی اونٹوں پر میدانِ کربلا پہنچے تب بھی اونٹوں پر اور لڑائی کے دوران بھی آپ کے پاس اونٹ ہی تھے معلوم نہیں گھوڑے کب آئے؟ کون لایا؟

اعتراض: مذکورہ روایات میں دو  لفظ رحال اور رکاب آئے ہیں رکب عام سواری کو کہتے ہیں اور تم نے اس کا معنیٰ مخصوص سواری یعنی اونٹ کی سواری کیا ہے اور لفظ رحل سے سامان ہے وہ خواہ اونٹ پر لدا ہوا ہو یا گھوڑے پر۔ لہٰذا ان الفاظ سے صرف اونٹ اور اس پر لادا ہوا سامان مراد لینا درست نہیں ہو سکتا کہ رکاب گھوڑوں کے لیے اور رحال ان پر لادے گئے سامان کو کہا گیا ہو۔ لہٰذا ایسے الفاظ سے گھوڑوں کی نفی کرنا درست نہیں۔

صفحہ 6 از 11