شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 9 از 11

مقتل ابی مخنف: فقال قيس بن اشعث نزِلَ عَلَى حكم الامير بن زياد فَلَمَّا سَمِعُوا كَلَامَ زُهَيْرٍ قَالُوا لَنْ نبْرَحَ حَتىٰ نَقْتُلَ صَاحِبَكُمْ وَمَن يُتَابِعُهُ أَوْ يَنَابِع ليزيد۔

 (مقتل ابی مخنف: صفحہ 55 تا 56 مكتبه حيدريه نجف اشرف عراق) 

ترجمہ: (سیدنا حسین نے آواز دے کر پوچھا اے اشعث بن ربعی اے کثیر بن شہاب اور اے فلاں بن فلاں تم ہلاک ہو جاؤ کیا تم نے مجھے اپنے پاس آنے کے لیے خطوط نہیں لکھے تھے اور یہ نہیں کہا تھا کہ ہمارا فائدہ اور نقصان مشترکہ ہوگا اس کے جواب میں انہوں نے کہا ہم کچھ نہیں کر سکتے سیدنا حسین نے فرمایا اگر تم میرا یہاں آنا اچھا نہیں سمجھتے تو میں واپس لوٹ جاتا ہوں جدھر میرا دل کرے) قیس بن اشعث نے کہا سواری سے اترو ابنِ زیاد کا حکم ہے (پھر زہیر نے سیدنا حسینؓ کی طرف تقریر کی تو انہوں نے جواباً کہا) ہم تمہارے صاحب سیدنا حسین کو قتل کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے اور ان سے متبعین کو بھی قتل کریں گے یا پھر تم یزید کی بیعت کر لو یہ تھا محبین کا برتاؤ کہ جن سے گھوڑے ملنے کی توقع کون کرسکتا ہے؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ کربلا میں گھوڑوں کا سیدنا حسین کو دیئے جانا عقلاً نقلاً ناممکن ہے نقلاً اس لیے کہ مدینہ منورہ سے کربلا تک آپ کا سفر اونٹ پر ثابت ہے اور عقلاً کربلا والوں کا آپ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کے ساتھ گھوڑے دینا ناممکن ہے۔ 

جواب دوم: مذکورہ تین کتب میں واقعہ اگرچہ تقریباً ملتا جلتا ہے لیکن ان میں سے سند صرف طبری نے ذکر کی بقیہ دو کتابوں میں سند مفقود ہے اور طبری کی ذکر کردہ سند سخت مجروح ہے کیونکہ اس کا مرکزی راوی لوط بن یحییٰ ابو مخنف ہے جو پرلے درجے کا کذاب ہے اسماء الرجال میں اس کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

میزان اعتدال: لوط بن یحییٰ ابو مخنف اخباری تالف لا یوثق بہ ترکہ ابوحاتم وغیرہ قال الدارقطنی ضعیف وقال ابن معین لیس بثقة وقال مرة لیس بشئی وقال ابن عدی شیعی مخترق صاحب اخبارھم۔

(میزان الاعتدال جلد دوم صفحہ 360 حرف لام مطبوعه مصر) 

ترجمہ: لوط بن یحییٰ ابو مخنف اخباری آدمی ہے اِدھر اُدھر کی جوڑنے والا غیر معتبر آدمی ہے ابوحاتم نے اسے متروک کہا دارقطنی نے ضعیف کہا ابنِ معین نے اس کی ثقاہت کا انکار کیا مرہ نے لیس بشی کہا ابنِ عدی نے کہا دل جلا شیعہ تھا بس خبریں لکھنے کا ماہر تھا لہٰذا ایسے کٹر اور حاسد شیعہ کی روایت اور محض خبری معتبر آدمی کی روایت سے استدلال کیونکر ہو سکتا ہے؟۔

