خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی - ردِ…

خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی

  محمد علی

صفحہ 8 از 8

جواب: صدر الافاضل واقعی سنیت کے عظیم لُسن تھے انہوں نے اپنی دینی خدمات سے اہلِ سنت سے مسلک حقہ کو جلا بخشی اس کا کوئی منکر نہیں ہے آپ تفسیر قرآن اور علوم حدیث و فقہ وغیرہ علوم شرعیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے جس پر ان کی کتب و حواشی شاہد ہیں لیکن تاریخ ان کا موضوع نہ تھا لہٰذا اس موضوع پر سوانحِ کربلا کے نام سے واقعاتِ کربلا آپ نے لکھ دیے اور ان میں و تحقیق و تدقیق نہ فرمائی جو دیگر علوم میں آپ کا طرۀ امتیاز ہے اگر کوئی شخص سوالیہ انداز میں پوچھتا کہ سیدنا مسلمؓ کے بچوں کا اصل واقعہ کیا ہے؟ وہ اپنے والد گرامی کے ساتھ کوفہ گئے تھے یا نہیں؟ قاضی شریح کو سیدنا مسلمؓ نے ان کے بارے میں کوئی وصیت فرمائی؟ ان کی شہادت کی حقیقت کیا ہے؟ تو پھر آپ اس کی تحقیق فرما کر اس کا جواب لکھتے لیکن آپ کا سوانحِ کربلا میں بعض واقعات چلتی پھرتی کتابوں سے بغیر تحقیق درج فرما دینا کوئی عقلاً بعید نہیں ہے جیساکہ کتب صحاح میں بھی کچھ روایات بے اصل موجود ہیں پھر ہم ان واعظین و ذاکرین سے پوچھتے ہیں کہ صدرالافاضل نے جن الفاظ میں ان کا واقعہ شہادت بیان کیا اس میں رلانے اور پیٹنے پٹانے کا انداز کہاں ہے؟ آپ کی تحریر سے ان نوحہ خوانوں اور رولانے والوں کے لیے صدر الافاصل کی تحریر سے کچھ نہیں ملتا میں یہ چاہتا ہوں کہ واقعہ کربلا پر لکھی گئی چند کتب کا صرف نام لکھ دوں ان کی عبارات واقعات ذکر کرنے سے بہت طوالت ہوجائے گی ان کا نام اس لیے ضروری لکھا جاتا ہے کیونکہ یہ اہلِ سنت علماء کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے خود ہمارے لیے نقصان دہ اور شیعوں کے بعض عقائد کی ترجمانی کرتی ہیں اس لیے نامعتبر کتابوں کی نشاندہی ضروری ہونی چاہیے تاکہ آئندہ نسل کے لیے یہ بات کارآمد ہو اور ان کا کوئی حوالہ پیش بھی کرے تو نامعتبر ہونے کی وجہ سے ان کے جوابات کے لیے مغز خوری نہ کرنی پڑے۔ 

فاعتبروا يا اولى الابصار:


صفحہ 8 از 8