خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 2 از 8

شہادتِ فرزندانِ سیدنا مسلم: مسلم (رضی اللہ عنہ) نے گورنر ہاؤس کے گھر یا طوعہ کے گھر قیام کے وقت بچوں کو قاضی شریح کے یہاں پہنچا دیا تھا جب ابنِ زیاد کو معلوم ہوا کہ مسلم کے ساتھ ان کے دو بچے بھی آئے تھے تو اس نے پورے شہر کوفہ میں اعلان کروایا کہ جو شخص مسلم کے بچوں کو چھپائے گا اسے سخت سزادی جائے گی اور جو ان کو ہمارے پاس لائے گا وہ انعام و اکرام پائے گا ابنِ زیاد کے اس اعلان کو سن کر قاضی صاحب گھبرا گئے فوراً زاد راہ تیار کروایا اور اپنے بیٹے اسد سے کہا کہ آج باب العراقین سے ایک قافلہ مدینہ منورہ کی طرف جانے والا ہے ان بچوں کو لے جاکر اس قافلہ میں کسی محب اہلِ بیت کے سپرد کر دو اور تاکید کر دو کہ ان کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچا دے اسد جب ان بچوں کو لے کر باب العراقین پہنچا تو معلوم ہوا کہ قافلہ تھوڑی دیر پہلے چلا گیا وہ بچوں کو لے کر اس کی راہ پر تیزی کے ساتھ چلا اور جب قافلہ کی گرد نظر آئی تو بچوں کو گرد دکھا کر کہا دیکھو وہ قافلہ کی گرد نظر آرہی ہے تم لوگ جلدی سے جا کر اس میں مل جاؤ میں واپس جاتا ہوں یہ کہہ کر وہ واپس چلا آیا اور بچے تیزی کے ساتھ چلنے لگے مگر تھوڑی دیر بعد گرد غائب ہو گئی اور انہیں قافلہ نہ ملا ننھے بچے اس تنہائی میں ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے لگے اور ماں باپ کو پکار پکار کر جی جان کھونے لگے ابنِ زیاد کا اعلان سن کر مال و زر کی ہوس رکھنے والے سپاسی بچوں کی تلاش میں نکلے سمجھے تھے تھوڑی دیر بعد انہوں نے بچوں کو پا لیا پکڑ کر ابنِ زیاد کے پاس پہنچا دیا اس نے حکم دیا کہ ان بچوں کو اس وقت تک جیل میں رکھا جائے جب تک امیر المؤمنین یزید سے پوچھ نہ لوں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے جیل کا داروغہ مشکور نامی محب اہلِ بیت تھا اسے بچوں کی بےکسی پر بہت ترس آیا اس نے فیصلہ کر لیا کہ بچوں کی جان بہرحال بچانی ہے چاہے اپنی جان چلی جائے چنانچہ اس نے رات کے اندھیرے میں بچوں کو جیل سے نکالا اپنے گھر لا کر کھانا کھلایا اپنی انگوٹھی بطور نشانی دی اور شہر کے باہر قادسیہ کی راہ پر لا کر کہا کہ تم لوگ اسی راستے پر چلے جاؤ جب قادسیہ پہنچے جانا تو کوتوال سے ملنا ہماری انگوٹھی دکھلانا اور سارے حالات بتانا وہ ہمارا بھائی ہے تم لوگوں کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچا دے گا دونوں بچے قادسیہ کی راہ پر چل پڑے مگر چونکہ انہیں بھی اس عمر میں شہادت سے سرفراز ہونا تھا اس لئے وہ راستہ بھول گئے رات بھر چلتے رہے اور جب صبح ہوئی تو گھوم پھر کے اسی جگہ پہنچے کہ جہاں سے کوفہ کے باہر قادسیہ کے راستہ پر چلے تھے ننھا سا کلیجہ خوف سے دہل گیا کہ کہیں پھر نہ کوئی پکڑ کر ابنِ زیاد کے پاس پہنچا دے قریب میں ایک کھوکھلا درخت نظر آیا وہیں ایک کنواں بھی تھا اسی درخت کی آڑ میں جا کر بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد ایک لونڈی پانی بھرنے آئی اور جب ان بچوں کو چھپے ہوئے بیٹھے دیکھا تو قریب آئی اور ان کے نورانی چہروں میں شان شہزادگی دیکھ کر کہا شہزادو تم لوگ کون ہو اور یہاں کیسے چھپے بیٹھے ہو؟ انھوں نے کہا کہ ہم یتیم وبےکس ہیں اور راہ بھٹکے ہوئے مصیبت زدہ مسافر ہیں لونڈی نے کہا تمہارے باپ کا نام کیا ہے؟ باپ کا لفظ سنتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس نے کہا غالباً تم لوگ مسلم بن عقیل کے فرزند ہو اور اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اس نے کہا غم نہ کر میں بی بی کی لونڈی ہوں جو محب اہلِ بیت ہے آؤ چلو میں اس کے پاس لے چلتی ہوں دونوں صاحبزادے اس کے ساتھ ہو لئے لونڈی ان کو اپنی مالک کے پاس لے گئی اور سارا واقعہ بیان کیا اسے صاحبزادوں کی تشریف آوری پر بے انتہا مسرت ہوئی اس خوشی میں اس نیک بی بی نے لونڈی کو آزاد کر دیا اور صاحبزادوں کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئی انہیں ہر طرح تسلی تشفی دی کہ فکر نہ کرو اور لونڈی سے کہا کہ ان کی تشریف آوری کا راز پوشیدہ رکھنا میرے شوہر حارث کو نہ بتانا ادہر ابن زیاد کو جب معلوم ہوا کہ مشکور داروغہ جیل نے دونوں بچوں کو رہا کر دیا ہے تو اس نے مشکور کو بلا کر پوچھا کہ تو نے مسلم کے بچوں کو کیا کیا انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ رسول کی رضا اور خوشنودی کیلئے ان کو رہا کر دیا ہے ابنِ زیاد نے کہا تو مجھ سے ڈرا نہیں انہوں نے کہا جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا ابنِ زیاد نے کہا تجھے ان بچوں کے رہا کرنے میں کیا ملا؟ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ ان کو رہا کرنے کے سبب حضور پرنور سید عالمﷺ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن میری شفاعت فرمائیں گے البتہ تو مسلم بن عقیل کو شہید کرنے کے سبب اس نعمت سے محروم رہے گا ابنِ زیاد اس جواب پر غضبناک ہو گیا اور کہا میں ابھی تجھے سخت سزا دیتا ہوں انہوں نے کہا ایک نہیں مشکور کی اگر ہزار جانیں ہوں تو سب ان پر قربان ہیں ابنِ زیاد نے جلاد سے کہا اسے اتنے کوڑے مارو کہ مرجائے اور پھر اس کا سرتن سے جدا کر دو جلاد نے جب کوڑے مارنے شروع کئے تو مشکور نے پہلے کوڑے پر کہا بسم الله الرحمنِ الرَّحِیم دوسرے پر کہا الہ العالمین مجھے صبر عطا فرما تیسرے کوڑے پر کہا خداوند مجھے بخش دے چوتھے پر کہا اله العَالَمِينَ مجھے اہلِ بيت نبوت کی محبت میں یہ سزا مل رہی ہے پانچویں کوڑے پر کہا یا الٰہی مجھے اپنے رسولﷺ اور انکے اہلِ بیت اطہار کے پاس پہنچا دے پھر اس کے بعد خاموش ہوگئے اور جلاد نے اپنا کام تمام کر دیا انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ادھر وہ نیک بی بی دل و جان سے بچوں کی خدمت میں دن بھر لگی رہی اور ہر طرح سے ان کی دل جوئی کرتی رہی پھر رات میں کھانا کھلا کر ان کو الگ ایک کمرہ میں سُلا کر واپس آئی تھی کہ اس کا شوہر حارث آ گیا عورت نے پوچھا آج دن بھر آپ کہاں رہے؟ حارث نے کہا داروغہ جیل مشکور نے مسلم بن عقیل کے بچوں کو قید سے رہا کر دیا تو امیر عبداللہ بن زیاد نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص انکو پکڑ لے گا اسے بہت انعام دیا جائے گا میں انہیں بچوں کی تلاش میں دن بھر پریشان رہا یہاں تک کہ اسی بھاگ دوڑ میں میرا گھوڑا بھی مر گیا اور مجھے انکی تلاش میں پیدل چلنا پڑا عورت نے کہا اللہ سے ڈرو اور اہلِ بیت نبوت کے بارے میں اسطرح کا خیال دل سے نکال دو کہنے لگا چپ رہ تجھے کیا معلوم جو شخص ان بچوں کو پا جائیگا اسے ابنِ زیاد انعام واکرام سے مالا مال کر دے گا اس لئے اور بھی بہت لوگ ان بچوں کی تلاش میں دن بھر لگے رہے عورت نے کہا کتنے بدنصیب وہ لوگ جو دنیا کی خاطر ان یتیم بچوں کو دشمن کے حوالے کرنے کیلئے تلاش میں لگے ہوۓ ہیں اور دنیا کے عوض اپنا دین برباد کر رہے ہیں کیا میدانِ حشر میں رسول خدا کو کیا منہ دکھائیں گے ان کا دل سیاہ ہوچکا تھا بیوی کے سمجھانے کا اس پر کچھ اثر نہیں ہوا کہ نصیحت کی ضرورت نہیں نفع نقصان میں خود سمجھتا ہوں چل تو کھانا لا وہ کھانا لائی اور حارث بدبخت کھا کر سو گیا آدھی رات کے بعد بڑے بھائی محمد نے خواب دیکھا اور بیدار ہو کر چھوٹے بھائی کو جگاتے ہوئے کہا اٹھو اب سونے کا وقت نہیں رہا ہماری شہادت کا بھی وقت قریب آ گیا ابھی میں نے خواب میں ابا جان کو دیکھا کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ سیدنا علی ہیں اور فاطمہ اور حسن مجتبیٰ کے ساتھ جنت کی سیر کر رہے ہیں حضرت محمد مصطفیٰ ابا سے فرما رہے ہیں کہ تم چلے آئے اور اپنے بچوں کو ظالموں میں چھوڑ آئے ابا جان نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ بھی عنقریب آنے ہی والے ہیں چھوٹے نے کہا بھائی جان میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے کیا سچ مچ ہم لوگ کل صبح قتل کر دیے جائیں گے ہائے ایک دوسرے کو ذبح ہوتے ہوئے ہم کیسے دیکھ سکیں گے یہ کہہ کر دونوں بھائی ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر لپٹ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ان کے رونے اور چیخنے سے حارث بدبخت کی آنکھ کھل گئی ظالم نے بیوی کو جگا کر پوچھا یہ بچوں کے رونے کی آواز کہاں سے آرہی ہے؟ عورت بے چاری سہم گئی اس نے کچھ جواب نہ دیا ظالم نے خود اٹھ کر چراغ جلایا اور اس کمرہ کی طرف گیا کہ جہاں سے آواز آرہی تھی جب اندر داخل ہوا تو دیکھا دو بچے روتے روتے بے حال ہو رہے ہیں پوچھا تم کون ہو؟ چونکہ وہ اس گھر کو اپنی جائے پناہ سمجھے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم مسلم بن عقیل کے یتیم بچے ہیں حارث یہ سنتے ہی غصہ سے بے قابو ہو گیا اور کہا میں سارا دن ڈھونڈتے ڈھونڈتے پریشان ہو گیا اور تم لوگ ہمارے ہی گھر میں عیش کا بستر جمائے ہو یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا اور نہایت بے رحمی کے ساتھ ان کو مارنا شروع کیا دونوں بھائی شدت کرب سے چیچنے لگے عورت بے تحاشا دوڑی ہوئی آئی اور حارث کے قدموں پر اپنا سر رکھ کر نہایت عاجزی کے ساتھ روتی ہوئی کہنے لگی کہ ارے یہ سیدہ فاطمہ کے راج دلارے ہیں ان کی چاند جیسی صورتوں پر رحم کھا تو میرا سر کچل کر اپنی ہوس کی آگ بجھا لے لیکن سیدہ فاطمہ کے جگر پاروں کو بخش دے حارث بدبخت نے اسے اتنے زور کی ٹھوکر ماری کہ بے چاری ایک کھمبے سے ٹکرا کر لہولہان ہو گئی ظالم بچوں کو مارتے مارتے جب تھک گیا تو دونوں بھائیوں کی مشکیں کس دیں اور زلفوں کو کھینچ کر آپس میں ایک دوسرے سے باندھ دیا اسکے بعد یہ کہتا ہوا کوٹھری کے باہر نکل آیا کہ جس قدر تڑپنا ہے صبح تک تڑپ لو دن نکلتے ہی میری چمکتی ہوئی تلوار تمہیں ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دے گی صبح ہوتے ہی ظالم نے تلوار اٹھائی زہر میں بجھا ہوا خنجر سنبھالا اور خونخوار بھیڑے کی طرح کوٹھری کی طرف بڑھا نیک بخت بیوی نے دوڑ کر پیچھے سے اس کی کمر تھام لی حارث نے اتنے زور کا اس کو جھٹکا دیا کہ سر ایک دیوار سے ٹکرا گیا اور وہ آہ کر کے زمین پر گر پڑی اور جب وہ کوٹھری میں داخل ہوا تو ہاتھ میں ننگی تلوار اور چمکتا ہوا خنجر دیکھ کر دونوں بھائی کانپنے لگے بدبخت نے آگے بڑھ کر دونوں بھائیوں کی زلفیں پکڑیں اور نہایت بے دردی کے ساتھ انہیں گھسیٹتا ہوا باہر لایا تکلیف سے دونوں بھائی تلملا اٹھے رو رو کر فریاد کرنے لگے لیکن ظالم کو ترس نہ آیا سامان کی طرح ایک خچر پر لاد کر دریائے فرات کی طرف چل پڑا اور جب اس کے کنارے پہنچا تو انہیں خچر سے اتارا مشکیں کھولیں اور سامنے کھڑا کیا پھر میان سے تلوار نکالی ہی تھا کہ اتنے میں اس کی بیوی ہانپتی کانپتی اور گرتی پڑتی آ پہنچی آتے ہی اس نے پیچھے سے اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ لیا اور خوشامد کرتے ہوئے کہا خدا کے لئے اب بھی مان جاؤ اہلِ بیت رسالت کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین مت کرو دیکھو بچوں کی جان سوکھی جارہی ہے تلوار سامنے سے ہٹالو حارث پر شیطان پوری طرح سوار تھا ظالم نے بیوی پر وار کر دیا وہ زخمی ہوکر گری درد سے تڑپنے لگی بچے یہ منظر دیکھ کر سہم گئے اب بدبخت اپنی خون آلود تلوار لے کر بچوں کی طرف بڑھا چھوٹے بھائی پر وار کرنا ہی چاہتا تھا کہ بڑا بھائی چینخ اٹھا خدا کے لئے پہلے مجھے ذبح کرو میں اپنے بھائی کی تڑپتی ہوئی لاش نہیں دیکھ سکوں گا اور چھوٹے بھائی نے سر جھکاتے ہوئے کہا کہ بڑے بھائی کے قتل کا منظر مجھ سے نہیں دیکھا جاسکے گا خدا کے واسطے پہلے میرا ہی سر قلم کرو ظالم کی تلوار چمکی دو ننھی چیخیں بلند ہوئیں اور یتیم بچوں کے کٹے ہوئے سر خون میں تڑپنے لگے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

صفحہ 2 از 8