شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 7 از 11

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ ہم نے رحال اور رکاب کے الفاظ کے علاوہ بھی ایسی روایات ذکر کی ہیں جن میں صاف صاف لفظ ناقہ اس لفظ کا اطلاق صرف اونٹنی پر ہوتا ہے مقتل ابی مخنف کے الفاظ و آخَذَ بِنَ مَامِ ناقة الحسین یعنی محمد بن حنفیہ نے حسین کی ناقہ کی مہار پکڑ لی اسی طرح سیدنا عالی مقام کے غلام نے جب آپ کو کربلا میں آتے دیکھا تو مقتل ابی مخنف کے الفاظ ہیں فَلَمَّا نَظَرَ طِرمَاح اخذ بزمام ناقة الحسين جب طرماح نے دیکھا تو سیدنا حسین کی اونٹنی کی مہار پکڑلی ان دونوں حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام جب مدینہ منورہ سے چلے اور سیدنا محمد بن حنفیہ نے جب انہیں روکنا چاہا تو اس وقت آپ اونٹنی پر سوار تھے اور کربلا میں بھی اونٹنی پر سواری کی حالت میں تشریف فرما ہوئے ان واضح الفاظ کے ہوتے ہوئے دوسرا احتمال یعنی گھوڑے پر سوار ہونا وہ بالکل ختم ہو جاتا ہے علاوہ ازیں رکاب اور رحال پر جو اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی از روئے لغت غلط ہے اس بارے میں ان الفاظ کے معانی ہم شیعہ سنی دونوں کی کتب معتبرہ سے پیش کرتے ہیں۔ 

رکاب اور رحال کے معانی از کتب طرفین:

المنجد:

الركاب:

 ترجمہ: سواری کے اونٹ

(المنجد: صفحہ 474 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)

لسان العرب:  وَالرِّكَابُ الْإِبِلُ الَّتِي يُسَارُ عَلَيْهَا وَاحِدَتُهَا رَاحِلَةً وَلَاوحَدَ لَهَا مِنْ لَفْظِهَا وَجَمْعُهَا رُكَب بِضَم ومثلُ كُتُبٍ۔ 

(لسان العرب: جلد اول صفحہ 430 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

ترجمہ: رکاب ان اونٹوں کو کہتے ہیں جن پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا ہے اس کا واحد رحلتہ ہے اور لفظ رکاب ایسی جمع ہے کہ جس کے اپنے لفظ سے واحد نہیں آتا اور اس کی جمع رکب پر وزن کتب ہے۔ 

تاج العروس: الرَّكَبُ لِلْبَعِيرِ خَاصَةً قَالَ ابن البرى قَوْلُ ابْنِ السكَيْتِ مَرَّبِنَا رَاكِبٌ إِذَا كَانَ عَلَى بَعِيرٍ خَاصَةً إِنَّمَا يُرِيدُ إِذَا لَمْ تُضِفهُ فَان أَصَفتَهُ جَازَ أَنْ يَكُونَ لِلْبَعِيرِ وَالْحِمَادَ وَالْفَرْسِ تبغل ونحو ذالك فتقول هذا راكب جَمَل وَرَاكِبٍ والفَرْس والبخل ونحوہ ذالک فتقول ھذا راکب جمل وَرَاكِب فرس وراکب حِمَار بفَانِ آتَيْتَ بِجَمْعِ يختص بالابل لم تضفه كقولك ركب وركاب لَا تَقُولُ رُكْبُ إِبِلٍ وَلَا رُکبَانُ إِبِلٍ لَانَّ الركْبَ و الركبَانَ لَا يَكُونُ الا لرِكابِ الإِبِلِ۔

 (تاج العروس: جلد اول صفحہ 276 لفظ ركب مطبوعة مصر)

ترجمہ: لفظ رکب صرف اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے ابنِ بری نے کہا کہ ابنِ سکیت کا قول مربنا راکب اس وقت ہے جب گزرنے والا صرف اونٹوں پر سوار ہو اس لفظ سے یہی معنیٰ لیے جاتے ہیں جب اسے کسی کا مضاف نہ بنایا جائے اور اگر اسے بطور اضافت استعمال کیا جائے تو پھر اونٹ گھوڑے گدھے اور خچر وغیرہ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے کہا جاتا ہے راکب جمل راکب حماره راکب فرس و غیره اور اسکا استعمال کیا جائے بطور جمع تو اس سے مراد صرف اونٹ ہوں گے اور مضاف نہ ہوگا جیسا کہ رکب اور رکاب سے مراد اونٹ ہی ہوتے ہیں لہٰذا رکب الابل، رکبان الابل کہنا درست نہیں کیونکہ رکب اور رکبان صرف اونٹ سواروں کو کہا جاتا ہے۔ 

