شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 8 از 11

ترجمہ: سواری کے اونٹ یا اونٹنی کو رمل کہتے ہیں مفردات امام راغب میں ہے لفظ رکب اصل میں اس چیز کے لیے بنایا گیا تھا جو اونٹ پر بیٹھنے کے لیے رکھی جاتی ہے یعنی پالان پھر بعض دفعہ اسے بول کر مراد اونٹ ہوتا ہے راحلہ عربی لوگوں کے ہاں ہر اچھے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ نر ہو یا مادہ اور لفظ راحلة سے مراد اونٹنی لینا اور اسے اونٹ سے بہتر معنیٰ قرار دینا درست نہیں ہے عرب ایسے اونٹ کو جو اچھا ہو راحلة کہتے ہیں۔ اس کی جمع رحاول ہے۔ 

مجمع البحرين: وَفِي الْحَدِيثِ كَانَ رَحْلُ رَسُولِ الله ذِرَاعًا وَ كَانَ الْمُرَادَ مُؤخَرَ الرَّحل كَمَا بُيِّنَ فِي مَوْضَعِ اخَرَ وَ الْمُرَادُ بِالرَّحْلِ تحلُ الْبَعِيرِ وَرَحْلَتِ الْبَعِيرُ مِنْ بَابِ نَفَعَ شُدَّدَتْ عَلَيْهِ الرَّاحلَةُ والراحلة كَفَاعِلَهُ النَّاقَةُ الَّتِي تَصْلَحُ لِإِنْ تَرْحَلَ وَللرکب ايضًا مِنَ الْإِبلِ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أَنْثى وَيُقَالُ هِي البعير القوى عَلَى الْإِسْفَارِ وَالْأَحمَال

(مجمع البحرین: جلد پنجم صفحہ 381 مکتبد مرتضوی (تہران) 

ترجمہ: حدیث میں آیا ہے کہ حضورﷺ کا رحل ایک ہاتھ تھا اس سے مراد کجاوا کا پچھلا حصہ ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کا ذکر ہو چکا ہے اور رحل سے مراد اونٹ کا رحل ہے رحلت البعیر اس وقت کہا جاتا ہے جب اونٹ پر کجاوا خوب زور سے باندھ دیا جائے لفظ راحلة فاعلہ کے وزن پر ہے ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جو کجاوا رکھے جانے کے قابل ہو چکی ہو اور مرکب بھی اونٹ کو کہا جاتا ہے خواہ وہ نر ہو یا مادہ اور کہا جاتا ہے وہ مضبوط اونٹ ہے سفر کرنے اور بوجھ لادنے میں۔ 

قارئین کرام! آپ نے لفظ رحل اور رحال کا دونوں طرف کی کتب لغت سے معنیٰ ملاحظہ کیا ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ لفظ رحل اور رکوب صرف اونٹوں (نر اور مادہ) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا سیدنا عالی مقام کا مدینہ منورہ سے سفر شروع کرنا اور کربلا تک سفر مکمل کرنا اور کربلا میں پہنچنا یہ سب مراحل آپ نے اونٹوں پر طے فرمائے گھوڑے نہ ساتھ تھے نہ راستہ میں کسی نے پیش کیے اور کربلا میں مخالفین سے اس کی توقع ہوسکتی ہے اس لیے سیدہ سکینہ کا گھوڑے کے پاؤں کو لپٹنا اور فریاد کرنا از اول تا آخر جھوٹ ہے اور پھر سیدنا عالی مقام کا گھوڑے سے باتیں کرنا ثابت کرنا سیدنا حسین پر شیعہ سنی واعظین و ذاکرین کا کذب محض ہے افسوس ہے ایسے سنی واعظین و خطباء پر جو اہلِ تشیع کے لیے گھوڑے (ذوالجناح) کا ثبوت اپنی تقاریر میں پیش کرتے ہیں اور صدا افسوس ان سنی مصنفین پر کہ جنہوں نے اپنی اپنی تصانیف میں بلا تحقیق گھوڑا ثابت کر دکھایا شیعہ لوگ گھوڑا نکالتے ہیں اگر وہ گھوڑے کی فرضی روایتیں بیان کریں اور لکھیں تو ان کا یہ مسلک ہے لیکن ہم سنی جب تحریر و تقریر میں گھوڑا لے آتے ہیں اور سیدہ سکینہ اس کے پاؤں سے لپٹنا بیان کرتے ہیں اور لپیٹنے کے دوران فرضی گفتگو بیان کرتے ہیں ایسی تحریر و تقریر سے شیعہ لوگ حجت پکڑتے ہیں گویا ہمارے سنی حضرات درپردہ شیعوں کے گھوڑا نکالنے کی تائید کر کے ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں ایسے سنی واعظ اور ایسے سنی مصنف مسلک اہلِ سنت کا عظیم نقصان کر رہے ہیں جس کو اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت نے حرام فرمایا ہے جیسا کہ آپ کی عبارات بہت جلد پیش کر رہے ہیں جن سے واضح ہو جائے گا کہ ایسے جھوٹے واقعات پر بیان کرکے رونے رولانے والوں کی خدا کے ہاں کیا سزا ہے؟

