شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی - ردِ رافضیت |…

شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

جب آدھی رات ہوئی تو بڑے بھائی سیدنا محمد بن مسلم نے خواب دیکھا اور بیدار ہو کر اپنے چھوٹے بھائی  (ابراہیم) کو جگاتے ہوئے کہا بھائی اب سونے کا وقت نہیں رہا اٹھو اور تیار ہو جاؤ اب ہمارا وقت بھی قریب آ گیا ہے میں نے ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ ہمارے ابا جان رسولﷺ اور سیدنا علی و سیدہ فاطمہ اور سیدنا حسن محبتیٰ کے ساتھ بہشت بریں میں ٹہل رہے ہیں کہ اچانک حضور نے ہم دونوں کی طرف دیکھ کر ہمارے ابا جان سے فرمایا  مسلم تم چلے آئے ان دونوں بچوں کو ظالموں میں چھوڑ آئے ابا جان نے ہماری طرف دیکھ کر کہا یارسول اللہ میرے یہ بچے بھی آنے ہی والے ہیں یہ سن کر چھوٹے نے بڑے بھائی کے منہ پر اپنا منہ رکھ کے کیا واویلاهُ وَامْسلماہ اور رونا شروع کر دیا بڑے کے صبر کا پیمانہ بھی چھلک اٹھا تو دونوں نہایت درد کے ساتھ رونے اور چلانے لگے ان بچوں کے رونے چلانے کی آواز سے اس کم بخت حارث کی آنکھ کھل گئی عورت سے کہنے لگا یہ کن کے رونے کی آواز ہے میرے گھر میں یہ کون ہیں جو اس طرح رو رہے ہیں عورت بے چاری سہم گئی اور کچھ جواب نہ دیا اس ظالم نے خود اٹھ کر چراغ جلایا اور اس کمرے کی طرف چلا جس سے رونے کی آواز آرہی تھی اندر داخل ہو کر دیکھا کہ دونوں بچے گلے مل کر ابا ابا کہہ کر تڑپ رہے ہیں کہنے لگا کہ تم کون ہو؟ چونکہ ان بچوں نے یہی سمجھا تھا کہ یہ محبتوں کا گھر اور جائے پناہ ہے اور اہلِ خانہ ہمارے خیر خواہ ہیں اس لیے صاف کہہ دیا کہ ہم فرزندان مسلم بن عقیل ہیں حارث نے کہا عجیب میں تو سارا دن تمہاری تلاش میں سرگرداں رہا یہاں تک کہ میرے گھوڑے نے دم توڑ دیا اور تم میرے گھر میں موجود ہو یہ سن کر اور اس ظالم کے تیور دیکھ کر بچے سہم گئےاور تصویر حیرت بن گئے اس عورت نے اپنے شوہر کی جب یہ سنگ دلی اور بے رحمی دیکھی تو اس کے قدموں پر اپنا سر رکھ کر عاجزی آہو زاری کرتے ہوئے کہنے لگی ان غریب الوطن یتیموں بے کسوں پر ترس کھا

بے داد مسکن بریں یتیماں

لطفے یہ نمائے چوں کر میاں

این بابه فراق مبتلا اند 

در شہر غریب و بے نوائد

 بہ گزند سر جفائے ایشاں

 پرہیز کن از دعائے ایشاں

کہنے لگا خبر دار اپنی جان کی خیر چاہتی ہے تو خاموش رہ عورت بے چاری سہم گئی اور خاموش ہو گئی حارث نے کمرے کا دروازہ مقفل کر دیا تاکہ اس کی بیوی ان بچوں کو کہیں اور منتقل نہ کر سکے۔

جب صبح ہوئی تو اس سنگ دل نے تلوار ہاتھ میں لی اور ان دونوں بچوں کو ساتھ لے کر چلا عورت نے جب دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا ننگے پیر پیچھے دوڑی اور منت و سماجت کرتی ہوئی کہہ رہی تھی اللہ سے ڈر اور ان یتیموں پر رحم کر۔