قارئین کرام: لغت کی مشہور تین کتب سے ہم نے رکاب کا معنیٰ ذکر کیا ہے سبھی کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد اونٹ ہی ہوتے ہیں اور ابنِ سکیت نے ذرا اور وضاحت کر دی کہ اضافت کے وقت اس کے دوسرے معنیٰ بھی ہوسکتے ہیں لیکن  اضافت اور جمع کے وقت اس سے مراد صرف اونٹ ہی ہوں گے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی پیش گوئی والی روایت اور سیدنا حسینؓ کی تصدیقی روایت میں لفظ رحال اور رکاب جمع وارد ہیں لہٰذا ان کا معنیٰ صرف اونٹ ہی ہوں گے لغت میں کسی سنی شیعہ کا اختلاف نہیں ہوتا کیونکہ اس میں عربی زبان کے الفاظ کے معانی بیان ہوتے ہیں اسی لیے شہید سنی کوئی اپنی طرف سے عربی الفاظ کے لغوی معانی میں رد و بدل نہیں کر سکتا لگتے ہاتھ شیعہ کتاب سے ایک حوالہ ملاحظہ ہو جائے۔

 مجمع البحرين: فَمَا أَوَجَفتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ هِي بِالكَسْرِ الابلی الَّتِي تَحْمَلُ القُومُ وَاحِدُهُ رَاحِلَةٌ وَلَا وَاحِدَلَهَا مِنْ لَفْظٍ وَالْجَمْعُ ركب کكتب والركائب جَمْعُ رَکوبَةٍ وَهُوَ مَا يركب عَلَيْهِ مِنَ الْإِبِلِ كَالْحَمْولَة وَھی مَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا مِنْهَا۔ (مجمع البحرين: جلد دوم صفحہ 74 لفظ ركوب)

ترجمہ:  لفظ رکاب  مذکورہ کے ساتھ اونٹوں کو کہتے ہیں جن پر لوگ سوار ہوتے اور سامان لادتے ہیں اس کی واحد راحلہ ہے خود اس کے لفظ سے اس کا واحد نہیں آتا اور جمع رّكّبُ بروزن کتب ہے اور رکائب رکوبة کی جمع ہے رکوبة اس اونٹ کو کہتے ہیں جس پر سواری کی جائے جیسا کہ حمولہ وہ اونٹ کہ جس پہ بوجھ لادا جائے۔

 لفظ رحال کی تحقیق

 المنجد: رحال جمع رحل کی ہے جس کا معنیٰ ہے کجاوا پالان

(المنجد: صفحہ 440 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)

لسان العرب: الرحل مَرْكَبُ لِلْبَعِيرِ والناقته والجمع ارْحَلُ وَرِحالٌ۔

 (السان العرب: جلد اول صفحہ 274 مطبوعه بيروت جدید)

 ترجمہ: رحل اونٹ اور اونٹنی کی سواری کو کہتے ہیں اس کی جمع ارحل اور رحال آتی ہے۔ 

تاج العروس: الرحل مَرْكَبِّ لِلْبَعِيرِ وَالنَّاقَةِ وفي المفردات للراغب الرَّاكِبُ مَا يُوضَعُ عَلَى الْبَعِيرِ لِلرَّكُوبِ ثُمَّ يُعَبِّرُبِهِ تَارَةً عَنِ الْبَعِين الراحِلَة عِندَ الْعَرْبِ كُلُّ بَعِيرٌ نَجِيب سَوَاء كَانَ ذَكَرًا وَأُنثى وَلَيْسَ النَّاقَةُ أَوْلى بِاسْمِ الراحِلَة مِنَ الْجُملِ تَقُولُ الْعَرَبُ لِلْجُمَلِ إِذَا كان نَجِيبَا رَاحِلَةً وَجَمْعَهُ رِحَاوِلٌ۔

(تاج العروس: جلد 7 صفحہ 340 فصل الراء باب لام لفظ رحل) 

صفحہ 7 از 11