 فاعتبروا یاولى الابصار

اعتراض
 سیدنا حسینؓ کے پاس کربلا میں بتیس (32) گھوڑے تھے

 گزشتہ اوراق میں ہم نے یہ ثابت کیا تھا کہ سیدنا عالی مقام کے ساتھ گھوڑا نہیں بلکہ اونٹ یا اونٹنی تھی اس پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ بہت سی کُتب میں سیدنا عالی مقام کے ساتھ ایک نہیں بلکہ بتیس (32) گھوڑے تھے جيسا كہ الکامل فی التاریخ میں یوں موجود ہے ملاحظہ فرمائیں۔

 الكامل في التاريخ: فَلَمَّا صَلَّى عُمَر بْنُ سَعْدِ الغَدَاةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَ قِيلَ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءِ خَرَجَ فِي مَن مَّعَهُ مِنَ النَّاسِ رعَبَّ وَحبى الْحُسَيْنُ أَصْحَابَہ وَصلٰى بهم الصلاة الغداة وَكَانَ مَعَهُ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ فَارِسا وَارْبَعُونَ رَاجِلا فَجَعَلَ زُهَيْرُ بْنُ الْقَيْنِ في مَيْمَنَةٍ أَصْحَابِهِ وَحَبِيب بن مطهر في مسيرتهم واعْطَى رَأَيْتَهُ الْعَبَّاسَ أَخَاهُ۔

(1۔الكامل فى التاريخ: جلد 4 صفحہ59 سته احدی و ستین ذكر مقتل سیدنا حسین مطبوعه بيروت)

(2۔البداية والنهاية جلد 8 صفحہ 178 سنه احدی وستين مطبوعة بيروت)

(3۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 240 تا 248 سن 61ھ معطبوعہ بيروت ذكر الخبر عما كان فيها من الاحداث)

ترجمہ: پھر جب عمر بن سعد نے ہفتہ یا جمعہ کے دن یوم عاشوراء کو صبح کی نماز پڑھی وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلا اور سیدنا حسین نے بھی اپنے ساتھیوں کو تیار کیا ان کے ساتھ صبح کی نماز ادا فرمائی سیدنا حسین کے ساتھ بتیس (32) گھوڑ سوار تھے اور چالیس آدمی پیدل تھے آپ نے زہیر بن قیس کو شکر کی دائیں جانب اور حبیب بن مطہر کو بائیں جانب مقرر کیا اور جھنڈا اپنے بھائی سیدنا عباس کو عطا فرمایا۔ 

ان تین کتب کے حوالہ سے معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام کے ساتھ بتیس (32) گھوڑے سوار تھے لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ آپ کے پاس کوئی گھوڑا نہ تھا؟ 

جواب اول: انہی کتب تاریخ سے ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ سیدنا عالی مقام جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو گھوڑے کی بجائے اونٹ پر سوار تھے راستہ میں فرزدق شاعر ملا تو اس وقت بھی اونٹ پر سوار تھے پھر جب کربلا پہنچے تو بھی اونٹ پر سوار تھے اور کربلا میں اترنے کے بعد جس سواری کو باندھنے کا حکم دیا وہ بھی اونٹ ہی تھا ایک دو مرتبہ آپ نے مدِمقابل سے گفتگو فرمائی تب بھی آپ اونٹ پر سوار تھے اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے مدینہ منورہ سے کربلا تک کا سفر واقعی اونٹ پر کیا لیکن کربلا میں آپ کے محبین نے آپ کو یہ گھوڑے دیے تھے تو اس بارے میں محبین کے طرز عمل پر ہم ایک مشہور شیعہ کا حوالہ پیش کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔

صفحہ 8 از 11