شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی - ردِ رافضیت |…

شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی

سیدنا مسلم کے بچوں کا واقعہ

سیدنا مسلم بن عقیل کے صاحبزادوں کا واقعہ بھی من جملہ ان واقعات من گھڑت میں سے ہے جسے رلانے اور لوگوں کو دھاڑے مار مار کر آنسو بہانے کے لیے واعظین اپنے واعظوں میں ذاکرین اپنے خطاب میں اور غیر محتاط مصنف اپنی تصنیفات میں ذکر کرتے ہیں ان واعظین میں سے مولوی محمد شفیع اوکاڑوی بھی ہیں اگرچہ ان کی عادت ایسی نہ تھی لیکن انہوں نے بھی اس بےاصل واقعہ کو بڑی رنگیلاپنی سے ذکر کیا ہے جس کی فوٹو کاپیاں درج ذیل لف کی جاتی ہیں۔

سیدنا مسلمؓ نے دار الامارات کے محاصرہ کے وقت اور بقول بعض طوعہ کے گھر میں قیام کے وقت اپنے دونوں فرزندوں کو قاضی شریح کے یہاں بھیج دیا تھا اور ان کو کہلوا دیا تھا کہ ان کو کسی طرح بحفاظت مدینہ النبیﷺ پہنچا دینا جب سیدنا مسلمؓ شہید ہو گئے قاضی صاحب نے آپ کے دونوں صاحبزادوں کو بلا کر پیار کیا اور آبدیدہ پر نم ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا یہ دیکھ کر انہوں نے کہا چچا جان آپ کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور آپ یوں ہمارے سروں پر ہاتھ پھیر رہے ہیں کہیں ہم یتیم تو نہیں ہو گئے؟ قاضی صاحب کی ہچکیاں بندھ گئیں فرمایا ہاں پیارے بچو! تمھارے ابا جان کو شہید کر دیا گیا ہے؟ یہ سنتے ہی دونوں شہزادوں پر کوہِ الم ٹوٹ پڑا وا ابتاه واغربیا کہہ کر دونوں ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے اور تڑپنے لگے قاضی شریح نے بچوں سے کہا مجھے ابنِ زیاد بدنہاد سے تمہارے بارے میں کوئی اچھی امید نہیں اور تمہارا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح تمہاری جان بچ جائے اور تم بحفاظت مدینہ منورہ پہنچ جاؤ۔عالم غربت میں تقسیم ہو جانے والے نونہالوں پر بےکسی کی انتہا ہو گئی ایک طرف باپ کی جدائی کا غم اور دوسری طرف اپنی جانوں کا خوف چمن رسالت کے یہ پھول کملا گئے۔

بدر د دل زلب شروع ناله می شنویم

 زسوز جان جگر دیں کباب می بینیم

 اب قاضی صاحب کے پیشِ نظر ان دونوں بچوں کی جانوں کا مسئلہ تھا چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے اسد کو بلا کر کہا "میں نے سنا ہے کہ آج باب العراقین سے ایک کارواں مدینہ منورہ جانے والا ہے ان دونوں بچوں کو وہاں لے سے جاؤ اور کسی ہم درد اور محب اہلِ بیت کے سپرد کر کے اس کو حالات سے آگاہ کر دینا اور تاکید کر دینا کہ ان کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچا دے اسد دونوں صاحب زادوں کو ساتھ لے کر باب العراقین آیا اور معلوم کیا تو پتہ چلا کہ کارواں کچھ دیر پہلے جا چکا ہے وہ دونوں بچوں کے ساتھ اسی راہ پہ چلا کچھ دور گئے تو گرد کارواں نظر آئی وہ کہنے لگا کہ دیکھو یہ گرد کارواں ہے اور زیادہ دور نہیں اب تم جلدی سے جا کر اس کارواں میں مل جاؤ اور دیکھو اپنے بارے میں کسی کو بتانا نہیں اور قافلے سے جدا نہ ہونا میں اب واپس جاتا ہوں یہ کہہ کر اسد واپس آ گیا اور بچے تیزی سے چلنے لگے کچھ دیر کے بعد وہ گرد بھی غائب ہوگئی اور کارواں بھی نہ ملا۔ 

یہ پھول سے یتیم بچے عالم تنہائی میں انتہائی پریشانی کا شکار ہو کر پھر ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے لگے اور نازوں سے پالنے والے ماں باپ کا نام لے کر جان کھونے لگے۔

پارہ پارہ نہ ہوں کیوں دیکھ کے دونوں کے جگر 

عمر میں دیکھا تھا کب آنکھ سے ایسا منظر

ایسا صدمہ نہیں گزرا کبھی ننھے دل پر

خاک و خوں میں تڑپتا ہے پدر پیش نظر

سرمگیں آنکھوں سے تھے خون کے آنسو جاری

 کیا بیاں ہو سکے ان بچوں کی آہ وزاری

ادھر ابنِ زیاد کو معلوم ہوا کہ سیدنا مسلم کے ساتھ ان کے دو فرزند محمد و ابراہیم بھی آئے تھے اور وہ بھی کوفے میں کسی گھر میں ہیں چنانچہ اس بدنہاد نے اعلان کرایا کہ جو مسلم کے دونوں بچوں کو ہمارے پاس لائے گا وہ انعام پائے گا اور جو انہیں چھپائے گا یا ان کو یہاں سے نکالنے میں ان کی مدد کرے گا وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا اس اعلان سے مال زر کی ہوس رکھنے والے چند سپاہی قسمت آزمائی کے لیے نکلے اور انہوں نے تھوڑی سی محنت کے بعد سراغ لگا کر بچوں کو پالیا اور پکڑ لائے اور کوتوال (افسر پولیس) کے حوالے کر دیا کوتوال ان بچوں کو ابنِ زیاد کے پاس سے گیا ابنِ زیاد نے حکم دیا کہ ان کو اس وقت تک جیل میں رکھا جائے جب تک ان کے متعلق میں یزید سے نہ پوچھ لوں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔

داردوغہ حوالات سپرنٹنڈنٹ مشکور نامی ایک پرہیزگار شخص اور محب اہلِ بیت تھا اس نے جب ان یتیموں کی مظلومی اور بے کسی کا حال دیکھا تو اس کو بہت ترس آیا اور اس کے جذبہ ایمانی میں ایک تلاطم پیدا ہوا اس نے عزم صمیم کرلیا کہ ان بچوں کی جان بچانی ہے خواہ اپنی جان چلی جائے چنانچہ اس نے رات کے اندھیرے میں گلشن سیدنا عقیل کے ان پھولوں کو جیل سے نکالا اور اپنے گھر میں لا کے کھانا کھلایا اور پھر شہر کے باہر قادسیہ کی راہ پر لا کر اپنی انگوٹھی بہ طور نشانی دی اور کہا کہ یہ سیدها راستہ قادسیہ کو جاتا ہے اس راہ پر چلے جاؤ وہاں پہنچ کر کوتوال کا پتہ پوچھنا وہ میرا بھائی ہے اس کو مل کر میری یہ انگوٹھی دکھانا اور اپنا حال سنانا اور کہنا کہ ہمیں مدینہ طیبہ پہنچا دے وہ تمہیں بحفاظت تام مدینہ پہنچا دے گا۔

مصیبت کے مارے دونوں بھائی چل پڑے لیکن تضاد قدر کے احکام جو نافذ ہو چکے ہوتے ہیں ان کو بندوں کی تدابیر نہیں بدل سكتى لا رَادَّ لِقَضَائِهِ وَلَا مُعَقبَ لِحکمه 

صفحہ 1 از 4