خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 5 از 8

ترجمہ:  لوگ ایک خچر لائے اس پر مسلم بن عقیل کو سوار کیا ان سے ان کی تلوار چھین لی آپ کے پاس کوئی چیز باقی نہ چھوڑی مسلم اس وقت رو دیے اور جان گئے کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا اپنی زندگی سے ناامید ہوگئے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا قریب سے کسی نے کہا کہ جو شخص وہ چاہتا ہو جو آپ کو مل رہی ہے (یعنی شہادت وہ روتا نہیں اس پر آپؓ نے فرمایا خدا کی قسم میں اپنی ذات پر نہیں رو رہا بلکہ سیدنا حسین اور ان کی آل پر مجھے رونا آرہا ہے وہ آج یا کل تک مکہ سے اِدھر آنے کے لیے چل پڑیں گے پھر مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعت کی طرف دیکھ کر اسے فرمایا اگر تو کرسکتی ہے تو کسی کو میرا پیغام دے کر سیدنا حسین کی طرف روانہ کر دے کہ واپس تشریف لے جائیں محمد بن اشعث نے ایسے ہی کیا لیکن سیدنا حسین نے پیغام لے جانے کی بات سچی نہ جانی اور فرمانے لگے اللہ جو ارادہ کر لیتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔

اس حوالہ میں سیدنا مسلمؓ نے محمد بن اشعث کو جو وصیت کی وہ سیدنا عالی مقام کی طرف واپسی کا پیغام پہنچانا تھا اگر سیدنا مسلم کے ساتھ ان کے بیٹے بھی ہوتے تو ان کے بارے میں بھی محمد بن اشعث یا کسی دوسرے کو کچھ نہ کچھ فرماتے مگر یہاں ان کے بارے میں ذکر تک نہیں تو معلوم ہوا کہ سیدنا مسلم کے ساتھ ان کے صاحبزادے نہیں گئے تھے۔

 كتاب الفتوح: وَلَكِنْ إِنْ عَزَمْتَ عَلَى قَتْلِي وَلَا بُدَّلَكَ مِنْ ذَالِكَ فَاقِم إِلَى رَجُلَ مِنْ قَرْیش أُوصی إِلَيْهِ بِمَا أُرِيدُ فَوثبَ إِلَيْهِ عَمْر ابن سعد بن ابی وقاص فقال أَوص إِلَى بِمَا تُرِيدُ يَا ابْنَ عَقِيلٍ فَقَالَ أَوْصِيكَ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللّٰهِ فَإِنَّ التَّقْوَى فِيهَا الدَّرْكُ لِكُلِّ خَيْرٍ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا بَيْنِی وَبَيْنَكَ مِنَ الْقَرَابَةِ وَلِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَقَدْ يَجِبُ عَلَيْكَ لِقَرَابَتِی أَنْ تَقْضِی حَاجَتِی قَالَ فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ لَا يَجِبُ يَا ابْنَ عُمَرَ انُ تَقْضِى حَاجَةَ ابْنِ عَمِّكَ وَإِن كَانَ مُسْرِفا عَلَى نَفْسِهِ فَإِنَّهُ مَقْتُولُ لَا مَحَالَةٌ فَقَالَ عُمر بن سعد قل ما اجبْتَ يا ابن عقيل فَقَالَ مُسلم رحمه الله حاجتي إِلَيْكَ أَنْ تَشْتَرِي فَرَسِي وَ سَلَاحِي مِنْ ھٰؤلاءِ الْقَوْمِ فَتَبِيعَهُ وَتَقْضِيَ عَنِّي سَبْعَةَ مِأَتِهِ دِرْهَمٍ استدنتها فِي مِصْرِكُمْ وَأَنْ تَسْتَرْهِبَ جُثني إِذَا قَتَلَنِي هَذَا وَتَوَارِينِي فِي التَّرَابِ وَأَنْ تَكْتُبَ إلَى الْحُسَيْنِ بن عَلِيِّ أَنْ لَا يَقْدِمَ فَيَنْزِلُ بِهِ ما نَزَلَ۔

(كتاب الفتوح تصنيف احمد بن عاصم الكو في صفحہ 99۔100جلد پنجم مطبوعه حیدرآباد دکن)

