خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 3 از 8

پھول تو دو دن بہار جانفزا دکھلا گئے 

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے 

قاتل کا انجام: حارث بدبخت نے جب بچوں کو شہید کر دیا تو ان کی لاشوں کو دریائے فرات میں پھینک دیا اور سروں کو توبڑہ میں رکھ کر لے گیا اور ابنِ زیاد کے سامنے پیش کیا اس نے کہا اس میں کیا ہے؟ حارث نے کہا انعام و اکرام کیلئے آپ کے دشمنوں کا سرکاٹ کر لایا ہوں ابنِ زیاد نے کہا یہ میرے دشمن کون ہیں؟ کہا مسلم بن عقیل کے فرزند ابنِ زیاد یہ سنتے ہی غضبناک ہوگیا اور کہا تجھ کو قتل کرنے کا حکم کس نے دیا تھا کم بخت میں نے امیر المؤمنین یزید کو لکھا ہے کہ مسلم بن عقیل کے فرزند گرفتار کر لئے گئے ہیں اگر حکم ہو تو میں انہیں آپ کے پاس زندہ بھیج دوں اگر یزید نے زندہ بھیجنے کا حکم دیا تو پھر میں کیا کروں گا؟ تو میرے پاس ان کو زندہ کیوں نہیں لایا؟ حارث نے کہا مجھے اندیشہ تھا کہ شہر کے لوگ مجھ سے چھین لیں گے ابنِ زیاد نے کہا اگر تجھے چھین لینے کا اندیشہ تھا تو کسی محفوظ جگہ پران کو ٹہرا کر مجھے اطلات کر دیتا میں سپاہیوں کے ذریعہ منگوا لیتا تو نے میرے حکم کے بغیر ان کو قتل کیوں کیا؟ پھر ابنِ زیاد نے مجمع پر نگاہ ڈالی اور ایک شخص جس کا نام مقاتل تھا اس سے کہا کہ اس بدبخت کی گردن مار دے چنانچہ حارث کی گردن مار دی گئی اور وہ خسر الدنیا والأخرة کا مصداق ہوا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم 

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 

قارئین کرام وہ خطباتِ محرم سے سیدنا مسلمؓ کے فرزندان کا واقعہ آپ نے پڑھا کس قدر دردناک لہجہ میں اس کو نقل کیا گیا جسے پڑھ کر ایک عقل مند یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ابنِ زیاد کو اب ظلم کرنے سے کیا فائدہ مقصود تھا؟ بچوں کے قتل کرنے سے یزید کی خوشنودی کا کیا تعلق ہے؟ پھر ان بچوں کو بھگانے کے لیے قاضی شریح کا اپنے بیٹے کو حکم دینا کہ مدینہ کے قافلہ کے ساتھ انہیں ملا دو پھر ان کا دُھول میں گم ہو جانا راستہ نہ ملنا اور ادھر ابنِ زیاد کا اعلان کرنا کہ ان بچوں کو پکڑنے والے کو بہت سا انعام دیا جائے گا اس لالچ میں سپاہیوں کا پکڑ کر ان بچوں کو ابنِ زیاد کے پاس لانا ان کو قید سے داروغہ مشکور نامی کا رہا کرنا رات بھر بچوں کا چلتے رہنا راستہ نہ ملنا درخت کی اوٹ میں بیٹھ جانا لونڈی کا دیکھ کر انہیں اپنی مالکہ کے پاس لے جانا مالکہ کا محبت اہلِ بیت کی وجہ سے ان کی خدمت کرنا اس کے شوہر حارث نامی کا انعام کی لالچ کی خاطر ابن زیاد کے پاس قتل کرکے لانا وغیرہ یہ باتیں جس دردناک انداز سے لکھی گئیں آپ پڑھیں اور پڑھنے کے دوران آپ کے رونگٹے کھڑے ہوئے ہوں گے آنسوؤں سے آنکھیں تر ہوئی ہوں گی اور ہو سکتا ہے کہ زیاد تاثیر کی وجہ سے پیٹنے تک نوبت بھی آ جائے آیے اب ہم آپ کو تاریخ کی روشنی میں واقعہ کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔

سیدنا مسلمؓ کا مدینہ منورہ سے اپنے بچوں کو ساتھ لے جانا:
الكامل في التاريخ: ثم دعا الحسين مسلم بن عقيل فستيره نحوا الكوفة وامره بتقوى الله وكتمان امرہ واللطيف فان رأى الناس مجتمعين له عجل اليه بذالك فاقبل المسلم إلى المدينة فصلى في مسجد رسول الله و ودعه و استاجر دليلين من قيس فاقبل به فولا الطريق وعطشوا فمات دليلام من العطش وقال المسلم هذا الطريق الى الماء۔

(الكامل في التاريخ: جلد 4 صفحہ 21 المطبوعه بيروت) ترجمہ: پھر (یعنی کوفیوں کے خطوط ملنے کے بعد سیدنا حسین نے سیدنا مسلم بن عقیل کو بلایا اور انہیں کوفہ کی جانب روانگی کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ نہ چھوڑنا اور معاملہ کو پوشیدہ رکھنا اور لوگوں سے نرمی سے پیش آنا اگر دیکھو کر لوگ تمہارے اردگرد جمع ہو گئے ہیں تو مجھے جلدی سے بلا لینا چنانچہ مسلم بن عقیل مدینہ منورہ میں رسول اللہﷺ کی مسجد شریف میں لے گئے اور نماز ادا کرنے کے بعد انہیں الوداع کیا گیا دو راستہ بتانے والے کہ جن کا تعلق قیس سے تھا کرائے پر لے کر ان کے ساتھ چل پڑے دونوں راستہ بتانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہے راستہ میں سب کو بہت زیادہ پیاس لگی جس کی وجہ سے وہ دونوں مر گئے اور مرتے وقت مسلم کو پانی کا راستہ بتا گئے۔ 

قارئین کرام یہ حوالہ ایسی کتاب کا ہے جسے شیعہ سنی دونوں معتبر جانتے ہیں واقعہ آپ نے پڑھ لیا سیدنا مسلم کو سیدنا حسینؓ نے کوفہ جانے کا حکم دیا وہ مسجد نبوی میں نماز پڑھ کر رخصت ہوئے قیس سے دو سیاح ان کے ساتھ تھے راستہ میں پیاس کی وجہ سے یہ دونوں مر گئے اور سیدنا مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اس پورے واقعہ میں سیدنا مسلمؓ کا اپنے بچوں کو ساتھ لینا کہیں بھی مذکور نہیں نہ مسجد نبوی میں جاتے وقت نہ الوداع ہوتے وقت نہ راستہ میں پیاس کی حالت میں مرنے یا بیچنے والوں میں آخر اگر بچے ساتھ تھے تو کسی مرحلہ پر تو ان کا ذکر ہونا چاہیے؟ خصوصاً پیاس کے وقت انکی حالت کا ذکر ہوتا۔

سارَ مُسْلِمُ فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ فَصَلى فِي الْمَسْجِدِ وَوَدَعَ أَهْلَهُ الخ )  

(ابنِ خلدون: جلد سوم صفحہ 27 مير الحسينؓ إلى الكوفة مطبوعة بيروت) 

ترجمہ: سیدنا مسلم چل پڑے مدینہ منورہ میں مسجد میں جاکر نماز ادا کی اور اپنے گھر والوں کو الوداع کہا۔

بحار الانوار: وَوَدعَ الْحُسَيْنُ مُسْلِمَ بْنَ عَقِيل فَسَرَهُ مَعَ قيس بن مسهر الصيداوى و عماره بن عبدالله وعبد الرحمٰن بن عبد الله الا ذدى وَأَمَرَهُ بِالتَّقْوَى وَكِتْمَانِ أَمْرِهِ وَ اللُّطْفِ فَإِنْ رأَى النَّاسَ مُجْتَمَعِينَ مُتَنرقنين عَجَلَ إِلَيْهِ بِذَالِكَ فَأَقْبَلَ مُسْلِمُ رَحِمَهُ اللَّهِ حَتّٰى إِلَى الْمَدِينَةَ فَصلَى فِي مَسْجِدِ رَسُولِ الله وَ وَدَعَ مَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِهِ وَاسْتَاجَرَ جَلِيلَيْنِ۔ 

(بحار الانوار: جلد 2صفحہ 335 باب ما جلی علیه بعد بيعة الناس مطبوعه تہران)

صفحہ 3 از 8