شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کی روشنی…

شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کی روشنی میں، اور گستاخانِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اتحاد کرنے کا حکم


صفحہ 2 از 4

 مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ۖسِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ ۛ ۖۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ ۛۚ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الفتح: آیت نمبر، 29)

ترجمہ: محمد رسول اللہ کا اور جو لوگ اس کے ساتھ زور آور ہیں کافروں پر، نرم دل ہیں آپس میں تو دیکھے ان کو رکوع میں سجدہ میں ڈھونڈتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی خوشی، نشانی ان کی ان کے منہ پر ہے سجدے کے اثر سے یہ شان ہے ان کی تورات میں اور مثال ان کی انجیل میں جیسے کھیتی نے نکالا اپنا پٹھا پھر اس کی کمر مظبوط کی پھر موٹا ہوا پھر کھڑا ہوگیا اپنی نال پر خوش لگتا ہے کھیتی والوں کو تاکہ جلائے ان سے جی کافروں کا وعدہ کیا ہے اللہ نے ان سے جو یقین لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام معافی کا اور بڑے ثواب کا۔ ؏

امام قرطبیؒ اور عامہ مفسرین کہتے ہیں کہ والذین معہ عام ہے، اس میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین داخل ہیں، اس آیت کریمہ میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت، ان کی پاک باطنی اور مدح و ثنا خود مالک کائنات نے فرمائی ۔

حضرت ابو عروه زبیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن امام مالکؒ کی مجلس میں ایک شخص کے متعلق یہ ذکر آیا کہ وہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہتا ہے۔ امام مالکؒ نے یہ آیت لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ تک تلاوت کی اور پھر فرمایا کہ جس شخص کے دل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کے متعلق غیظ ہو وہ اس آیت کی زد میں ہے، یعنی اس کا ایمان خطرہ میں ہے، کیونکہ آیت ہے میں کسی صحابیؓ سے غیظ، کفار کی علامت قرار دی گئی ہے۔

(5) لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌ۚ ۞ (سورۃ الحشر: آیت نمبر، 8)

ترجمہ: واسطے ان مفلسوں وطن چھوڑنے والوں کے جو نکالے ہوئے آئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے ڈھونڈتے آئے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی اور مدد کرنے کو اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ لوگ وہی ہیں سچے

(6) وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌ۚ ۞ (سورۃ الحشر: آیت نمبر، 9)

ترجمہ: اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے سے وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو وطن چھوڑ کر آئے ان کے پاس اور نہیں پاتے اپنے دل میں تنگی اس چیز سے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور مقدم رکھتے ہیں ان کو اپنی جان سے اور اگرچہ ہو اپنے اوپر فاقہ اور جو بچایا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں مراد پانے والے

 (7) وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ الحشر: آیت نمبر، 10)

ترجمہ: اور واسطے ان لوگوں کے جو آئے ان کے بعد کہتے ہوئے اے رب بخش ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے داخل ہوئے ایمان میں اور نہ رکھ ہمارے دلوں میں بیر ایمان والوں کا اے رب تو ہی ہے نرمی والا مہربان۔ ؏

ان آیات میں اللّٰه تعالیٰ جل شانہ نے عہد رسالتﷺ کے تمام موجود اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کو تین کے طبقوں میں تقسیم کر کے ہر طبقہ کا الگ الگ ذکر کیا ہے۔

پہلا مہاجرین کا طبقہ ہے جنہوں نے محض الله تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے لئے ہجرت کی کسی دنیوی فرض کے لئے ان کی ہجرت نہیں تھی جیسا ک خود الله تعالیٰ جل شانہ ان کی شان میں فرما رہے ہی اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۔ یعنی یہ حضرات اپنے قول ایمان اور فعل ہجرت میں سچے ہیں۔

دوسرا طبقہ حضرات انصار کا ہے جن کے صفات بیان کرتے ہوئے الله تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ یہ مہاجرین سے محبت رکھتے ہیں اور ان پر حسد نہیں کرتے ہیں۔ ان صفات کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

تیسرا طبقہ ان مؤمنین کا ہے جو مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک آنے والا ہے، اس طبقے کے بارے میں فرمایا کہ یہ مہاجرین وانصار کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس بات کی بھی دعا کرتے ہیں کہ اے الله تعالیٰ ہمارے دلوں میں ان کی طرف سے کینہ و عداوت نہ ڈالئے، یقیناً آپ مہربان اور رحمت کرنے والے ہیں، لہٰذا اپنے فضل و رحمت سے ہماری دعا قبول کر لیجئے۔

ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ فلاح پانے والے وہی لوگ ہیں جو حضرات مہاجرین سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی شان میں طعن و تشنیع نہیں کرتے، کیونکہ طعن و تشنیع تقاضائے محبت کے خلاف ہے، جس سے معلوم ہوا کہ خلفائے اربعہ جو مہاجرین اولین میں یقینی طور پر شامل ہیں کی محبت فلاح کی ضامن اور ان سے بغض و عناد کسر ان کا سبب ہے۔

صفحہ 2 از 4