خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 4 از 8

 ترجمہ: سیدنا حسین نے مسلم بن عقیل کو بلایا اور انہیں قیس بن مسہر صیداوی عمارہ بن عبدالله سلولی اور عبد الرحمٰن بن عبدالله ازدی کے ساتھ روانہ کیا اور تقویٰ معاملہ چھپائے رکھنے اور مہربانی کرنے کا حکم دیا پھر وہاں پہنچ کر اگر دیکھیں کہ لوگ مضبوط طریقہ سے اکٹھے ہوگئے ہیں تو فوراً مجھے اطلاع کی جائے چنانچہ مسلم بن عقیل مسجد نبوی میں گئے وہاں نماز ادا کی اور اپنے گھر والوں میں سے محبوب ترین کو بهی الوداع کہا اور دو آدمی راستہ بتانے کے لیے کرایہ پر ساتھ لے لیے یہ کتاب (جس کا حوالہ ذکر کیا گیا شیعوں کی سب سے بڑی اور ضخیم کتاب ہے جو 10 جلدوں پر مشتمل ہے اس کے الفاظ بھی آپ نے پڑھے صرف سیدنا مسلمؓ کے ساتھ جانے والے تین اور شخصوں کا نام زائد ہے ورنہ وہی تحریر اور وہی واقعہ مذکور ہے جو الکامل فی التاریخ میں آپ نے پڑھا مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت آپ نے اپنے محبوب ترین گھر کے افراد کو بھی الوداع کردیا اس کے بعد کا واقعہ بحارالانوار میں وہی ہے جو الکامل فی التاریخ میں ہے یعنی پیاس سے راستہ بتانے والے دونوں مر گئے اور مرتے مرتے مسلم کو پانی کا راستہ بتا گئے علی باقر مجلسی صاحب بحار الانوار نے بھی سیدنا مسلم بن عقیل کے صاحبزادوں کے ساتھ ہونا اور پھر راستہ میں ان کے بارے میں کوئی واقعہ رونما ہونا کچھ بھی ذکر نہیں کیا 

ارشاد شیخ مفید وَدَعَا الْحُسَيْن مسلم بن عقيل فسره مَعَ قیس الخ۔

 (ار شاد شیخ مفید صفحی 204 في نزول سیدنا مسلم بن عقيلؓ على الكوفة مطبوعه قُم) 

ترجمہ: اور سیدنا حسین نے سیدنا مسلم بن عقیل کو بلایا اور قیس وغیرہ کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا۔ 

ان کتب طرفین کے علاوہ بھی بہت سی کتب تاریخ میں کہیں بھی مذکور نہیں ہے کہ سیدنا مسلم بن عقیلؓ کے مدینہ منورہ سے روانہ ہوتے وقت آپ کے دونوں صاجزادے بھی آپ کے ساتھ تھے میں نے بطور نمونہ صرف چند حوالہ جات کتب معتبرہ سے لکھ دیے ہیں سیدنا مسلم بن عقیلؓ کو جب شہید کردیا گیا تو مجھے کسی کتاب میں یہ نظر نہیں آیا کہ آپ نے وصیت فرمائی ہو کہ بچوں کو مدینہ منورہ پہنچا دینا سیدنا مسلمؓ نے شہادت سے قبل جو کہا تھا وہ الفاظ ملاحظہ ہوں۔ 

سیدنا مسلمؓ کی آخری لمحات میں وصیت کے کے کچھ الفاظ:
الكامل في التاريخ: فَلَمَّا كَانَ مِنْ مُسْلِمٍ مَا كَانَ بَدَا لَهُ فَأَمَرَ بِهَا فِي حِينَ قُتِلَ مُسْلِمٌ فَأَخْرَجَ إِلَى السرْقِ فَضْرِبَتْ عُنْقُهُ قَتَلَهُ مَولىٰ تركی ابن زیاد وبعث ابن زياد برأسِهَا إِلىٰ يَزيدِ۔

(الكامل في التاريخ: جلد چہارم صفحہ 36 مطبوعه بيروت) 

ترجمہ: پھر جب مسلم کے لیے جو ہونا تھا وہ ہوا تو ابنِ زیاد نے ہانی کو ان کے شہید کیے جانے کے بعد حکم دیا کہ بازار کی طرف ان کو لے جایا جائے وہاں ان کی گردن کاٹی جائے ہانی کو ابنِ زیاد کے ترکی غلام نے شہید کیا ابنِ زیاد نے ہانی اور مسلم بن عقیل کا سر یزید کے پاس بھیجا۔

