خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 7 از 8

ترجمہ: واضح ہوا کہ مسلم کے صاحبزادے محمد و ابراہیم کی شہادت کا ذکر میں نے پہلے مصنفین کی کتابوں میں بہت کم پایا مگر عاصم کوفی اسے بیان کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ ابنِ زیاد نے ہانی کو قید میں ڈالا جیسا کہ لکھا جاچکا ہے تو مسلم اس کی سرائے سے باہر نکل گئے اور اپنے شیعوں کو دارالامارہ کے قریب جمع کرنا شروع کر دیا اپنے صاحبزادوں کو قاضی شریح کے گھر بھیج دیا تاکہ ان کی حمایت میں سلامتی سے رہیں دوسرے مؤرخین نہ تو ان صاحبزادوں کا نام ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی شہادت کا واقعہ لکھتے ہیں والم نامی کتاب کی سترہویں جلد میں لکھا ہوا ہے کہ حسین کی شہادت کے بعد جب اہلِ بیت کو قیدی بناکر لایا گیا تو مسلم کے چھوٹے صاحبزادے ان کے ساتھ قیدی تھے ابنِ زیاد نے انہیں لے لیا اور قید خانے میں ڈال دیا ان کی شہادت کی تفصیل روضة الشہدا میں موجود ہے اگر صاحب حبیب السیر ان کے بارے میں کچھ لکھتا ہے تو وہ بھی روضة الشہداء کی سند سے ہی لکھتا ہے اور میں نے بھی اس قصہ کو روضة الشہداء سے ہی نقل کیا ہے کیونکہ صاحب حبیب السیر ایسی باتیں لکھ دیتا ہے جو مؤرخین و محدثین کے ہاں قابلِ اعتراض ہوتی ہیں اور وہ نوحہ گروں اور سوگواروں کی طرح مرثیہ لکھتا ہے اور ایسے فضول کلام لکھتا ہے جنہیں عقل قطعاً قبول نہیں کرتی اگرچہ نوحہ گروں اور سوگواروں کے لیے جھوٹ موٹ کی باتیں اور گپ شپ مفید ہوتی ہیں تاکہ وہ ان باتوں سے لوگوں کو خوب رولائیں اور آہ و بکا کا ماحول بنائیں لیکن ایک مؤرخ و محدث ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی روایت و حکایت سے خواہ مخواہ ادھر ادھر کے نکتے نکالے یا ان میں بعض باتوں کا اضافہ کر دے ہاں اگر وہ بلاغت و فصاحت کے اظہار کے کسی ناپسندیدہ بات کو لکھ دیتے ہیں تو یہ اور بات ہے۔ 

مذکورہ عبارات کا خلاصہ:

 1۔ سیدنا مسلمؓ نے آخری وقت جو وصیتیں فرمائیں ن میں کیسی کے اندر اپنے بچوں کے بارے میں ایک لفظ تک بھی نہیں ملتا۔

2۔ سیدنا مسلمؓ کے صاحبزادوں محمد و ابراہیم کی شہادت کا واقعہ معتبر و متداول کتب تاریخ میں نہیں ملتا۔

3۔ پہلے مؤرخین میں سے صرف عاصم کوفی نے کچھ ان کا تذکرہ کیا وہ بھی نام لیے بغیر لیکن ان کی شہادت کی کوئی بات ذکر نہیں کی۔ 

4۔ شہادت سیدنا حسینؓ کے بعد گرفتار شدہ اہلِ بیت میں سیدنا مسلمؓ کے صاحبزادے بھی تھے جنہیں ابنِ زیاد نے الگ کر لیا۔ 

5۔ روضتہ الشہداء تصنیف ملا حسین کاشفی اور اس کی اتباع میں صاحب حبیب امیری ان دونوں صاحبزادوں کی شہادت کا واقعہ لکھا۔

 6۔ صاحب حبیب السیر کا طریقہ بیان نوحہ خوانی اور سوگواروں کا ہے جیسے محدث اور مؤرخ کے علاؤہ صاحب عقل سلیم بھی درست نہیں سمجھتے۔ 

