شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی - ردِ رافضیت |…

شامِ کربلا مصنفہ مولوی محمد شفیع اوکاڑوی

  محمد علی

صفحہ 4 از 4

اب وہ ظالم پھر دونوں بچوں کی طرف آیا دونوں نے سراپا التجا بن کر کہا اگر تجھے یہ اندیشہ ہے کہ ہمیں زندہ لے جانے کی صورت میں لوگ شور و غوغا کرکے چھڑا لیں گے اور تو مال سے محروم رہ جائے گا تو ایسا کر کہ ہمارے گیسو کاٹ کر غلام بنا کر فروخت کر دے ظالم نے کہا اب تو میں تمہیں ہرگز نہ چھوڑوں گا جب اس نے تلوار اٹھائی تو چھوٹے نے آگے بڑھ کر کہا پہلے مجھے مارے۔

کی بڑے بھائی نے قاتل کی منت اس آن

تجھ سے اک عرض میں کرتا ہوں اگر تو لے مان

سر مرا پہلے اگر کاٹے تو بڑا ہو احسان

چھوٹے بھائی پہ میں قربان میرا سر قربان

شوق سے اور ہر اک صدمہ و ایذا دکھلا

پر نہ بھائی کا مجھے ننھا سا لاشا دکھلا

نا گاه چلی ظلم کی تلوار بڑے پر

بالائے زمین کٹ کے ستارا سا گرا سر

دریا میں ستم گار نے پھینکا تن اطہر

چلا کے چھوٹے نے کہا ہائے برادر

دیکھا جو بڑے بھائی کا سر دست عدو میں 

وہ گر کے تڑپنے لگا بھائی کے لہو میں

آیا جو شقی تیغ علم کر کے دوبارا

چلانے لگا بھائی کو وہ بھائی کا پیارا

مادر کو پکارا کبھی بابا کو پکارا

جلاد نے سرتن پر سے اس کا بھی تارا

دھبا بھی نہ خوں کا لگا شمشیر عدو میں

 بھائی کا لہو مل گیا بھائی کے لہو میں

دونوں لاشوں سے جدا کر دیے سر ہائے ستم

 پھینک دیے نہر میں ظالم نے وہ لاشے اس دم

مل کے بہنے لگے وہ پیکر نوری باہم

 لہریں پانی کی لگیں چومنے بڑھ بڑھ کے قدم

 ڈوب کر نہر میں کوثر کے کنارے پہنچے

آئی مسلم کی صدا پیارے ہمارے پہنچے

 الغرض جب اس ظالم نے ان معصوموں کو شہید کر دیا اور سروں کو جسموں سے جدا کر کے لاشے نہر میں پھینک دیے تو سروں کو توبرے میں ڈال کر ابنِ زیاد کی طرف چلا دوپہر کا وقت تھا قصر امارت میں داخل ہو کر رسائی حاصل کی اور توبرا ابنِ زیاد کے سامنے رکھ دیا ابنِ زیاد نے کہا اس میں کیا ہے؟ کہنے لگا یہ امید انعام و اکرام تیرے دشمنوں کے سر کاٹ کر لایا ہوں ابنِ زیاد نے کہا یہ دشمن کون ہیں؟ کہا فرزندان  مسلم بن عقیل ابنِ زیاد نے غضب ناک بن ہوکر کہا تو نے کس کے حکم سے ان کو قتل کیا ہے؟ بدبخت میں نے یزید کو لکھا ہے کہ اگر حکم ہو میں تو زندہ بھیج دوں اگر س نے زندہ بھیجنے کا حکم دے دیا تو میں کیا کروں گا تو انکو میرے پاس زندہ کیوں نہیں لایا؟ کہنے لگا مجھے اندیشہ تھا کہ اہلِ شہر غوغا کر کے مجھ سے چھین لیں گے ابنِ زیاد نے کہا اگر اندیشہ تھا تو انہیں کسی محفوظ مقام پر ٹہرا کر مجھے اطلاع کر دیتا میں خود منگواتا تو نے بغیر میرے حکم کے ان کو کیوں قتل کیا؟ ابنِ زیاد نے اہلِ دربار کی طرف دیکھا اور مقاتل نامی ایک شخص سے کہا کہ اس کی گردن مار دے چنانچہ اس کی گردن مار دی گئی اور وہ خسر الدنیا والآخرة کا مصداق ہوا۔

نه خدا ہی ملا نہ وصال صنم 

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 

(روضتہ الشہداء صفحہ 150) 

قارئین کرام سیدنا مسلمؓ کے بچوں کا واقعہ آپ نے شام کربلا کی فوٹو کاپیاں سے پڑھ لیا تو اس واقعہ کو جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اگر کوئی پتھر دل بھی ہو تو وہ رونے لگتا ہے حالانکہ اس واقع کی تاریخی رو سے کچھ حیثیت نہیں کہ جس کا ثبوت عنقریب پیش کیا جائے گا اور پھر افسوس اس بات کا ہے کہ عوام مقررین تو در کنار فقیہ ملت مولانا مفتی جلال الدین صاحب نے خطبات محرم میں بھی اس واقعہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے اب اس کے بعد آپ خود اندازہ لگا لیں کہ موجودہ دور کے ان مصنفین نے اس واقعہ کو لکھنے میں کتنا بڑا تسہل سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے رونے رلانے والے واعظین کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے۔


صفحہ 4 از 4