البداية والنهاية:   ثُمَّ أَمَرَ ابْنُ زِيَادٍ مُسْلِمَ بْنَ عَقِيلَ فَأَصْعِدَ إِلَى أَعْلَى القَصْرٍ وَهُوَ يُكَبِّرُ وَ يُهْلِلُ وَيُسَبِّحُ وَيَسْتَغْفِرُ وَيُصَلِّى عَلَى مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَيَقُولُ اللهُمَّ احْكُمُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِ غَرُونَ وَخَذَلونَا ثُمَّ ضَرَبَ عُنْقَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ بُكَيْرُ بن حِمْرَانَ ثُمَّ الْقَى رَأْسُهُ إِلَى أَسْفَلِ القَصْرِ وَاتبِعَ رَأْسَهُ جَسَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَانِي بن عروة فَضُرِبَتْ عَنقهُ بِسُوقِ الْغَنَمِ وَصُلِبَ بِمَكَانٍ مِنَ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ الكَنَاسَهثم ابن زياد قَتَلَ مَعَهُمَا أَنَاسٍ ٰاخَرِينَ ثُمَّ بَعَثَ بِرُوسُمِهَا إِلَى يزيد بن معاوية إلى الشَّامِ وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا صورَةٌ مَا وَقَعَ مِنْ أَمْرِهِمَا

(البداية والنهاية: جلد 8 صفحہ 15 باب قصة الحسين بن علىؓ و سبب خروجه من مكة مطبوعة بيروت) 

ترجمہ: پھر ابنِ زیاد نے مسلم بن عقیل کو حکم دیا پھر انہیں ایک اونچے محل پر چڑھایا گیا وہ چڑھتے وقت تکبیرات تہلیلات ، تسبیحات اور استغفار کرتے تھے اللہ کے فرشتوں پر سلام بھیجتے تھے اور کہتے تھے اے اللہ ہمارے اور ان دھوکہ باز لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما انہوں نے ہمیں رسوا کیا پھر ان کی گردن پر ایک شخص بکیر بن حمران نامی نے تلوار ماری اور کاٹ دی پھر ان کا سر نور محل کی بلندی سے نیچے پھینک دیا پھر اس کے بعد سارا جسم بھی پھینک دیا پھر ابنِ زیاد نے ہانی بن عروہ کے قتل کرنے کا حکم دیا ان کی گردن بھی "سوق الغنم" میں کاٹ دی گئی اور کوفہ کے ایک مکان میں ان کو لٹکا دیا گیا جسے کناسہ کہا جاتا تھا پھر ابنِ زیاد نے ان کے دوسرے بہت سے ساتھیوں کو قتل کروایا پھر ان کے سر یزید بن معاویہ کے پاس شام کی طرف بھیجے گئے اور اسے ابنِ زیاد نے ایک رقعہ لکھا جس میں ان دونوں کے قتل کیے جانے کے واقعات درج تھے۔ 

البدایہ والنهايه: وَجَاؤُا بِبَغْلَةٍ فَأَوْكَبُوا عَلَيْهَا وَ سَلَبُوا عَنْهُ سَيْفَهُ فَلَمْ يَبْقَ يَمْلِكُ مِن نَّفْسِهِ شَيْئًا فَبَكَى عِنْدَہ ذَالِكَ وَعَرَفَ أَنَّهُ مَقْتُولٌ فَليْسَ مِن نَّفْسِهِ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ حَولَهُ إِنَّ مَنْ يَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِی تَطْلُبُ لَا يَبْكِي إِذَا نَزَلَ بِهِ هَذَا فَقَالَ أَمَا وَاللهِ لَسْتُ ابْكِي عَلَى نَفْسِي وَلَكِن ابكی عَلَى الْحُسَيْنِ أَنَّهُ قَدْخَرَجَ إِلَيْكُمُ الْيَوْمَ أَوْ أَمْسِ مِنْ مَكَّةَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلى مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ فَقَالَ إِنِ اسْتَلَعْتَ أَنْ تَبِعْتَ إِلَى الْحُسَيْنِ عَلَى لِسَانِي تَأْمُرُهُ بِالرُّجُوعِ فَافْعَلْ فبعث محمد بن الاشعت إِلَى الْحُسَيْنِ يَامُرُهُ بِالرُّجُوعِ فَلَمْ يُصَدِّقِ الرَّسُولُ فِی ذَالِكَ وَقَالَ كُلُّ مَاهَمَّ أَلا لَهُ واقع۔ 

(البدايه والنہايه: جلد 8 صفحہ 156 قصه سیدنا حسین بن علیؓ و خروج سبيد مطبوعه بيروت)

صفحہ 4 از 8