Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو فوجی نفسیات کا علم ہونا

  علی محمد الصلابی

حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے بے نظیر جنگی کارناموں اور قائدانہ خوبیوں میں جہاں بہت ساری باتیں تھیں وہیں جنگ سے متعلق ایک اہم موضوع پر گہری بصیرت حاصل تھی، وہ یہ کہ آپ کو فوجی نفسیات کا علم تھا اور اس فن کے ماہر تھے کہ مجاہدین اسلام اور ہتھیار بند ساتھیوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے۔ فوجی کارروائی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں اور غازیان اسلام میں باہمی الفت و محبت کی روح دوڑ رہی ہے اور آپ ان کے لیے نہایت شفقت و مہربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اخلاص و وفا کا یہ منظر ایک دوسرے کے تئیں دونوں کی گفتگو میں صاف نظر آتا ہے۔ ہم اس کا مشاہدہ اس وقت کر سکتے ہیں جب آپ اپنے سیماب صفت گھوڑے پر سوار ہو کر ہر قبیلے کے علم کے پاس جاتے ہیں، انہیں جوش دلاتے ہیں، رہنمائیاں کرتے ہیں، ان کے جذبات و احساسات میں عزم و حوصلہ کی روح پھونکتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں: ’’اللہ کی قسم! آج کے دن مجھے وہی چیز خوش کر سکتی ہے جو تم سب کو خوش کر سکتی ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 287، الطریق الی المدائن: صفحہ 446) آپؓ کے سپاہی بھی جذبہ جہاد سے سرشار اسی طرح جواب دیتے ہیں۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ ان کی محبت و تعلق خاطر کا یہ عالم تھا کہ کوئی سپاہی کسی قول و فعل میں آپ پر عیب نہیں لگاتا تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 287) اور جب دیکھا کہ عجم کی افواج حملہ کر چکی ہیں اور ان کے فلک شگاف نعرے فضا میں گونج رہے ہیں تو فوراً بھانپ لیا کہ گھمسان کی جنگ میں اس کا کتنا اثر پڑنے والا ہے۔ خاص طور پر جب کہ معرکہ جسر میں ہزیمت کی یاد ابھی ذہنوں میں تازہ تھی۔ آپ نے آہستہ سے اطمینان بخش اور دلوں سے خوف و ہراس کو دور کر دینے والا ایسا جملہ کہا جو دل موہ لینے کے قابل ہے، آپ نے کہا تھا: ’’جو شور و ہنگامہ تم سن رہے ہو وہ بزدلانہ ہے، تم بلند آواز سے باتیں نہ کرو بلکہ سرگوشی کرتے ہوئے تدبیریں کرو۔‘‘

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 446)

اسی طرح جب ان کے بھائی مسعود زخم خوردہ ہو کر زمین پر گر پڑے تو آپ نے جو بات کہی وہ تاریخ کے اوراق میں آب زر اور نورانی حروف سے تحریر کیے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے کہا تھا: ’’اے مسلمانو! میرے بھائی کا قتل تمہیں ہراساں نہ کرے، تمہارے بہترین جانبازوں کی قربانیاں اسی طرح ہوتی ہیں۔‘‘

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 446) حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ اپنے بھائی مسعود اور دیگر بعض شہداء کی نماز جنازہ پڑھانے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’ان لوگوں کے بارے میں ایک بات سوچ کر میرا غم ہلکا ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ معرکہ بویب میں حاضر ہوئے، اس میں پیش پیش رہے، صبر و ضبط سے کام لیا، آہ و فغاں نہیں کیا اور نہ بزدلی دکھائی حالانکہ جام شہادت نوش کرنا گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 291) حضرت مثنیٰؓ اگر ایک طرف اپنی فوج کے لیے محب و مہربان اور ان کے احوال کی خبر گیری کرنے والے تھے تو دوسری طرف جنگی احوال و ظروف میں بصیرت مند اور تجربہ کار شخصیت کے مالک تھے۔ آج جدید فوجی اصطلاح میں جسے ضبط و ربط کہا جاتا ہے اس کو اختیار کیا۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 447) چنانچہ جب آپؓ نے اپنی فوج کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف بندی توڑ کر آگے بڑھ کر نکلنا چاہتا ہے تو کہا: یہ کیوں ایسا کرتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ معرکہ جسر میں یہ بھاگ گئے تھے، آج وہ اللہ کے راستہ میں سرفروشی کے لیے بے تاب ہیں۔ آپ نے نیزہ کی نوک چبھوتے ہوئے ان سے کہا: حماقت نہ کرو، اپنی جگہ پر کھڑے رہو، جب حریف سامنے آ جائے تو اسے کسی اور کے لیے نہ چھوڑنا۔ انہوں نے کہا: ہاں، میرے لیے یہی مناسب ہے اور پھر صف میں جا کر کھڑے ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 283)

حضرت مثنیٰؓ کے دل میں اپنے ساتھیوں کے لیے محبت و رحمت کے جو جذبات موجزن تھے بالکل اسی طرح کے جذبات ان کے لیے ان کے ساتھیوں کے دل میں بھی موجود تھے۔ چنانچہ آپؓ کے مجاہدین نے دوران معرکہ جو اشعار پڑھے تھے ان میں یہ چیز ہمیں بالکل واضح نظر آتی ہے، اعور الشمنی یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

ہاجت لأعور دار الحی احزانا

واستبدلت بعد عبدالقیس حفانا

’’اعور کے لیے قبیلے والے غم و حزن سے بھر گئے اور عبد قیس کے بعد حفان کو امیر بنایا۔‘‘

وقد أرانا بہا والشمل مجتمع

إذ با لنخیلۃ قتلی جند مہرانا

’’اس نے ہمیں اسے دکھایا حالانکہ فوج اکٹھی کھڑی تھی اور مہران کے لشکر کے مقتولین کھجور کے باغات میں گر رہے تھے۔‘‘

أزمان سار المثنی بالخیول لہم

فقتل الزحف من فرس وجیلانا

’’وہ بیمار دل و کمزور لوگ ہیں، مثنیٰ نے انہیں اپنے گھوڑوں سے روندا اور فارس و جبلان کی حملہ آور فوج کو بری طرح قتل کیا۔‘‘

سمالمہران والجیش الذی معہ

حتی أبادہم مثنی ووحدانا

’’مہران اور اس کے ساتھ لڑنے والی فوج پر چڑھ دوڑے یہاں تک کہ انہیں دو دو اور ایک ایک کر کے ختم کیا۔‘‘

ما إن رأینا أمیر بالعراق مضی

مثل المثنی الذی من آل شیبانا

’’عراق کی تاریخ میں ہم نے آل شیبان کے مثنیٰ جیسا کوئی امیر نہیں دیکھا۔‘‘

إن المثنی الأمیر القرم لا کذب

فی الحرب اشجع من لیث بحفانا

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 440، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 293) ’’یقیناً مثنیٰ عظیم لیڈر ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، حفان کے معرکہ میں وہ شیر سے بھی زیادہ بہادر نظر آئے۔‘‘

ان اشعار میں شاعر خالد بن ولیدؓ اور ابوعبید ثقفیؒ پر مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو صراحتاً فوقیت دے رہا ہے، اس کا تعلق عبد قیس سے ہے، بنو شیبان اور بکر بن وائل کا فرد نہیں ہے کہ کہا جائے وہ اپنی قوم اور قبیلے کے لیے متعصب ہے۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 447) بے شک حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ فوجی نفسیات کے علم جدید کے کسی موجد سے صدیوں پیشتر اس علم کے ایک ماہر قائد گزر چکے ہیں۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 448)