جواب سوم:البداية والنهاية: وَللشَّيعَةِ وَالرَّافِضِيةِ فِي صِفَةِ مَصْرَعِ الْحُسَيْنِ كِذَّبٌ كَثِير وَ أَخبار باطلةٌ وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَة وَفِي بَعْض مَا أَوْرَدُنَاهُ نَظُرُ وَلَوْلَا أَنَّ ابْنَ جَرِيرٍ وَغَيْرَهُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَالْأَئمَةَ ذَكَرُوهُ مَا سُقُتُهُ وَاكْثَرُهُ مِنْ رِوَايَةِ أَبی مَخْنَفٍ لوط بن يحيىٰ وَقَدْ كَانَ شِيعِيًّا وَهُوَ ضَعِيفٌ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ وَلَكِنَّهُ أَخْبَارِي حَافِظٌ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ الْأَشْيَاء مَا لَيْسَ عِنْدَ غَيْرِهِ۔

(البداية والنہاية: جلد 8 صفحہ 202 فصل وكان مقتل سیدنا حسين يوم الجمعة يوم عاشوراء مطبوعه بيروت سن61ھ) 

ترجمہ: سیدنا حسین کی شہادت کے بیان میں رافضیوں اور شیعوں نے بہت سی جھوٹی باتیں بنا رکھی ہیں اور باطل خبریں گھڑ رکھی ہیں ہم نے جو کچھ کیا اتنا ہی کافی ہے ہم نے جو اقعات ذکر کئے ان میں سے بھی بعض میں نظر ہے اگر ان باتوں کا ابنِ جریر وغیرہ حفاظ و ائمہ نے ذکر نہ کیا ہوتا تو میں انہیں ہرگز ذکر نہ کرتا ان میں سے اکثر کا راوی لوط بن یحییٰ ابو مخنف ہے وہ یقیناً شیعہ تھا اور ائمہ کے نزدیک حدیث میں ضعیف تھا لیکن اخباری اور حافظ ہے اور اس کے پاس ایسے واقعات و حکایات ہیں جو کسی اور کے ہاں نہیں ملتی۔

اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ شہادت سیدنا حسینؓ کے موضوع پر بہت سے واقعات من گھڑت ہیں جن کو لوط بن یحییٰ نے گھڑا کیونکہ یہ شخص اخباری تھا ابنِ جریر نے جو واقعات اپنی تاریخ میں درج کیے وہ بھی بکثرت اسی لوط بن یحییٰ سے منقول ہیں اور خود طبری بھی تشیع سے خالی نہیں ہے اس کے بارے میں ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں گھوڑے کا جھوٹا واقعہ جس نے اختراع کیا اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور اس کا نام ذوالجناح ملاحسین کاشفی نے رکھا اور ایسا مشہور ہوا کہ شیعوں کا مابہ الامتیاز نشان بن گیا یعنی ذوالجناح نکالنے والا شیعہ ہے اور اس کا منکر سنی ہے حالانکہ تحقیق یہ ہے کہ سیدنا حسینؓ کے لیے کربلا میں گھوڑے کا وجود تک نہ تھا شیعہ مؤرخین کا بادشاہ صاحب ناسخ التواریخ لکھتا ہے۔ میدانِ کربلا میں ذوالجناح موجود نہ تھا۔

 ناسخ التواريخ: پس اسپ بر انگیخت و تیغ برآہیخت مکشوف بادکه اسپ سید الشہداء راکه درکتب معتبره رابنام نوشته انداز افزون از دو مال سواری نیست یکے اسپ رسول خدا کہ مرتجز نام داشت و دیگرے شترے کو مسناة می نمامید نسواسپ کہ ذوالجناح نام داشته باشد در ہیچیک از کتب احادیث و اخبار و تواریخ معتبره من بنده ندیده ام و ذوالجناح لقب شمر پسر لہیعہ حمیر لیست واسپ ہیچ کس رہا بدیں نام شینده ام و اگر اسپ چند کس را جناح نام بوده بعد مربوط به ذو الجناح و منسوب بحسین نخواهد بودو اگر اسپ ہائے پیغمبر را جناح نامیدند باز نشاید ذوالجناح گفت در ہر حال بدیں نام اسپ نام دارنه بوده۔  

(ناسخ التواریخ در احوال سیدنا سید الشہداء جزء دوم از جلد ششم صفحہ 366 شماره مرکب ہائے سیدنا حسین مطبوعہ تہران) 

صفحہ 9 از 11