ترجمہ: اور اگر تو میرے قتل کا پکا ارادہ کر ہی چکا ہے اور تجھے یقیناً ایسا کرنا ہی ہے تو کوئی قریشی میرے پاس بھیج دے تاکہ میں اسے جو چاہتا ہوں وہ وصیت کر دوں پس عمر ابنِ سعد بن ابی وقاص جلدی سے اٹھا اور کہنے لگے اے ابنِ عقیل جو وصیت کرنا چاہتے ہو مجھے کر دو مسلم نے فرمایا میں تجھے اپنے اور تیرے لیے اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں تقویٰ میں ہر بھلائی کے حصول کی طاقت ہے تو بخوبی جانتا ہے کہ میرے اور تیرے درمیان کیا رشتہ ہے مجھے تم سے ایک اور کام ہے اور رشتہ داری کی بنا پر تجھ پہ لازم ہے کہ میری ضرورت کو پورا کرے ابنِ زیاد نے کہا اے ابنِ عمر تجھ پر اپنے چچا زاد بھائی کی حاجت برآوری کوئی واجب نہیں ہے اگر اس نے اپنے اوپر زیادتی کی تو بھی اسے ابھی شہید کیا جاتا ہے عمر بن سعد نے کہا اے ابنِ عقیل جو چاہتے ہو وہ کہو پس مسلم ابنِ عقیل نے فرمایا تیری طرف میری حاجت و ضرورت یہ ہے کہ تو میرا گھوڑا اور میرے ہتھیار اس قوم سے لے کر بیچ ڈال اور تمہارے شہر میں سے میں نے جو سات سو درہم قرض لیے وہ ان پیسوں سے ادا کر دینا اور دوسری بات یہ کہ جب مجھے شہید کر ڈالیں تو میرا جسم ان سے لے لینا اور مٹی میں چھپا دینا اور تیسری وصیت یہ کہ حسین کی طرف رقعہ لکھ دینا کہ وہ نہ آئیں کہ ان پر وه آفت نہ آن پڑے جو مجھ پر آن پڑی ہے۔ 

الكامل في التاريخ: قَالَ فَدَعْنِي أُوصِی إِلى بَعْضِ قَوْمِی قَالَ افْعَلُ فَقَالَ لِعُمر بن سعد إِنَّ بَيْنِی وَبَيْنَكَ قَرَابَةٌ وَلِی إِلَيْكَ حَاجَةٌ وَهِی سِرٌ فَلَمُ يُمْكِنُهُ مِنْ ذِكرِهَا فَقَالَ لَهُ ابن زياد لَا تَمْنَعُ مِنْ حَاجَةِ ابْن عَمِكَ فَقَامَ مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ عَلَيَّ بِالْكُوفَةِ دَين اسْتَدَنْتُهَا مُنْذُ قَدِمُتُ الْكُوفَةَ سَبْعَ مِأتَهُ دِرْهَم فَاقضِهَا عَنِّي وَأَنظُرُ حُثتِي فاسْتَوهُبهَا فوَارِهَا وَابْعَثُ إِلَى الْحُسَيْنِ مَن يَرُدُّہ۔

 (1۔الكامل في التاريخ جلد چہارم صفحہ 34 ذکر الجز عن راسته الكوفين مطبوعة بيروت)

(2 مقتل سیدنا حسينؓ مصنفه ابو المؤيد خوارزمی صفحہ 212 في مقتل سیدنا مسلم بن عقیلؓ مطبوعه ایران قم)

(3 تاریخ طبری جلد 1 صفحہ 212 سن 60 هجری مطبوعه بيروت)

 ترجمہ: مسلم نے ابنِ زیاد کو کہا کہ مجھے اپنی قوم کے کسی آدمی سے وصیت کرنے کی اجازت دے اس نے کہا کیجیے آپ نے عمر بن سعد کو فرمایا میرے اور تیرے درمیان رشتہ داری ہے اور مجھے تجھ سے ایک کام ہے اور پوشیدہ بتانے والا ہے لیکن وہ کام نہ بتا سکے اس پر ابن زیاد نے کہا اپنے چچا زاد بھائی کی ضرورت پوری کرو وہ ان کے ساتھ ہو لیا تو مسلم نے تنہائی میں فرمایا میں جب سے کوفہ آیا ہوں تو میں نے یہاں کے لوگوں سے سات سو درہم قرض لیے وہ ادا کر دینا اور میرے شہید کیے جانے کے بعد میرا جسم مٹی میں دبا دینا اور کسی کو بھیج کر حسین کو واپس لوٹا دینا۔ 

صفحہ 5 از 8