خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 6 از 8

ناسخ التواريخ: فَقَالَ لَهُ مُسْلِمٌ إِنْ قَتَلْتَنِي فَلَقَدْ قَتَلَ مَنْ هُوَ شَرَّ مِنكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي قَالَ يَا عُمَرُ إِنَّ بَيْنِی وَبَيْنَكَ قَرَابَةٌ وَلِی إِلَيْكَ حَاجَةٌ وَقَدْ يُحِبُّ عَلَيْكَ ونَجُح حَاجَتِی وَهِيَ سِر فَقَالَ أَوَّلُ وَصِيَّتی شَهَادَةٌ أَن لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ الثَّانِيهِ تَبِيعُونَ دِرْعِی هَذَا وَ تُوْفُونَ عَنِى الْف دِرھم اقْتَرَضتُهَا فِي بِلادكُم هذا الثالثة أَنْ تَكْتُبُوا إِلى سَيدِي الْحُسَيْنِ أَنْ یرْجِعَ عَنْكُمْ فَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّهُ خَرَجَ بِنِسَائِهِ وَأَوْلَادِه فَيُصِيبُه مَا أَصَابَنِي۔

(ناسخ التواريخ جلد 2 صفحہ 98 سیدنس مسلمؓ در مجلس ابنِ زیاد مطبوعہ تہران طبع جدید)

ترجمہ: مسلم نے ابنِ زیاد کو کہا اگر تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے تو تحقیق تجھ سے برے نے مجھ سے بہتر کو قتل کیا ہوا ہے پھر کہا اے عمر میرے اور تیرے درمیان قرابت ہے اور مجھے تجھ سے ایک ضروری کام ہے وہ پوشیدہ ہے اور تجھے وہ لازماً کرنا ہے فرمایا میری پہلی وصیت یہ ہے کہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحقیقی نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد اللہ کے خاص بندے اور اس کے رسول ہیں اور بیشک علی اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں۔ وصیت یہ ہے کہ تم میری یہ زرہ بیچ کر میرے ایک ہزار درہم ادا کر دینا جو میں نے تمہارے اس شہر کے لوگوں سے لیے ہیں تیسری وصیت یہ ہے کہ حسین کی طرف کسی کو بھیج دینا کہ وہ واپس تشریف لے جائیں کیونکہ مجھے پختہ خبر ملی ہے کہ وہ اپنے بال بچوں سیمت آ رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں بھی وہی کچھ تکلیف پہنچے جو مجھے پہنچنے والی ہے۔ 

توضیح: کتاب الفتوح کی مذکورہ عبارت میں جو یہ منقول ہے کہ مسلم نے ابنِ زیاد کو کہا میرا گھوڑا اور میرا سامان بیچ کر سات سو درہم کوفیوں کا قرض ادا کر دینا اس کا مطلب یہ ہے کہ میری ان اشیاء کی ان لوگوں سے قیمت لگوا کر خود خرید لینا اور ان دراہم سے میرا قرضہ ادا کر دینا اصل میں خریدنے والے عمر بن معبد اور بیچنے والے  مسلم ہیں گویا مسلم وصیت فرما رہے ہیں اور ناسخ التواریخ میں مسلم نے جو یہ فرمایا کہ تجھ سے برے نے مجھ سے اچھے کو شہید کیا ہے اس سے مراد علی ہیں اور یہ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ شریر لوگوں کا یہ وطیرہ چلا آرہا ہے کہ وہ اچھے لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اور قتل بھی کر دیتے ہیں لہٰذا تجھ سے یہ بات کوئی بعید نہیں کیونکہ تو بھی شریروں میں سے ایک شریر ہے۔ 

خلاصه کلام: شیعہ سنی دونوں طرف کی کتب تاریخ میں سیدنا مسلمؓ کی تین عدد وصیات ملتی ہیں۔ 1: قرضہ ادا کرنا 2: شہادت کے بعد میرا جسم لے کر خاک میں دبا کر دفن دینا 3: کسی کو بھیج کر سیدنا حسینؓ کو واپس جانے کا پیغام پہنچانا ان تین عدد وصیتوں کے علاوہ چوتھی اور کوئی وصیت نظر نہیں آتی اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہر آدمی کو اپنی اولاد عزیز تر ہوتی ہے خود شیعہ ذاکرین و سنی واعظین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سیدنا مسلمؓ کو اپنے بچوں سے انتہائی پیار تھا اسی وجہ سے وہ انہیں بھی کوفہ ساتھ لے آئے تو کیا بچوں سے پیار کا یہی تقاضا ہے کہ جب آخری لمحات میں عمر بن سعد کو اور وصیتیں فرما رہے ہیں بچوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں فرمایا؟ مگر نوحہ خواں مولوی اور ذاکر یوں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسلمؓ نے آخری وقت قاضی شریح کو وصیت کی کہ میری شہادت کے بعد میرے بچوں کو مدینہ جانے والے قافلہ کے ساتھ کر دینا وغیرہ وغیرہ ان تمام من گھڑت باتوں کا کسی معتبر تاریخ میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا لہٰذا ثابت ہوا کہ سیدنا مسلمؓ کا اپنے ساتھ اپنے بچوں کو کوفہ لانا اور پھر یہاں ان بچوں کے بارے میں سارے قصے کہانیاں سنانا بالکل بےاصل ہیں انہیں نوحہ خوانوں نے خود بنایا اور اپنا کاروبار چمکانے کی خاطر درد ناک لہجہ میں بیان کرتے ہیں۔

سیدنا مسلمؓ کے بچوں کے واقعہ پر مرزا تقی ناسخ التواریخ کا تبصرہ:
ناسخ التواريخ: مکشوف بادکه شہادت محمد و ابراہیم پر ہائے مسلم را کمتر در کتاب پیشینیاں دیده ام الا آں کہ عاصم کوفی می گوید گاہے کہ ابنِ زیاد ہانی را محبوس داشت چنانکه مرقوم شد و مسلم از سرائے ہانی بیرون شتافت و شیعان خودرا فراهم کرو تابر دارالاماره جمله افکند پسر ہائے خود رانجانه شریح قاضی فرستاد تادر حمایت اول سلامت مانند دیگر نه نام ایشان یادمی کندونه از شہادت ایشان می گویند ودر جلد ہفدهم اوالم مسطوراست که بعد از قتل حسین چون اہلِ بیت را اسیر کردند پسریائے صغیر مسلمؓ درمیان اسرای بودند ابنِ زیاد ایشان رابگرفت و محبوس نمود شرح شہادت ایشان در کتاب روضتہ الشہداء مسطوراست و اگر صاحب حبیب السیر سخن باختصار میرا ندهم سند بروضة الشہداء میرساند ومن بنده ایں قصه را از روضة الشہداء منتخب میدارم وبرمی نگارم زیر آن که برد سیاقت مؤرخان و محدثان سخن میراند و مانند نوحه گران و سوگواراں مرثیه میخوانند و کلمات فضول که مر ذودعقول است بکارمی بندند اگر چندایں گونه تلفیق و تخمیق از برائے نوحہ گراں زیبا است تابر مردماں بخواند وگریه بستاند لیکن مؤرخ و محدث نتواند از آنچه دست بدست رسیده نکیتے بفزائد یا کلمات برباید الا آنکه ای۔ تواند کرد که سخن نه رسائی را ببلاغت بیان کند و کلام نا پسندیدی را بفصاحت ادا فرمائید۔

(ناسخ التواریخ: جلد دوم صفحہ 110 ذکر شہادت محمد و ابراہیم پسر ہائے مسلم بن عقیل مطبوعہ تہران) 

صفحہ 6 از 8