جس وقت نمودار ہوئے صبح کے آثار

 پھر لے کے چلا ہائے یتیموں کو جفا کار

چلاتی چلی پیچھے ضعیفہ جگرانگار

 بن باپ کے بچے ہیں یہ ظالم نہ انہیں مار

کیوں فاطمہ زہرا کو رلاتا ہے کفن میں

دو پھول تو رہنے دے محمد کے چمن میں

ظالم پر بیوی کی زاری کا کچھ اثر نہ ہوا بلکہ اس کو مارنے کو دوڑا بےچاری رک گئی اس ظالم کا ایک خالہ زاد و غلام جو اس کے بیٹے کا رضائی بھائی بھی تھا اس کو معلوم ہوا تو وہ پیچھے دوڑا جب حارث کے پاس پہنچا حارث نے اس کو کہا ممکن ہے کہ کوئی ان بچوں کو ہم سے چھین لے اور ہم اس انعام سے محروم رہ جائیں لہٰذا یہ تلوار لو اوران کو قتل کر دو؟ غلام نے کہا میں ان بے گناہ بچوں کو کس طرح قتل کر دوں حارث نے اس کو سختی سے کہا کہ میرے حکم کی تعمیل کر اس نے انکار کیا

 بنده را باین و ما آن کار نیست 

پیش خواجه قوت گفتارنیست

اور کہا مجھ میں ان کے قتل کی ہمت نہیں مجھے رسالت پناہ کی روح اقدس سے شرم آتی ہے ان کے خاندان کے بےگناہ بچوں کو قتل کرکے کل قیامت کے دن کس منہ سے ان کے سامنے جاؤں گا حارث نے کہا اگر تو ان کو قتل نہیں کرے گا تو میں تجھے قتل کر دوں گا غلام نے کہا قبل اس کے کہ تو مجھے قتل کرے میں تجھے قتل کر دوں گا حارث فنِ حرب میں بہت ماہر تھا اس نے اچانک آگے بڑھ کر غلام کے سر کے بال پکڑ لیے غلام نے اس کی داڑھی پکڑلی اور دونوں گتھم گتھا ہوکر بری طرح لڑنے لگے آخر ظالم نے اپنے غلام کو شدید زخمی کر دیا اتنے میں اس کی بیوی اور لڑکا بھی پہنچ گئے لڑکے نے کہا اے باپ یہ غلام میرا رضائی بھائی ہے اس کو مارتے ہوئے تجھے شرم نہیں آئی ظالم نے بیٹے کو تو کوئی جواب نہ دیا اور غلام پر ایک ایسا وار کیا کہ وہ جامِ شہادت نوش کر کے جنت الفردوس پہنچ گیا بیٹے نے کہا اے باپ میں نے تجھ سے زیادہ سنگ دل اور جفا کار کوئی نہیں دیکھا حارث نے کہا او بیٹے اپنی زبان روک اور یہ تلوار لے اور ان دونوں بچوں کے سر قلم کر بیٹے نے کہا خدا کی قسم میں یہ کام ہرگز نہ کروں گا اور نہ تجھے یہ کام کرنے دوں گا حارث کی بیوی نے پھر منت و زاری کرتے ہوئے کہا کہ ان بے گناہ بچوں کے خون کا وبال اپنے سر نہ لے اگر تو ان کو نہیں چھوڑتا تو اتنی بات مان لے کہ ان کو قتل نہ کر اور ان کو زندہ ابنِ زیاد کے پاس لےجا اس سے بھی تیرا مقصود حاصل ہو جائے گا کہنے لگا مجھے اندیشہ ہے کہ جب اہلِ کوفہ ان کو دیکھیں گے تو شور و خوغا کر کے ان کو مجھ سے چھڑا لیں گے اور میری محنت ضائع ہو جائے گی۔

آخر وہ ظالم تلوار اٹھائے چمنستانِ رسالت کے ان پھولوں کو کاٹنے کے لیے ان کی طرف بڑھا۔

جب سامنے بچوں کے آیا وہ ستم گار

 اور دیکھی یتیموں نے چمکتی ہوئی تلوار 

دل ہل گئے ہٹ ہٹ بن کے یہ کی دونوں نے گفتار

 کر رحم کہ معصوم ہیں ہم بے کس و لاچار 

مظلوم ہیں حامی کوئی مشکل میں نہیں ہے

ظالم نے کہا رحم میرے دل میں نہیں ہے

بیوی دوڑ کر حائل ہو گئی اور کہنے لگی ظالم خدا کا خوف کر اور عذاب آخرت سے ڈر ظالم نے بیوی پر وار کر دیا وہ زخمی ہو کر گر گئی اور تڑپنے لگی بیٹے نے ماں کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھا آگے بڑھ کر باپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا او باپ ہوش میں آپ تجھے کیا ہوگیا ظالم نے بیٹے پر بھی وار کر کے موت کی نیند سلا دیا ماں نے اپنی آنکھوں کے سامنے جب اپنے لخت جگر کو اس طرح کشتہ شمشیر جفا ہوتے دیکھا اس کا کلیجا بھی پھٹ گیا اور وہ بھی رائی جنت ہوئی۔

صفحہ 3 از 4