شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی - ردِ رافضیت |…

شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی

  محمد علی

صفحہ 2 از 4

رات بھر چلتے رہے مگر قادسیہ نہ آیا جب صبح کی روشنی ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ اسی قادسیہ کی راہ پر تھے قریب ہی ایک کھوکھلا سا درخت نظر آیا اس کے پاس ایک کنواں بھی تھا وہ اس درخت کی آڑ میں آ کر بیٹھ گئے سخت خوف لاحق تھا کہ کہیں پھر نہ کوئی پکڑ کر ابنِ زیاد کے پاس لے جائے اتنے میں ایک کنیز پانی بھرنے آئی جب اس نے ان کو اس طرح چھپے بیٹھے دیکھا تو قریب آئی اور ان کا حسن و جمال اور شان شہزادگی دیکھ کر کہا اے شہزادو تم کون ہو اور یہاں کیوں چھپے بیٹے ہو؟ انہوں نے کہا تجھے کیا بتائیں کہ ہم کون ہیں ہم یتیم و بےکس اور ستم رسیدہ گم کردہ راہ مسافر ہیں کنیز نے کہا تم کس کے بچے ہو تمہارے باپ کا نام کیا ہے؟ باپ کا لفظ سنتے ہی ان کی آنکھیں پرنم ہوگئیں کنیز نے کہا میں گمان کرتی ہوں کہ تم مسلم بن عقیل کے فرزند ہو باپ کا نام سنتے ہی دونوں بچے ہچکیاں بھرنے لگے کنیز نے کہا صاحب زادوں غم نہ کرو میں اس خاتون کی کنیز ہوں جو اہلِ بیت نبوت کے ساتھ سچی عقیدت و محبت رکھتی ہے بالکل فکر نہ کرو آؤ اور میرے ساتھ چلو میں تمہیں اس کے پاس لے چلوں دونوں شہزادے اس کے ساتھ ہوگئے کنیز نے ان کو اس خاتون کے سامنے پیش کیا اور سارا واقعہ سنایا اس خاتون کو بڑی خوشی ہوئی اس نے اس خوشی کے صلہ میں اپنی اس کنیز کو آزاد کر دیا اور شہزادوں کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئی ان کے قدم چومے یتیموں کی داستان غم سن کر آنسو بہائے اور ہر طرح تسلی و تشفی دی کہ فکر نہ کرو اور کنیز سے کہا کہ یہ راز میرے شوہر حارث کو نہ بتایا جاۓ۔

گھر میں حارث کے جو وہ یوسف زندان آئے 

موت بولی کہ سفر سے میرے مہماں آئے

زن حارث نے یتیموں کے قدم چوم لیے 

کپڑے دیکھے جو پھٹے سوزنِ مژگاں سے سیئے

پانی بھی گرم کیا پاؤں دھلانے کے لیے 

اور بچھا دیا فرش بھی ان کو سلانے کے لیے

نہر پر صبح بڑی دھوم سے مہمانی ہے

حلق ہے تیغ ہے جلاد ہے قربانی ہے

ادھر ابنِ زیاد کو اطلاع ہو گئی کہ مشکور نے دونوں بچوں کو رہا کر دیا ہے ابنِ زیاد نے بلایا اور پوچھا کہ تو نے پسران مسلم کے ساتھ کیا کیا ہے؟ مشکور نے کہا میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کو آزاد کر دیا ہے ابنِ زیاد نے کہا تو مجھ سے نہ ڈرا؟ مشکور نے کہا جو بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا ابنِ زیاد نے کہا تجھے ان کے رہا کرنے میں کیا ملا؟ مشکور نے کہا ستم گار ان بچوں کے پدر بزرگوار کو شہید کرنے میں تجھے تو کچھ نہ ملے گا مگر مجھے ان بے گناہ بچوں کو جو اپنے جگر پر یتیمی کا داغ لیے ہوئے قید و بند کی مصیبت میں مبتلا تھے رہا کرنے میں ان کے جدّ اعلیٰ سے امید شفاعت ہے کہ حضور صدر کونین و سید ثقلین جناب محمد مصطفیٰﷺ میری اس خدمت کو قبول فرمائیں گے اور میری شفاعت فرمائیں گے جب کہ تو اس دولت سے محروم رہے گا اس پر ابنِ زیاد غضبناک ہوا اور کہنے لگا میں ابھی تجھے اس کی سزا دوں گا مشکور نے کہا میری ہزار جانیں بھی ہوں تو آل نبیﷺ پر فدا ہیں۔ 

