خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 1 از 8

خطباتِ محرم مصنفہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی:

اس سے قبل آپ اس واقعہ فرزندان سیدنا مسلمؓ و مولوی محمد شفیع اوکاڑوی کو کتاب شامِ کربلا سے پڑھ چکے ہیں اور اس میں جو رنگیلاپنی اختیار کی گئی ہے اس کو بھی پڑھ چکے ہیں اور اس زمانہ کے مقررین نے اب طریقہ بھی یہ ہی اپنایا ہے کہ جب اس واقع کو بیان کرتے ہیں تو اس واقعہ میں رنگینی پیدا کرنے اور غم و اندوہ کے حالات و کیفیات میں زیادتی کی خاطر ایسے ایسے اشعار لکھے جاتے اور پڑھے جاتے ہیں کہ ذی عقل و خرد ماتھا تھام کے بیٹھ جاتا ہے یہ واقعہ اگرچہ شہید ابنِ شہید خاکِ کربلا اور اوراقِ غم وغیرہ میں بھی مذکور ہے لیکن عجیب خیرت ہوئی جب میں نے یہی واقعہ اسی انداز میں خطباتِ محرم میں لکھا دیکھا اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ الفاظ لکھے گئے ہیں محرم کے لیے بارہ واعظوں کا مستند مجموعہ اس کتاب کے 369 تا 374 چھ صفحات اسی واقعہ کی نذر کیے گئے ہیں۔

فقیر خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہے کہ میں حضرات اہلِ بیت کی محبت کو اپنا ایمان سمجھتا ہوں کیونکہ رسول کریمﷺ کی آل پاک سے محبت دراصل آپﷺ سے محبت ہوتی ہے لیکن حضورﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ میری طرف جو شخص ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے اس لیے لوگوں کو رلانے اور اپنی بات کو رنگین و مؤثر بنانے کی خاطر بے اصل روایات کو ذکر دینا کسی طرح سے بھی درست قدم نہیں قرار دیا جاسکتا اور من گھڑت روایات و واقعات سے رلانا ایک طرف جھوٹ باندھنا ہے اور دوسری طرف شیعوں کے مسلک کو تقویت پہنچانا ہے۔ خطباتِ محرم کے مصنف فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی ہیں ان کا ٹائیٹل پر تو دعویٰ یہی کہ کوئی واقعہ و روایت غیر مستند نہیں ہوگی لیکن سیدنا مسلمؓ کے صاحبزادوں کے واقعہ کے بارے میں کسی معتبر کتاب کا حوالہ تو درکنار کسی چلتی پھرتی کتاب تک کا حوالہ نہ دیا جس سے مطلب یہ ہوا کہ مفتی صاحب کا لکھ دینا ہی مستند ہے اب اس کی تائید کی کوئی ضرورت نہیں ہے مفتی صاحب کی مذکورہ کتاب کے چھ صفحات کی عبارت نقل کرنے کی بجائے اس کی فوٹو کاپی لف کی جارہی ہے تاکہ قارئین کرام خود ان کے الفاظ میں لکھا واقعہ پڑھ لیں۔

صفحہ 1 از 8