واپسی کا راستہ کاٹ دینے پر سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی ندامت
علی محمد الصلابیجنگ ختم ہو جانے کے بعد حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے پل پر قبضہ کرنے اور ایرانیوں کے بھاگنے کا راستہ بند کر دینے پر افسوس اور پشیمانی کا اظہار کیا اور کہا: میں نے ان سے پہلے پل پر قبضہ کر کے ان کا راستہ روکا تھا، یہ میری کمزوری تھی جس کی برائی سے اللہ نے بچایا، اس قسم کی حرکت اب میں کبھی نہ کروں گا اور تم بھی ہرگز ایسا نہ کرنا۔ لوگو! وہ میری غلطی تھی، جب تک دشمن کی تاب مقاومت جواب نہ دے جائے اسے اس طرح گھیرنا فوجی نقطہ نظر سے مناسب نہیں ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 291) گویا انہوں نے بیان کے آخر میں اپنی فوجی کارروائی میں لغزش کا اعتراف کیا، آپ نے فوجی نگاہ بصیرت سے محسوس کر لیا کہ دشمن کو راہ فرار نہ دینا گویا اسے اپنے بالمقابل دفاعی جنگ پر دعوت دینا ہے، کیونکہ ان حالات میں جب انسان کو اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ اب اسے ہر حال میں مرنا ہی ہے تو اپنی جان کے دفاع میں پوری طاقت لگا دیتا ہے اور پھر اسے مات دینے کے لیے مد مقابل فوج کو بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔
بہرحال یہ اللہ کا فضل خاص رہا کہ اس نے حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی جنگی لغزش کے برے اثرات سے مسلمانوں کو بچا لیا، انہیں عزم و استقلال عطا کیا اور ان کی طاقت و قوت دشمنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی، اسی طرح اس نے دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کا اس قدر رعب و دبدبہ بٹھا دیا کہ ان میں اپنی جان کی طرف سے دفاع کرنے کی طاقت نہ رہی۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 350)
بے شک فتح و نصرت اور کامیابی و نیک نامی کے اوج ثریا پر مقیم ہوتے ہوئے حضرت مثنیٰؓ کا اپنی لغزش کا اعتراف کرنا ان کی ایمانی قوت، پاک طینت اور ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے کی واضح دلیل ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ عظیم اور سرکردہ افراد ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 355)