Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ ختم ہونے کے بعد جنگی کانفرنس

  علی محمد الصلابی

جنگ بندی ہوئی، حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ اور اسلامی فوج نے دسیوں ہزار لاشوں پر نگاہ دوڑائی، پورا میدان کارراز خون اور لاشوں سے بھرا ہوا تھا، پھر اپنے لشکر کے ساتھ ایک مجلس کی، ایک دوسرے کے حالات و خیریت سے واقفیت چاہتے، کون کن کن مرحلوں سے گزرا، ان کی تفصیل دریافت کرتے، مجلس میں تشریف لانے والے ہر شخص سے پوچھتے کہ اپنے بارے میں بتاؤ، کن حالات سے گزرے اور پھر وہ لوگ آپ کے سامنے معرکہ کے دوران پیش آنے والے احوال کی منظر کشی کرتے۔ خود حضرت مثنیٰؓ نے بتایا کہ میں نے جاہلیت اور اسلام دونوں میں عرب و عجم سے جنگ کی ہے، اللہ کی قسم جاہلیت میں ایک سو عجمی ایک ہزار عربوں پر بھاری ہوتے تھے، لیکن آج ایک سو عرب ایک ہزار عجمیوں پر بھاری ہیں۔ اللہ نے ایرانیوں کا رعب زائل اور مکر باطل کر دیا ہے۔ تم ان کے نمائش، کثرت تعداد اور لمبے نیزوں سے مرعوب نہ ہونا، ان سہاروں سے محروم ہوتے ہی ان کی کوئی تدبیر نہ چلے گی اور وہ ان چاپویوں کی مثل ہو جائیں گے جنہیں تم جہاں چاہو ہانک کر لے جاؤ۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 290) حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بالکل برمحل اور وقت کے عین مناسب تھا، آپؓ نے ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں اپنی بہترین فوجی قیادت و مہارت کا مظاہرہ ایسے وقت میں کرایا تھا جب کہ عراقی جنگوں کی تاریخ میں ایرانیوں سے جنگ لڑنے کے لیے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کر رہی تھی۔ آپ نے نہایت مختصر انداز میں اس کے سامنے حالیہ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال اور ماضی میں ایرانیوں کے ساتھ معرکوں کے تجربات کو ایک ساتھ بیان کر دیا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 352)