اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 1 از 7

اوراقِ غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

اس کتاب کے مصنف علامة الدهر محسن اہلِ سنت شیخ الحدیث و التفسير سید دیدار علی شاہ صاحب نور اللہ مرورۃ کے بڑے صاحبزادے ابو الحسنات سید محمد احمد صاحب ہیں ان کے چھوٹے بھائی فقیہ اعظم اور مفتی اعظم ابو البرکات محمد احمد صاحب ہیں اس گھرانے نے خطہ پنجاب میں خصوصاً اہلِ سنت کے عقائد و نظریات کی جڑیں مضبوط فرمائیں جید علماء پیدا کیے جن میں سے ایک کم ترین راقم الحروف محمد علی عفا اللہ عنہ بھی ہے اس گھرانے کی خدمات پر دنیائے سنیت ان کے احسانات نہیں بھول سکتی دونوں بھائی اکابر علماء اور افاضل میں شمار ہوئے تھے لیکن صاحبِ اوراقِ غم سید محمد احمد کا زیادہ رجحان سیاست اور خطابت کی طرف تھا اسی رحجان کی وجہ سے اوراقِ غم میں بہت سی باتیں واعظانہ رنگ میں لکھ دیں جو عقائد اہلِ سنت کو مجروح کرتی ہیں اسی لیے جب قبلہ استادی المکرم مفتی اعظم قبل ابوالبرکات نے اس کی عبارات کو پڑھا تو سخت مغموم ہوئے اور اس کے مندرجات کی مخالفت کی بہرحال قبلہ ابو الحسنات کے سنی ہونے میں تو کوئی شک نہیں اور ان کی خدمات سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں جہاد کشمیر اور دیگر مختلف مواقع پر ان کی خدمات اہلِ پاکستان کو ہمیشہ یاد رہیں گی میرا مقصد اس وقت صرف یہ ہے کہ "اوراقِ غم" چونکہ غیر محتاط اور واعظانہ طریقہ پر لکھی گئی اس کا اکثر حصہ"خاکِ کربلا" سے ملتا جلتا ہے بلکہ بعض مقامات پر تو اس سے بھی بڑھ کر رُولانا اور چیخنے چلانے کا رنگ بھر دیا گیا ہے اس کتاب کا صرف ایک واقعہ نقل کرتا ہوں جس سے آپ میری تائید کریں گے اور مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی شیعہ اپنے مذموم عقائد و اعمال کو ثابت کرنے کے لیے یہ نہ کہے کہ دیکھو تمہارے ایک بہت بڑے سنی عالم نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے"اوراقِ غم" کی عبارات ہم اہلِ سنت کے خلاف حجت نہیں ہیں۔

  اوراقِ غم:

 سیدنا قاسم ابنِ حسنؓ کی کربلا میں شادی کا افسانہ:

سیدنا حسنؓ نے وقت رحلت لکھ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ بیٹا (قاسم اسے بازو پر باندھے رہو جب تمہیں سخت سے سخت فکر اور اشد ترین مصیبت نظر آئے تو اسے کھول کر پڑھنا اللہ اس پریشانی کو دور کر دے گا (قاسم نے سوچا اس مصیبت اور پریشانی سے بڑھ کر اور کون سی پریشانی ہوگی جو آنے والی ہے تعویذ کھولا دیکھا کہ سیدنا حسنؓ کے قلم مبارک کا ایک حکم ہے جس کا مضمون یہ ہے بیٹا  قاسم جب تمہارے چچا کربلا میں شکار بلاؤ مصائب بنیں تو ان پر فدا ہو جانا اور اپنی جان صدقے کر دینا کہ تمہارے لیے ذریعہ سعادت ہوگی آپ اس کو پڑھتے ہی خوش ہو گئے اور اس نام کو لے کر خدمت سیدنا حسینؓ میں پہنچے اور عرض کی چچا جان اب تک اگر اجازت نہ دی تھی تو اب آپؓ کو اجازت دینی ہی پڑے گی یہ نامہ ملاحظہ فرمائیں سیدنا حسینؓ نے نامہ ہاتھ میں لیا تو دیکھتے ہی اپنے بھائی حسن کو یاد کر کے رونے لگے مضمون پڑھ کر فرمانے لگے اچھا بیٹا قاسم اب تم ضرور وصیت پر عمل کرو گے مگر ذرا ٹھہرو ایک وصیت مجھے یاد ہے اس کی تعمیل اب تک نہ کر سکا ہوں چنانچہ آپ قاسم کو لے کر خیمہ میں تشریف لائے اور جامہ عروسی زیب تن کرایا اور اپنی صاحبزادی کا عقد ان سے فرمایا اور پھر فرمایا بیٹا یہ تمہارے باپ کی امانت تمہارے سپرد ہے یہ کہہ کر باہر تشریف لائے قاسم دلہن کا ہاتھ تھامے ان کا منہ تکتے رہے کہ تھوڑی دیر میں لشکر سعد سے مبازر طلبی ہوئی آپ نے ہاتھ چھوڑ کر عزم میدان فرمایا دلہن نے دامن تھام لیا اور عرض کی۔

بگو کز زمین چرا می روی 

مرا می گزاری چرامی روی

(یعنی میرے قریب سے جا رہے ہو اور مجھے یہیں چھوڑ رہے ہو کیوں؟) 

سیدنا قاسم نے فرمایا اے نور دیدہ عم مکرم میدان کار زار میں جا رہا ہوں اور تمہارے باپ پر فدا ہو کر عنقریب آرہا ہوں تمہارے میرے رشتے کا لطف قیامت کے دن آئے گا دلہن نے عرض کی قیامت کے دن آپ مجھے کہاں ملیں گے آپ نے فرمایا تمہارے باپ دادا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اپنی آستین کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر دیا کہ اس طرح وہاں میری آستین بریدہ دیکھنا اس کے بعد قاسم کی روانگی کے صدمہ نے اہلِ بیت حرم کو بے تاب کر دیا اس طرح رو رو کر سب کہنے لگے قاسما ایں چہ ظلم و بیدا دلیست ایں نہ آئین و رسم و دامادی است۔

 ( اے قاسم یہ کیسا ظلم ہے یہ قاعدہ اور رسمِ دامادی نہیں ہے)

(اوراقِ غم صفحہ 249-250 مطبوعہ رضوی کتب خانہ سرکلر روڈ اردو بازار لاہور) 

اوراقِ غم کی عبارت کا جائزہ: مصنف مرحوم نے سیدنا حسنؓ کے صاحبزادے کی شادی کا ذکر کیا اور ان کی دلہن سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی کو بنایا ہم گزشتہ اوراق میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کی صرف دو صاحبزادیاں تھیں سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ سیدہ فاطمہ کی شادی سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ سے اور سیدہ سکینہ کی شادی انہی کے فرزند سیدنا عبید اللہ سے واقعہ کربلا سے پہلے ہی ہوچکی تھی قابل غور یہ بات ہے کہ تیسری صاحبزادی کہاں سے آ گئی کہ جس کا نکاح میدانِ کربلا میں پڑھا جا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ قصہ از اول تا آخر من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے سنی تو سنی شیعہ بھی اسے تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس شادی کی وہ بھی سخت تردید کرتے ہیں پھر اس واقعہ میں استعمالی کلمات تو دیکھیں کہ سیدنا حسینؓ جامۂ عروسی وہ مدینہ منورہ سے ساتھ لے کر آئے تھے ایسی شادی کا کیا فائدہ کہ جس کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے اور قیامت کے وعدے پر بات ختم ہو گئی یہ واقعہ سراسر اخترالی ہے جو رُونے رُلانے کے لیے گھڑا گیا ہے مشہور شیعہ مؤرخ صاحب ناسخ التواریخ اس واقعہ کے بارے میں لکھتا ہے۔

صفحہ 1 از 7