مجاہدین کی عورتوں کا قابل تحسین مؤقف
علی محمد الصلابیاس معرکہ میں جب مسلمانوں کے امراء و قائدین نے مال غنیمت میں لیے ہوئے غلہ جات کو مجاہدین کی عورتوں کے پاس بھیجا اور انہوں نے قافلہ آتے دیکھ کر جو مؤقف اختیار کیا وہ حد درجہ قابل تحسین ہے۔ اس قافلہ کی قیادت عرب نژاد نصرانی قائد عمرو بن عبد المسیحبن بقیلہ کر رہا تھا، عورتوں نے جب اس قافلہ کو دیکھا تو سمجھا کہ شاید یہ لوگ ہم پر چھاپہ مار حملہ کرنے والے ہیں، لہٰذا انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو بلایا، بچوں کو پیچھے کیا اور پتھر اور لاٹھیاں لے کر مقابلے کے لیے آگے آ گئیں۔ عمرو بن عبد المسیح نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اسلامی لشکر کے مجاہدین کی عورتوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے، انہیں فتح کی خوش خبری دے دو۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 352، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 292) خواتین اسلام کا یہ مؤقف ان کی بہترین اسلامی تربیت اور کامل مسلم شخصیت ہونے کی دلیل ہے، وہ خواتین اس بات کی تربیت یافتہ تھیں کہ جب معاشرہ مردوں سے خالی ہو تو حالات سے کس طرح نمٹا جائے۔ بہرحال اس معرکہ کی شان دار فتح نے عراق میں دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ میں مسلمانوں کی قوت و دبدبہ کو بلند کر دیا اور پھر اس کے بعد حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے امرائے لشکر و قائدین فوج کو دیگر علاقوں میں روانہ کیا اور وہ لوگ اپنے دشمنوں کو زیر کرتے ہوئے ان کے شہروں کو فتح کرتے رہے اور ان علاقوں سے ملنے والے اموال غنیمت پر اپنی زندگی کی گزر بسر کرتے رہے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 352)