من در رهِ او کجا به جان دا مانم 

جان چیست که بہرا و فدا نه توانم

 یک جان چه بود ہزار جان بایستے 

تا جمله بیک بار برو افشانم

 ابنِ زیاد نے جلاد کو حکم دیا کہ اس کو اتنے کوڑے مارو کہ یہ مرجائے اور پھر سرتن سے جدا کر دو جلاد نے کوڑے مارنے شروع کر دیے پہلے کوڑے پر شکور نے کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم دوسرے پر کہا اے اللہ مجھے صبر دے تیسرے پر کہا الٰہی مجھے بخش دے چوتھے پر کہا الٰہی مجھے فرزندان رسولﷺ کی محبت میں یہ سزا مل رہی ہے پانچویں پر کہا اللہ مجھے رسول اللہﷺ اور ان کے اہلِ بیت کے پاس پہنچا دے پھر مشکور خاموش ہوگیا اور جلاد نے اپنا کام پورا کر دیا انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 جانش مقیم روضئہ دار السرور درباد

گلشن سرائے مرقدا و پرز نور باد

ادھر وہ نیک خاتون دن بھر یہ دل و جان بچوں کی خدمت اور دل جوئی میں مشغول ہی رات کے وقت ان کو ایک علیحدہ کمرے میں سلا کر آئی تھی کہ اس کا شوہر (حارث) آ گیا نہایت تھکا ماندہ تھا خاتون نے پوچھا آج سارا دن تم کہاں رہے کہ اتنی دیر سے آئے؟ کہنے لگا صبح میں امیر کوفہ ابنِ زیاد کے پاس گیا تھا وہاں مجھے معلوم ہوا کہ داروغہ جیل مشکور نے پسران مسلم بن عقیل کو قید سے رہا کر دیا ہے اور امیر نے اعلان کیا ہے کہ جو ان کو پکڑ کر لائے یا ان کی خبر دے اس کو گھوڑا و جوڑا اور بہت سا مال دیا جائے گا بہت سے لوگ ان کی تلاش میں نکلے ہیں میں بھی انہی کی تلاش میں اِدھر اُدھر سرگرداں رہا اور اس قدر بھاگ دوڑ کی کہ میرے گھوڑے نے دم توڑ دیا اور مجھے پیدل ان کی جستجو میں پھرنا پڑا اس لیے تھکاوٹ سے چور چور ہو گیا ہوں عورت نے کیا اے بندہ خدا اللہ سے ڈر تجھے فرزندان رسول اللہ سے کیا کام ہے؟ کہنے لگا تو خاموش رہ تجھے نہیں معلوم ابنِ زیاد نے اس شخص کو گھوڑا و جوڑا اور بہت سا مال دینے کا وعدہ کیا ہے جو ان بچوں کو اس کے پاس پہنچائے یا ان کی خبر دے عورت نے کہا کس قدر بدبخت ہیں وہ لوگ جو مال دنیا کی خاطر ان یتیموں کو دشمن کے حوالے کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں اور دین کو دنیا کے عوض میں دے رہے ہیں حارث نے کہا تجھے ان باتوں سے کیا تعلق تو کھانا لا عورت نے کھانا لا کر دیا وہ کھا کر سو گیا۔

صفحہ 2 از 4