گویا اصل کتاب اس سلسلہ میں روضتہ الشہداء ہوئی کہ جس نے سب سے پہلے سیدنا مسلمؓ کے صاحبزادوں کا واقعہ لکھا لیکن اس کا انداز تحریر نوحہ خوانوں اور سوگواروں کا نہ تھا یہ طریقہ اس واقعہ میں صاحب حبیب السیر نے اپنایا روضتہ الشہداء کیسی کتاب ہے کن کی ہے اور اس کے مندرجات کس مرتبہ کے ہیں؟ اس کا کچھ ذکر ہم نے روضتہ الشہداء کے تحت کر دیا ہے یہاں صرف ایک شیعہ مصنف کا حوالہ ذکر کر دینا کافی ہے جسے شیعہ لوگ ثقة المؤمنین ناصر الملة والدین وغیرہ القاب سے یاد کرتے ہیں اصل نام شیخ عباس قمی ہے اور متأخرین میں سے ہے وہ اپنی تصنیف منتہی الامال جلد اول صفحہ 551 پر در مذمت غنا و عدمِ جواز غنا کی طب میں لکھتا ہے۔

اہلِ علم اور اہلِ حدیث کے نزدیک ایسے بے اصل واقعات مانند عروسی قاسم کربلا که در کتاب روضته الشهداء تالیف فاضل کاشفی نقل کردہ شدہ یعنی میدانِ کربلا میں سیدنا قاسٹ کی شادی جیسے بےاصل واقعات ذکر کرنا فاضل کاشفی صاحب روضتہ الشہداء کا من پسند طریقہ ہے شیخ عباس قمی دراصل اس موضوع پر اظہار کر رہا ہے کہ واقعاتِ کربلا میں جھوٹ کی آمیزش اور من گھڑت روایات کس طرح داخل ہوئیں تو چلتے چلتے ان کتابوں میں سے "روضتہ الشہداء" کو لیا کہ یہ بھی من گھڑت واقعات سے بھری پڑی ہے بلکہ اس کی روایات تقریباً ستر فیصد باطل اور جھوٹ پر مبنی ہیں جب اس پہلی کتاب کا یہ حال ہے کر جس نے سیدنا مسلمؓ کے بیٹوں کی شہادت ذکر کی تو پھر اسے حبیب السیر والے نے اور رتک بھر کر لکھا اس سے ہی آگے تمام غیرمحتاط لوگوں نے اس واقعہ کو لکھنا اور بیان کرنا شروع کیا ورنہ اس کی اصل کوئی نہیں۔ 

سوال: آپ نے سیدنا مسلمؓ کے صاحبزادوں کا آپؓ کے ساتھ کوفہ جانے کا انکار کیا ہے حالانکہ اہلِ سنت کے ایک مشہور عالم صدرالافاضل علامہ مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادیؒ نے ان صاحبزادوں کا اپنے باپ کے ساتھ کوفہ جانا اور وہاں جامِ شہادت نوش فرمانا ذکر کیا ہے اس لیے انکار درست نہیں صدرالافاضل مرحوم کا حوالہ ملاحظہ ہو۔

سوانح کربلا: چنانچہ یہ لوگ سیدنا مسلمؓ کو بمع ان کے دونوں صاحبزادوں کے عبد اللہ ابنِ زیاد کے پاس لےکر روانہ ہوئے اس بدبخت نے پہلے سے ہی دروازہ کے دونوں پہلوؤں سے اندر کی جانب تیغ زن چھپا کر کھڑے کر رکھے تھے اور حکم دے رکھا تھا سیدنا مسلمؓ دروازہ میں داخل ہوں ایک دم دونوں طرف سے ان پر وار کیا جائے سیدنا مسلمؓ کو ان کی کیا خبر تھی؟ اور آپ اس مکاری اور کتیاری سے کیا واقعت ہے؟ آپ آیت کریمہ"ربنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق الخ" پڑھتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے داخل ہونا تھا کہ اشقیا نے دونوں طرف سے تلواروں کے وار کیے اور بنی ہاشم کا مظلوم مسافر اعدائے دین کی بےرحمی سے شہید ہوا انا لله وانا اليه راجعون دونوں صاحبزادے آپ کے ساتھ تھے انہوں نے اس بےکسی کی حالت میں اپنے شفیق والد کا سر ان کے مبارک تن سے جدا ہوتے دیکھا تھا چھوٹے چھوٹے بچوں کے دل غم سے پھٹ گئے اور اس صدمہ میں وہ بید کی طرح لرزنے اور کانپنے لگے ایک بھائی دوسرے بھائی کو دیکھتا تھا اور ان کی سرمگیں آنکھوں میں خون اشک جاری تھے لیکن اس معرکہ ستم میں کوئی ان نادانوں پر رحم کرنے والا نہ تھا ستم گروں نے ان نونہالوں کو بھی تیغ ستم سے شہید کر دیا۔

(سوانحِ کربلا: صفحہ 102 مطبوعہ فاروق آباد شیخوپور)

صفحہ 7 از 8